ایرانی میزائل حملوں کا قبل از وقت پتہ چل گیا تھا

امریکہ میں وائٹ ہاؤس اور دفاعی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حملے سے پہلے ہی پتہ چل گیا کہ ایرانی میزائل عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔گزشتہ روز ایران نے سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر 20میزائل فائر کیے تھے اور ان حملوں میں 80امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔تاہم اس کے برعکس امریکا نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملوں میں امریکی فوج کا کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور امریکی آفیشلز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حملوں کے بارے میں قبل از وقت ہی پتہ چل گیا تھا۔
اس حوالے سے حکام نے دعویٰ کیا کہ انہیں خفیہ ذرائع کے ساتھ ساتھ عراق میں مواصلاتی نظام سے اس حملے کی وارننگ مل گئی تھی۔ایک سینئر انتظامی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم جانتے تھے اور عراق نے ہمیں حملوں سے کئی گھنٹوں قبل ہی اس حوالے سے خبردار کردیا تھا، ہمیں کئی گھنٹوں قبل ہی خفیہ اطلاعات موصول ہو گئی تھیں کہ ایران ہمارے اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایک اور سینئر دفاعی عہدیدار نے معلومات کی فراہمی میں عراق کے کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر عراقیوں نے معلومات فراہم کی تھیں تو یہ کئی گھنٹے قبل ممکن نہیں تھا۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ حملے سے قبل کچھ دستے مغربی عراق میں واقع الاسد فوجی اڈے سے نکل گئے تھے۔
ایک اور سینئر دفاعی عہدیدار نے کہا کہ یہ محض خوش قسمتی نہیں کہ کوئی حملے میں ہلاک نہیں ہوا، قسمت کا ہمیشہ اہم کردار ہوتا ہے لیکن فوجی محاذ پر موجود کمانڈرز نے حملے کا اندازہ لگاتے ہوئے بہترین فیصلہ کیا۔
حملے کے بعد اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی قبل از وقت ملنے والی وارننگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی بدولت کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ایک دفاعی عہدیدار کے مطابق امریکی صدر ریڈار نیٹ ورک کی جانب اشارہ کر رہے تھے جو امریکی فوج نے دشمنوں کے میزائلوں کی نشاندہی کے لیے نصب کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button