ایف بی آر نے ٹیکس چوری کے خلاف عوام سے مدد مانگ لی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ٹیکس چوروں کے خلاف مخبروں کی خدمات طلب کرتے ہوئے، مخبر کو درست معلومات دینے پر بھاری انعام بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ سے زائد کرایہ لینے، دینےوالوں کی نگرانی کا بھی فیصلہ۔
تفصیلات کے مطابق ملتان سمیت ملک بھر میں انکم ٹیکس آرڈنینس 2001ء کی سیکشن 237، سینسر ایکٹ 1990 کی شق 50 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت وسل بلورز مخبر کو ان لینڈ ریونیو آفس، ڈائریکٹریٹس، جنرل کمشنر ٹیس اور ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر کے مجاز افسران کودی گئی مخبری درست ثابت ہونے پر بھاری رقم کیش ایوارڈ دیا جائے گا۔ چوری شدہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی کا سبب بنیں گے، مخبروں کی رجسٹریشن ہوگی، ان کا نام خفیہ رکھا جائے گا، رجسٹریشن کےلیے سی این آئی سی، نیشنل ٹیکس نمبر درکار ہوں گے۔
ایف بی آر نے سال 2020ء میں نئے مخبروں کی خدمات حاصل کرلی ہیں، اس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا اور زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے۔
ادھر ایف بی آر نے کرایہ پر دی گئی پراپرٹی کے مالکان کے خلاف شکنجہ تیار کرلیا، ایک لاکھ سے زائد کرایہ لینے اور دینے والوں ٹیکس نیٹ میں لایا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملتان سمیت ملک بھر میں بڑی بڑی بلڈنگ، پلازہ جات، کمرشل جائیدادوں کا ایک لاکھ روپے سے زائد کرایہ لینے اور دینے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جارہا ہے۔
صوبائی حکومتوں (محکمہ ایکسائز) سے ایف بی آر نے کرایہ دار اور مالکان کی فہرستیں مانگ لی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button