اپوزیشن کا نیب چیئرمین کی توسیع نہ تسلیم کرنے کا فیصلہ

اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نیب کے متنازعہ ترین چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کو توسیع دینے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب نیب کی قانونی حیثیت بھی ختم ہوگئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا موقف تھا کہ چیئرمین نیب کے عہدے کی مدت میں ایک مخصوص آرڈیننس کے ذریعے توسیع کر کے حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ نیب کٹھ پتلی چیئرمین کو مستقبل میں بھی اپوزیشن کے خلاف اپنا انتقامی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرتی رہے گی۔
یاد رہے کہ 5 اکتوبر کو کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ حکومت انئے چیئرمین کی تعیناتی تک جسٹس (ر) جاوید اقبال کی اس عہدے پر توسیع کے لیے ایک آرڈینس نافذ کرے گی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف انہیں وزیر اعظم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کرپشن کیسز پر کوئی کارروائی نہ کرنے اور عمران کے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے ایجنڈے کو پورا کرنے پر انہیں انعام دینا چاہتی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ احتساب قانون میں چیئرمین نیب کے تقرر کا عمل واضح طور پر موجود ہے جس کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اپوزیشن لیڈر کا دفتر آئینی دفتر ہے اس لیے شہباز شریف سے مشاورت کرنے سے انکار کر کے وزیر اعظم آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) میں اندرونی مشاورت جاری تھی اور وہ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے باضابطہ اعلان کے منتظر تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اپنی مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے آرڈیننس کا مسودہ اور زبان دیکھنے کے بعد مزید مشاورت کرے گی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع نہیں بلکہ آٹا، چینی، بجلی، گیس اور ادویات چوروں اور ان کے اے ٹی ایمز کے لیے عمران خان کا این آر او ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیئرمین نیب کی ملازمت میں توسیع دراصل چوروں کے سرغنہ عمران خان اور ان کے مافیا کے لیے تحفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس توسیع کے ساتھ عمران خان اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ مالم جبہ، بلین ٹری سونامی، ہیلی کاپٹر کیس اور بی آر ٹی پشاور پروجیکٹ میں ان کی چوری کو چھپایا جائے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے بھی چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع کے حکومتی اقدام پر تنقید کی اور کہا کہ حکومت بدنیتی پر مشتمل ارادے کے تحت ایک فرد سے مخصوص آرڈیننس لارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت جن اصلاحات کے بارے میں بات کر رہی ہے وہ درحقیقت غلط ارادے پر مبنی ایک آرڈیننس ہے، اصلاحات مستقبل کے لیے کی جاتی ہیں جبکہ یہ آرڈیننس ایک شخص کو بچانے کے لیے جاری کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چیئرمین نیب 8 اکتوبر کو اپنی مدت پوری ہونے کے بعد کس طرح کام جاری رکھ سکتے ہیں؟
پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ اگر حکومت نے مشاورت کی ہوتی تو متنازع آرڈیننس کے اجرا کی ضرورت نہ ہوتی، حکومت کو پارلیمنٹ میں قانون لا کر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ’مشکوک‘ آرڈیننس پیش کرکے حکومت سارے ملک کو بتا رہی ہے کہ چیئرمین نیب اس کا کٹھ پتلی ہے اور وہ اپنا اپوزیشن مخالف ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے اسکو عہدے میں توسیع دے رہی ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ حکومت کا یہ غیر آئینی اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔
