اگر طالبان اتنے ہی اچھے ہیں تو آپ بھی افغانستان جائیں

افغانستان میں ایک آئیڈیل حکومت قائم ہو چکی ہے، اِس حکومت میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں جیسی خصوصیات کے حامل صالحین ہیں، جذبہ ایمانی کی ان میں کمی نہیں، اصولاً تو ایسے گروہ کا غلبہ زیادہ سے زیادہ دو برس میں پوری دنیا میں ہو جانا چاہئے۔چنانچہ اگر کوئی پاکستانی صدق دل سے یہ سمجھتا ہے کہ افغان طالبان اللہ تعالی کے سپاہی ہیں اور محض جذبۂ ایمانی کے بل بوتے پر امریکہ جیسی بڑی کفر کی طاقت کو شکست دی کر اب افغانستان میں اللہ کا نظام نافذ کریں گے تو اسے چاہئے کہ فوراً بوریا بستر باندھے اور بال بچوں سمیت افغانستان منتقل ہو جائے۔
معروف لکھاری اور کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ اِس بات کو طعنہ ہر گز نہ سمجھا جائے کیونکہ ہم میں سے وہ لوگ جو مغربی ممالک کے نظام سے متاثر ہیں اور وہاں کے سسٹم پر رشک کرتے ہیں، اُن کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح اُن ممالک کی شہریت حاصل کر لی جائے۔ بطور ثبوت اُن درخواستوں کی تعداد ہی کافی ہے جو کہ روزانہ ہم پاکستانی غیر ملکی سفارت خانوں میں جمع کرواتے ہیں اور پھر جس کی درخواست منظور ہو جاتی ہے وہ خوشی کے شادیانے بجاتا ہوا بیوی بچوں کو لے کر امریکہ یا کینیڈا سیٹل ہو جاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے پورے کنبے کا ویزہ لگنا ممکن نہ ہو تو پھر کم ازکم بچوں کی پڑھائی کا بندوبست تو ضرور مغربی ممالک میں کیا جاتا ہے، چاہے اِس کے لئے اپنا پیٹ ہی کیوں نہ کاٹنا پڑے۔ لہازااب یہ دلیل افغانستان کے معاملے میں کیوں نہ دی جائے؟
معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی کے صاحبزادے یاسر پیرزادہ لکھتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی مثال ہمارے سامنے ہے، اُس نے اپنے نظریے کے مطابق جو درست سمجھا نتائج سے بےپروا ہو کر اُس پر عمل کیا۔ اور اب تو افغانستان میں کوئی امریکی بھی نہیں جو کسی کو بگرام جیل میں بند کر دیں گے، اللہ کا نام لیں اور کابل جا کر اُس اسلامی حکومت کا حصہ بنیں جس کا آپ کو گزشتہ 20 برس سے انتظار تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ کسی ملک میں انقلاب کی حمایت کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہاں نقل مکانی ہی کرلی جائے، اپنے ملک میں رہ کر بھی اسی قسم کے انقلاب کے لئے جدو جہد کی جا سکتی ہے مگر 22 کروڑ میں سے کوئی ایک اللہ کا بندہ تو افغانستان کی امیگریشن لے۔ آخر ہچکچاہٹ کس بات کی ہے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اِس ملک کے بائیس کروڑ عوام میں سے ایک بھی شخص افغانستان منتقل نہیں ہوگا۔ وہ لوگ جو اِس فتح پر جشن منا رہے ہیں، انہیں بھی دل میں اچھی طرح علم ہے کہ اگر وہ افغانستان گئے تو خود اُن کے بیوی بچوں کے ساتھ وہاں کیا سلوک ہوگا مگر وہ یہ بات منہ سے کبھی نہیں کہیں گے کیونکہ جونہی یہ بات انہوں نے زبان سے نکالی، اسی لمحے اُن کے کھوکھلے نظریات کی عمارت دھڑام سے نیچے آ گرے گی۔ اپنے خوابوں کا جو تاج محل انہوں نے تعمیر کیا ہے وہ زمین بوس ہو جائے گا، جس بیانیے کی حمایت میں وہ ہلکان ہوئے جا رہے ہیں اُس کے تضادات سامنے آ جائیں گے لہٰذا وہ اِس بات کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا مغربی تہذیب کے دلدادہ تمام لوگ مغربی ممالک میں جا بسے ہیں؟
یاسر پیرزادہ کے مطابق اِس کا جواب یہ ہے کہ جس کا بس چلتا ہے وہ بالکل وہاں چلا جاتا ہے، مغربی ممالک ہمیں اپنی شہریت دینے کے لئے آوازیں نہیں لگاتے، وہ شہریت بڑے کڑے مراحل سے گزر کر ملتی ہے، افغانستان میں تو ایسی کوئی شرط نہیں، ویسے بھی مسلم امہ ایک ہے، سرحدوں کا تصور تو مغربی ہے، طالبان تو اسے مانتے ہی نہیں۔ ایک غلط بحث یہ بھی ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان دو بالکل مختلف گروہ ہیں، دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں جو کارروائیاں کیں وہ دراصل افغانستا ن کی ایجنسی ’این ڈی ایس‘ اور بھارتی ایجنسی ’را‘ کے ساتھ مل کر کیں۔ یقیناً اِس بات میں کچھ صداقت ضرور ہوگی کیونکہ جب اپنا گھر ٹھیک نہ ہو تو دشمن ضرور فائدہ اٹھاتا ہے مگر ہم یہ بات کیسے بھول گئے کہ چند سال پہلے تک اسی ٹی ٹی پی کی حمایت میں کس کس طرح کی تاویلیں گھڑی جاتی تھیں، انہیں ’اپنے لوگ‘ کہا جاتا تھا، اُن سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں پر طعنہ زنی کی جاتی تھی، پاکستان میں ٹی ٹی پی کے گروہوں میں جب کوئی جھگڑا ہوتا تھا تو اُس کا تصفیہ افغان طالبان کرتے تھے، آج کی تاریخ تک افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے کسی اقدام سے اعلان برات نہیں کیا، ان دونوں میں کوئی جوہری فرق نہیں، دونوں کی آئیڈیالوجی ایک ہے، وہ دونوں خود کو ایک دوسرے سے الگ نہیں سمجھتے مگر ہم بضد ہیں کہ انہیں الگ سمجھا جائے۔ حالانکہ پہلا قدم جو افغان طالبان نے اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ سابقہ افغان حکومت کی جیل سے قیدیوں کو رہا کیا ہے جن میں ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والی مولوی فقیر محمد جیسے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے۔ کیا اِس بات کا ہم جشن منائیں؟
یاسر پیرزادہ کے مطابق یہ بات درست ہے کہ بھارت کو افغانستان میں ذلت اٹھانی پڑی ہے، اُس کے تمام قونصل خانے جو پاکستان کے خلاف متحرک تھے، بند ہو گئے ہیں مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کی حکومت میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے یا نہیں اور اِس کا لٹمس ٹیسٹ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر قسم کی دہشت گردی ختم ہو جائے، بلوچستان میں شدت پسند گروہ دم توڑ دیں اور یہاں کی کالعدم تنظیموں کو افغانستان میں سر چھپانے کے لئے جگہ نہ ملے۔ اگلے سال چھ ماہ میں یہ بات واضح ہو جائے گی۔ لیکن ایک آخری سوال اور بھی ہے۔ افغانستان میں ایک آئیڈیل حکومت قائم ہو چکی ہے، اِس حکومت میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں جیسی خصوصیات کے حامل صالحین ہیں، جذبہ ایمانی کی ان میں کمی نہیں، اصولاً تو ایسے گروہ کا غلبہ زیادہ سے زیادہ دو برس میں پوری دنیا میں ہو جانا چاہئے یا کم ازکم افغانستان کی حد تک ایک ایسی ماڈل ریاست قائم ہو جانی چاہئے جس کی نقل کرکے تمام اسلامی ممالک دنیا پر غلبہ حاصل کرلیں۔ بقول یاسر پیرزادہ پوچھنا یہ تھا کہ اگر اب بھی یہ کام نہ ہوا تو پھر ہم نے کس ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنا ہے، ذرا بتا دیں، ایسا نہ ہو جشن منانے میں غلطی ہو جائے.
