بارودی سرنگوں والا پاکستان ہمیں ملا تھا

تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے بارودی سرنگوں والا پاکستان ہمیں ملا تھا،ہم نے آئی ایم ایف کے دباؤ کے باوجود پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں، انہوں نے ریکارڈ مہنگائی کردی، امپورٹڈ حکومت ابھی نرخ مزید بڑھائے گی۔

پی ٹی آئی کے مہنگائی کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں ہونیوالے احتجاج سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا ہم نے پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے 10 روپے کم کیے، بجلی فی یونٹ 5 روپے سستی کی، یہ کہتے ہیں عالمی مہنگائی ہے، عالمی مہنگائی تو پچھلی گرمیوں سے ہے، بارودی سرنگوں والا پاکستان تو ہمیں ملا تھا، ہم نے کورونا کے دوران اپنےعوام اور ملکی معیشت کو بچایا، اصل بارودی سرنگ تو بیرونی خسارہ ہوتا ہے، بیرونی خسارہ ڈالرز میں ہوتا ہے، یہ 20 ارب ڈالرز بیرونی خسارہ چھوڑ کرگئے تھے، فیٹف کے معاملے پر ہمارے دور میں بہت کام کیا گیا۔

انہوں نے کہاجدوجہد اور جہاد ہماری بہتری کیلئے ہوتا ہے، ظلم کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں تو اپنی بہتری کرتے ہیں، آگے مزید مہنگائی آنے والی ہے، موجودہ حکومت میں پٹرول، ڈیزل، بجلی اور آٹےکی قیمتیں بڑھ گئیں، ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے کسان متاثر ہوگا، کسان متاثر ہوگا تو فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ ہوگا، بجلی کے بل آنے پر پتہ چلے گا کہ کیا بم پھٹا ہے، ہم ڈھائی سال آئی ایم ایف پروگرام میں تھے، آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئےعوام پر بوجھ کم ڈالا، ہمارے دور میں پٹرول 12 روپے لٹر بڑھا تو مہنگائی مارچ کیا گیا، اشیا کی قیمتوں میں آگے مزید اضافہ ہوگا، آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے ہیلتھ کارڈ دیا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا نیوٹرلز کو بتایا تھا حکومت کو ہٹایا گیا تو ملک سنبھالا نہیں جائے گا، ان لوگوں کا مقصد ملک سنبھالنا نہیں کچھ اور تھا، خرم دستگیر نے پروگرام میں کہا کہ عمران خان رہ جاتے تو ہم سب نے جیل میں ہونا تھا، عدلیہ آزاد ہے، نیب نے ہمارے دور میں 480 ارب روپے اکٹھا کیا، ان کا مقصد این آر او 2 لینا تھا، مشرف نے ان کو این آراو ون دیا تھا، 95 فیصد کیسز ان کے اپنے ادوار کے بنے ہوئے ہیں، فیٹف کیلئے جب قانون پاس ہو رہا تھا ان لوگوں نے اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا

عمران خان نے کہا یہ امریکا کےغلام ہیں اس لیے روس سے سستا تیل لینے کی بات نہیں کرتے، این آراو 2 سے یہ قوم کا 1200 ارب روپے ہضم کر جائیں گے، یہ پاکستان کو سری لنکا جیسی صورتحال کی طرف لے کر جا رہے ہیں، عدم اعتماد جب ہوئی تو ڈالر 178 روپے تھا، آج 208 روپے کا ہوگیا ہے، مفتاح اسماعیل امریکی سفیر کے پاس پہنچ گئے ہیں کہ ہماری مدد کریں، ملک پر وہ چور اور ڈاکو مسلط ہیں جن کے پیسے باہر پڑے ہیں۔

قبل ازیں اسلام آباد میں سوشل میڈیا انفلوئنسرزسے خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھا رائیٹ ٹو پروٹیسٹ اور رائیٹ ٹو موومنٹ کو کوئی نہیں روک سکتا، تیاری کر لیں 10 جولائی سے پہلے کال دے سکتا ہوں۔

انہوں نے کہا موجودہ حکومت رجیم چینج سازش کا حصہ بنی، سازش تھی یا مداخلت اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ڈی جی آئی ایس پی آر یہ طے نہیں کر سکتے کہ سازش نہیں تھی،میں اس ملک کا وزیراعظم تھا میرے سامنے تحقیقات نہیں آئیں، جو اس سازش میں ملوث ہے وہ چاہتے ہیں خفیہ پیغام کو دبا دیا جائے، عدم اعتماد کے پیچھے مہنگائی کا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔

انکا کہنا تھاان کی اپنی حکومت میں قومی سلامتی کمیٹی نے ہمارا موقف تسلیم کیا، بد قسمتی سے پاکستان کے نامور ڈاکووں کو ملک پر مسلط کر دیا گیا، نیب میں ترامیم سے ایک ایک ڈاکو کو این آر او ملے گا، ان کے کیسز کی تحقیقات کرنے والے لوگ مر رہے ہیں،کوئی ہارٹ اٹیک سے مر رہا ہے کوئی خودکشی کر رہا ہے، مشتاق چینی والا رہ گیا اس کا اگلا نمبر ہے۔

عمران خان نے کہااگرآپ حکومت نہیں سنبھال سکتے تھے تو کیوں سازش کی؟ عوام اس وقت مہنگائی کے باعث غصے سے بھرے بیٹھے ہیں، روپے کی قدر میں کمی یا پیٹرول کی قیمت بڑھی تھی تو یہ مہنگائی مارچ لے کر پہنچ جاتے تھے، اب خود عوام پر مہنگائی کے بم پھینک رہے ہیں،پاکستان کو اصل مسئلہ ڈالرز کی کمی کا ہےاور اس وقت ملک میں 30 فیصد مہنگائی ہو چکی ہے،

سابق وزیر اعظم نے کہابلاول نے مارچ مہنگائی کے نام پر کیا اور وہاں سے نکلا کانپیں ٹانگتی ہیں، 25 مئی کو جس طرح پولیس نے تشدد کیا اس کی مثال نہیں ملتی، جیسی شیلنگ یہاں کی گئی وہ سارا منظر نامہ مقبوضہ کشمیر جیسا تھا
قبل ازیں پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں عمران خاننےاین اے 240 کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دینے اور نیا شیڈول جاری کرنے مطالبہ کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ این اے240 میں شفاف انتخاب کرانے میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی مایوس کن رہی ، 8 فیصد ٹرن آؤٹ عوام کا انتخابی عمل سے لاتعلقی کا اظہار ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہاالیکشن کمیشن نے ڈسکہ کا ضمنی انتخاب 40 فیصد ٹرن آؤٹ کے باوجود کالعدم قرار دیا، فیصلہ سازی میں دہرے معیارالیکشن کمیشن کے کردارپرسنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

واضح رہے کہ 16 جون کو کراچی کے حلقہ این اے 240 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے محمد ابوبکر نے میدان مار لیا، الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں پولنگ کا ٹرن اور 8.38 فیصد رہا، اس ضمنی انتخاب میں 25 امیدوار میدان میں تھے اور یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی، پی ٹی آئی نے اس الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

Back to top button