عمر شریف اپنے آخری دنوں میں روحانی ہو چکے تھے

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ شہنشاہ کامیڈی کہلانے والے عمر شریف اپنی زندگی کے آخری برسوں میں روحانیت سے کافی قریب ہوگئے تھے جسکے بعد انہوں نے روحانیت پر کئی کتابیں تحریر کیں جن میں سے ایک ‘فبای آلاء ربکما تکذبان، کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اپنے آخری انٹرویو میں بھی عمر شریف نے روتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اگر کسی چیز سے ڈر لگتا ہے تو وہ قبر کا عذاب ہے، لہازا دعا کیجیے کہ اللہ تعالی مجھے قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔
عمر شریف صرف ایک ورسٹائل اداکار اور کامیڈین ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے بطور میزبان، فلم ساز، ہدایت کار، شاعر، موسیقار، کہانی نویس اور مصور بھی اپنے فن کا لوہا خوب منوایا۔ عمر زندگی بھر تھیٹر سے ہٹ کر خود کو دوسری جہتوں میں دریافت کرنے کی سعی کرتے رہے۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ روحانیت سے کافی قریب ہوگئے تھے اور لکھنے پڑھنے سے بہت شغف بڑھ گیا تھا۔ انہوں نے 5 کتابیں بھی لکھیں جو شائع تو ہوگئیں لیکن ان کی رونمائی ہونا باقی تھی۔ ان کتابوں میں پہلی کتاب ‘فبای آلاء ربکما تکذبان’ ہے جو روحانیت کے موضوع پر ان کی پہلی تصنیف تھی۔ دوسری کتاب ان کے ڈراموں اور تیسری کتاب ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ انکی چوتھی کتاب ایک شعری مجموعہ کلام ہے اور پانچویں کتاب مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ عمر شریف کو مصوری سے بھی ہلکا پھلکا شغف تھا اور آنے والے دنوں میں وہ ایک اور نئی فلم بنانا چاہ رہے تھے جس کی موسیقی بھی انہوں نے خود ترتیب دی تھی۔ انہوں نے فلاحی کاموں کے لیے بھی خود کو وقف کر رکھا تھا۔
یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ سٹینڈ اپ کامیڈی’ اور ‘مزاحیہ اداکاری’ کی تاریخ ‘عمر شریف’ کے بغیر ادھوری ہے۔ پاکستان میں 80ء اور 90ء کی دہائی سے شروع ہونے والے اسٹیج ڈراموں کے ذریعے اس طرز کی کامیڈی کا آغاز ہوا جبکہ اس نوعیت کی کامیڈی کے تانے بانے پاکستانی فلمی صنعت کی مزاحیہ اداکاری سے جا ملتے ہیں۔دھیرے دھیرے یہ مزاح کا میڈیم، ریڈیو، فلم اور ٹیلی وژن کے لیے لازم و ملزوم ہوگیا لیکن پاکستان میں اسٹیج ڈراموں کے ذریعے جس انوکھی طرز کی کامیڈی تخلیق کی گئی اس نے مزاح گوئی کا سارا منظرنامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ سٹیج کامیڈی باقاعدہ ایک میڈیم بن گیا اور جب انٹرنیٹ کا دور نہیں تھا، تب ان اسٹیج ڈراموں کے آڈیو اور ویڈیو کیسٹس دنیا بھر میں پہنچے اور پاکستانی مزاح گو فنکاروں کی صلاحیتوں کا لوہا مان لیا گیا۔
پاکستان کے ان مزاحیہ اداکاروں کی اکثریت ایسی تھی جن کی تشہیر میں پاکستان ٹیلی وژن کا کوئی کردار نہیں اور انہوں نے اپنے بل بوتے پر کامیڈی میڈیم کے ذریعے اسٹیج کے کرداروں کی مدد سے اپنی دنیا آپ پیدا کی، انہی میں سے ایک عمر شریف بھی تھے۔ پاکستانی منظرنامے پر ہمیں شوکی خان، مستانہ، ببو برال، سکندر صنم، لیاقت سولجر اور دیگر بہت سارے اسٹیج کے فنکار دکھائی دیتے ہیں، سٹیج کے لیے ان لوگون کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے مگر جب وہ رخصت ہوئے تو ان کے پاس ترکے میں صرف کسمپرسی اور بے سرو سامانی تھی۔ اس اعتبار سے عمر شریف خوش قسمت رہے کہ جن کو زندگی کے آخری دنوں میں بے پناہ توجہ ملی اور ان کو علاج کی غرض سے بیرون ملک بھی لے جایا گیا، وگرنہ اکثر فنکاروں کی زندگی کا اختتام دُکھ بھرا ہوا ۔ وہ جو ساری زندگی مسکراہٹوں کے سفیر رہے ان کو زندگی کے آخری دنوں میں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہ آئیں۔
پاکستانی فلمی صنعت سے منور ظریف، رنگیلا، ننھا، اور لہری جیسے فنکاروں نے مزاح گوئی کی روایت کو مضبوط کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح ٹیلی وژن کی اسکرین پر معین اختر، جمشید انصاری، اطہر شاہ خان جیدی، دردانہ بٹ وغیرہ نے جس طرح کی کامیڈی کے لیے فضا بنائی اس نے بھی اس روایت کو پاکستان میں مزید مضبوط کیا، مگر یہ نابغہ روزگار لوگ خاموشی سے پس منظر میں چلے گئے۔ عمر شریف خوش قسمت رہے کہ انکے حصے میں بے پناہ توجہ اور چاہت آئی، وہ ایک ایسے فنکار تھے جن کا اسٹیج کی دنیا سے فلم کے پردے تک، مزاح کے میڈیم میں خدمات کا اعتراف کیا گیا اور وہ بھی اپنے روحانی استاد منور ظریف کی طرح اپنے دور مخں دنیائے کامیڈی کے شہنشاہ کہلائے۔
عمر شریف بتایا کرتے تھے کہ ان کی بدنصیبی رہی کہ وہ زندگی میں منور ظریف سے ملاقات نہ کر سکے۔ عمر کی منور ظریف سے عقیدت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار کراچی سے لاہور آئے تو داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری دینے کے بعد سیدھے ٹیگور پارک میں منور ظریف کے گھر گئے اور گھر کی دیواریں چومتے رہے۔ بکرا قسطوں پہ’ عمر شریف کا وہ ڈراما تھا جس کی وجہ سے وہ عالمگیر شہرت کے حامل ہوئے۔ اس ڈرامے کے 5 حصے بنائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ ڈراما حادثاتی طور پر لکھا کیونکہ ان کا وہ ڈراما جس کو اسٹیج ہونا تھا عین وقت پر پابندی کا شکار ہوگیا۔ انکے پاس صرف 2 دن کی مہلت تھی، جس میں انہوں نے یہ ڈراما لکھا اور اس میں پرفارم بھی کیا۔ اسی ڈرامے کی تھیم میں سے ان کا ایک اور مشہورِ زمانہ ڈراما نکلا جس کا نام ‘بڈھا گھر پہ ہے’ تھا۔ عمر شریف چونکہ فلموں سے ہمیشہ متاثر تھے اس لیے فلمی صنعت کا رُخ بھی کیا اور فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں کام بھی کیا۔ اس تناظر میں ان کی مقبول فلم ‘مسٹر 420’ ہے۔پاکستان ٹیلی وژن سے ان کا واسطہ کم رہا، جس کی ایک وجہ ان کے نزدیک ساتھی اداکاروں کا پیشہ ورانہ حسد تھا، جنہوں نے ان کو کام کرنے کے مواقع نہیں ملنے دیے۔ البتہ آگے چل کر عمر شریف نے مختلف نجی ٹیلی وژن آجانے کے بعد کئی ٹاک شوز تو کیے لیکن ٹیلی وژن پر اداکاری سے فاصلہ ہی رکھا۔
عمر شریف زندگی کے آخری دنوں میں بہت بیمار رہے اور ان کی رحلت کے حوالے سے جھوٹی خبروں اور افواہوں کا بازار بھی گرم رہا۔ انہی دنوں میں ان کے گھریلو جھگڑوں کی بازگشت بھی عدالت میں سنائی دی، وجہ تنازع جائیداد تھی۔ عمر نے تین شادیاں کیں، ان کی بیگمات کے نام دیبا عمر، شکیلہ قریشی اور زرین غزل ہیں، صرف پہلی بیگم سے ان کے 2 بیٹے ہیں، انہی سے ایک بیٹی تھی جنکا گردے کے ٹرانسپلانٹ کے دوران انتقال ایک برس پہلے ہوا تھا۔ عمر شریف کو اپنی بیٹی کے انتقال کا بے حد صدمہ ہوا تھا جس کے بعد ان کی صحت گرنا شروع ہوگی۔
ان کے ایک قریبی دوست اور ساتھی اداکار شرافت علی شاہ کا کہنا ہے کہ ‘عمر شریف کی بیماری کے پیچھے اصل وجہ ذہنی دباؤ تھی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ کام کو بھی اپنے اوپر حاوی رکھا اور پھر نجی زندگی کے مسائل نے بھی ان کو اپنی گرفت میں لیے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کئی برسوں کے بعد 2019ء میں دوبارہ تھیٹر کی طرف لوٹے اور کراچی میں ‘واہ واہ عمر شریف’ پیش کیا گیا تو وہ تنقید کا شکار ہوا۔ اس کی کئی وجوہات میں سے ایک وجہ عمر شریف کی ناساز طبیعت تھی۔ ان تمام مسائل کے باوجود وہ ثابت قدم رہے اور خود کو دریافت کرنے کی سعی میں مگن نظر آئے۔
