SECP کے جوائنٹ ڈائریکٹر کے اغوا کے پیچھے کون ہے؟


ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے خاندانی کاروبار کے بارے میں معلومات افشاء کرنے کے شبہ میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان یعنی ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کو اسلام آباد سے اغواء کر لیا گیا ہے۔ ساجد گوندل کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 3 ستمبر سے گھر واپس نہیں آئے اور اُن کی گاڑی شہزاد ٹاون مین واقع محکمہ زراعت کے تحقیقاتی مرکز کے قریب کھڑی ملی ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ساجد گوندل کی گاڑی کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے، اور کیس کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ساجد گوندل کے اہل خانہ کی درخواست پر تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی اور کاروباری اداروں کے نگراں ادارے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل کے حوالے سے ابھی تک کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن حاکم نیازی کے مطابق جمعے کی صبح ساڑھے گیارہ بجے ایمرجنسی سروس 15 کی کال کے بعد ہم نے موقع پر پہنچ کر گاڑی قبضے میں لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی این اے آر سی کے دفتر کے باہر سڑک کنارے کھڑی تھی اور گاڑی کھلی ہوئی تھی جبکہ چابی اس میں ہی موجود تھی۔
ساجد گوندل کے اہل خانہ کے مطابق انھوں نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دے دی ہے اور وہ گمشدگی کی درخواست دینے کے لیے پولیس سے رابطے میں ہیں۔ ساجد گوندل کی اہلیہ کے مطابق ان کے شوہر دو تین دن سے دباؤ اور پریشانی کا شکار تھے تاہم انھوں نے پوچھنے کے باوجود تفصیلات نہیں بتائیں کہ آخر انھیں پریشانی تھی کیا۔ ان کے مطابق جمعرات کی شام ساجد گوندل اپنے فارم ہاؤس پر گئے تھے اور انھیں شام ساڑھے سات بجے کے بعد اپنے شوہر کی گمشدگی کا علم ہوا۔ ساجد گوندل کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ گمشدگی سے ایک دن قبل کچھ لوگ شام کو ان کے گھر پر ساجد گوندل کا پتہ کرنے آئے تھے جس پر ان کے بیٹے نے انھیں فارم ہاؤس کا پتا بتا دیا تھا۔
صحافتی حلقوں کے مطابق سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے عہدیدار ساجد گوندل کو اغوا کیا گیا ہے ، سینئر صحافی ارشد شریف نے سیکیورٹی اداروں کو کارروائی کرتے ہوئے مغوی کو بازیاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے . سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ارشد شریف نے لکھا ہے کہ ایس ای سی پی کے عہدیدار ساجد گوندل کو اغوا کرلیا گیا ہے جن کی گاڑی اسلام آباد میں نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے قریب کھڑی ملی ہے ، کیا متعلقہ اتھارٹیز اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے مغوی کو بازیاب کرنے کیلئے کوششیں کریں گی۔ واضح رہے کہ قبل ازیں ایک اور صحافی اسد ملک نے بھی بتایا تھا کہ ذرائع کے مطابق ہائی پروفائل شخصیت کے کاروبار سے متعلق کسی صحافی سے رابطے کے شبہ میں نامعلوم افراد نے ساجد گوندل کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا۔
دوسری طرف ایس ای سی پی کے چیئرمین عامر خان کا کہنا ہے کہ انھیں ابھی اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملی ہے اور فی الحال وہ اس پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتے۔
ساجد گوندل کی گمشدگی کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس بارے میں بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا اورجہاں اسے جبری گمشدگی کے واقعات سے جوڑا جارہا ہے وہیں کئی لوگ اس واقعے کا تعلق صحافی احمد نورانی کے اس رپورٹ سے بھی جوڑ رہے ہیں جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ ایک اعلی حکومتی شخصیت نے عید کے روز سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دفاتر کھلوا کر چند کمپنیزکے ڈیٹا میں ردوبدل کیا۔ یاد رہے کہ احمد نورانی کی خبر میں فراہم کی جانے والی بہت سی معلومات ایس ای سی پی سے حاصل ہونے والی دستاویزات کی بنیاد پر ہی فراہم کی گئیں۔ تاہم نورانی کے مطابق ساجد گوندل اُن کی اس خبر کا ذریعہ نہیں تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فیکٹ فوکس ویب سائٹ اس بارے میں جلد ہی ایک تفصیلی بیان بھی جاری کرے گی۔
واضح رہے کہ ساجد گوندل اس سے قبل ایک نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر بھی رہ چکے ہیں جنہوں نے صحافت چھوڑ کر ایس ای سی پی میں چند برس قبل ملازمت اختیار کی تھی۔ حال ہی میں ایک اور سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو بھی اس وقت اغواء کیا گیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ کو انکے سکول چھوڑنے گئے تھے جہاں وہ تعلیم دیتی ہیں ، صحافی کو چند افراد نے سکول کے باہر سے اغواء کرلیا گیا تھا جو کہ بعد ازاں بازیاب ہوچکے تھے لیکن تاحال یہ پتا نہیں چل سکا کہ انہیں کس نے اغواء کیا تھا اور اغواء کاروں کا مقصد کیا تھا؟اب سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر کو بھی نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button