ایران نے قاسم سلیمانی کی جاسوسی کرنے والے مخبر کو سزائے موت دے دی

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی جاسوسی کرنے والے مخبر کو سزائے موت دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ موسوی ماجد امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی انٹیلی جنس سے رابطے میں تھا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ موسوی ماجد نے سکیورٹی حکام، مسلح افواج اور بالخصوص جنرل قاسم سلیمانی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات سی آئی اے اور موساد کو فراہم کی تھیں۔
ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے موسوی ماجد کی سزائے موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کو عدالت انصاف نے سزا سنائی جس پر پیر کے روز عملدرآمد کیا گیا۔ غلام حسین اسماعیلی کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ موسوی ماجد نے عراق میں داعش کے خلاف جنگ لڑنے والے قدس فوج کے کمانڈر کے ٹھکانے کا راز افشا کیا تھا۔
یاد رہےقاسم سلیمانی ایرانی میجر جنرل تھے۔ جو امریکی فوج کے ہاتھوں 3 جنوری 2020 کو ہلاک ہو جانے تک سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بازو قدس فورس کے سپہ سالار اعلی کے عہدے پر فائز تھے۔ایران عراق جنگ کے دوران وہ لشکر 41 ثاراللہ کرمان کی قیادت کر رہے تھے۔ وہ 24 جنوری 2011 کو میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سید علی خامنه‌ای، رهبر جمہوری اسلامی ایران نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں شہید زندہ کا خطاب دیا۔
اور بعد از مرگ انہیں لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاک کے بعد ایران اور امریکا میں حالات کشیدہ ہو گئے جس کے بعد خطے میں جنگ کے خطرات بڑھ گئے تھے۔ جس کے بعد امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر القدس فورس کے نئے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے امریکیوں کو قتل کیا تو ان کا حال بھی جنرل قاسم سلیمانی جیسا ہو گا۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے جنرل اسماعیل قاآنی کو القدس فورس کا نیا کمانڈر جنرل مقرر کیا جنہوں نے اپنے پیش رو قاسم سلیمانی کی پالیسوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button