ایف اے ٹی ایف کا 27واں مطالبہ کیا تھا جو پورا نہ ہوا؟


ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکوس پلیئر نے پیرس اجلاس کے خاتمے پر تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے انکی عائد کردہ 27 میں سے 26 شرائط پر عمل درآمد کیا تھا لیکن ستائیسویں شرط پر عمل نہیں ہوا جس وجہ سے پاکستان کو مزید ایک برس کے لیے گرے لسٹ میں ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ باقی ماندہ ایک آئٹم پر جلد از جلد عمل در آمدر کیا جائے تاکہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جا سکے۔ اس ایک آئٹم کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیٹف چاہتا ہے کہ پاکستان ثابت کرے کہ  دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز میں تحقیقات اور سزاؤں کا نشانہ اب اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد گروہوں کے ’سینیئر لیڈرز‘ اور ’کمانڈر‘ ہوں گے۔ یاد رہے کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف دہشت گردوں کی مالی معاونت پر کیسز بھی چل رہے ہیں اور انہیں سزائیں بھی سنائی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں جیل سے سے باہر رکھا جا رہا تھا جسکا انکشاف لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ کے باہر 23 جون کو ہونے والے بم دھماکے سے ہوا۔
اس سے پہلے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے 25 جون کو پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل کیا ہے، تاہم جب تک تمام نکات پر عمل نہ ہو اسکو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا سکتا۔ پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے پانچ روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں ادارے کے صدر مارکوس پلیئر نے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا۔
پاکستان کو طویل عرصے سے گرے لسٹ میں برقرار رکھے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہمارے اصول واضح ہیں، ان پر عمل نہ کر سکنے والوں کو لسٹ میں رہنا پڑے گا۔‘ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کے بعد اسے منی لانڈرنگ کا نیا ایکشن پلان دیا جا رہا ہے۔
مارکوس نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ باقی ماندہ ایک آئٹم پر جلد از جلد عمل در آمدر کیا جائے۔ اس آئٹم کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیٹف چاہتا ہے کہ پاکستان ثابت کرے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز میں تحقیقات اور سزاؤں کا نشانہ اب اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد دہشت گرد گروہوں کے ’سینیئر لیڈرز‘ اور ’کمانڈر‘ بن رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے اقوام متحدہ کے نامزد کردہ ایسے افراد کے خلاف قانون سازی بھی کر رکھی ہے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت ایسے کئی افراد کو عدالتوں نے سزائیں بھی سنائی ہیں۔حافظ سعید اس وقت مختلف مقدمات میں سزا بھگت رہے ہیں جن میں دہشت گردی سمیت دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات شامل ہیں۔
پاکستان نے حال ہی میں اس حوالے سے اسمبلی میں درجن کے قریب قوانین بھی منظور کیے ہیں اور متعدد اقدامات بھی کیے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے سربراہ نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی فنانسنگ کے خلاف کافی اقدامات کیے ہیں جس کے لیے وہ پاکستانی حکام کے شکر گزار ہیں۔’ تاہم فیتف کے خیال میں منی لانڈرنگ اب بھی ہو رہی ہے اور پاکستان کو اسکی تحقیقات کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
انسداد دہشت گردی کے ایکشن پلان کے ایک نکتے کے علاوہ پاکستان کو فیٹف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسیفک گروپ کے باہمی جائزے میں بھی چالیس سفارشات پر عمل کرنا تھا جس میں زیادہ تر کا تعلق منی لانڈرنگ سے تھا۔
اس حوالے سے پاکستان کو فیٹف کی طرف سے اب چھ نکاتی نیا ایکشن پلان دیا گیا ہے۔ اس پلان کے مطابق پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی خامیوں کو دور کرنا ہیں جو۔کچھ یوں ہیں:
منی لاندڑنگ قوانین میں ترمیم کرکے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
ثابت کیا جائے کہ اقوام متحدہ کے نامزد افراد کے خلاف بین الاقوامی تعاون لیا جا رہا ہے۔
ثابت کیا جائے کہ ملک میں غیر مالیاتی کاروبار اور پروفیشنل افراد جیسے رئیل سٹیٹ ایجنٹس، جوہرات کے ڈیلرز، وکلا، اکاونٹنٹس اور دوسرے پیشہ ور افراد کے حوالے سے لاحق خطرات کا جائزہ لینے کے لیےان افراد کی نگرانی اور ان کے خلاف ایکشن کا طریق کار موجود ہے۔
بے نامی جائیدادوں وغیرہ کے خاتمے کے لیے ایسے افراد کے خلاف کاروائی کا نظام وضع کیا جائے۔
منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات ان کے اثاثے ضبط کرنے اور سزائیں دینے کے عمل میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔
غیر مالیاتی کاروبار اور پروفیشنل افراد کی نگرانی کرتے ہوئے یقینی بنایا جائے کہ وہ ایٹمی مواد کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے قواعد پر عمل کر رہے ہیں اور جو ایسا نہ کریں ان کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں۔
تاہم پاکستان کے لیے مشکل یہ ہے کہ ان شرائط پر فوری عمل درآمد بھی ہو جائے تو بھی پاکستان کو مذید ایک برس تک گرے لسٹ میں برقرار رکھا جائے گا جس سے اسے ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

Back to top button