مرکز میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف زرداری نے دعویٰ کیا ہے مرکز میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی ۔

ایک انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلاول ہاؤس لاہور میں پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان نے آصف زرداری سے ملاقات کی ۔ اس موقع پرخطاب میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ مرکز میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہوگی، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو میں پاکستان میں 110 درجے کارکردگی کا مظاہرہ کروں گا،پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ملک کو درپیش تمام چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔

عمران خان کے سوشل میڈیا مینجرز ارب پتی کیسے بنے؟

سابق صدر نےپنجاب میں پارٹی کی سیاست کے حوالے سے اس تاثر کو ختم کیا کہ گلگت بلتستان اور پنجاب سے پیپلز پارٹی ختم ہوچکی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ بات سچ نہیں ہے، پیپلز پارٹی کو ’پاکستان کی بقا‘ کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دینی پڑی، میں پنجاب میں بذاتِ خود پارٹی کے معاملات دیکھ رہا ہوں اور یہاں پارٹی کی بحالی یقینی بناؤں گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط وفاقی اور پنجاب میں صوبائی حکومت کی 9 اتحادی جماعتوں میں سے ایک ہے، یہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے میں مدد کرے گی،تاہم انہوں نے پنجاب میں اگلے ماہ ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے معاہدے کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اگلے عام انتخابات لڑنے کا ذکر نہیں کیا۔

آصف زرداری نے کہا ہم پنجاب میں اپنی پارٹی کو مضبوط کریں گے اور صوبے میں ہمارا منصفانہ حصہ یقینی بنائیں گے،ایک زرداری سب پہ بھری کے نعروں کی گونج میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے مزید کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کا احترام کرتے ہیں اور مستقبل کے کسی بھی فیصلے میں ان سے مشاورت کریں گے۔

سابق صدر نے اعلان کیا کہ ’کارکنوں کے لیے بحریہ ٹاؤن تک پہنچنا بہت مشکل ہے، کیونکہ یہ مرکزی شہر سے بہت دور ہے، اس لیے میں نے ان کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھنے کے لیے گلبرگ (شہر کے مرکز) میں مکان لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے عمران خان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انوکھے لاڈلے‘ کی پالیسیاں ملک میں قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا باعث بنی ہیں۔پاکستان مسلم ن سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ (شریف) ہماری بات صرف اس وقت سنتے ہیں جب انہیں ہماری ضرورت ہو۔

اس ملاقات میں اسلم گل، فیصل میر، ثمینہ گھرکی، عزیز الرحمٰن چن، تنویر اشرف کائرہ اور فاروق سعید سمیت پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت بھی موجود تھی جہاں آصف زرداری نے اشرف بارا کو پارٹی میں خوش آمدید کہا۔سابق صدر بعد ازاں نوابشاہ روانہ ہوئے اور اگلے ہفتے ان کی واپسی متوقع ہے جب وہ پنجاب میں اپنی پارٹی کے حصے کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کے پنجاب چیپٹر نے آصف زرداری سے شکایت کی تھی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز صوبے میں اپنے قانون سازوں کو ان کا ‘متفقہ حصہ’ دینے سے گریزاں ہیں،پیپلز پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں 7 نشستیں ہیں اور مبینہ طور پر شریفوں نے انہیں 4 وزارتوں اور دو مشیروں کا وعدہ کیا تھا،پیپلز پارٹی خزانہ، مواصلات اور ورکس کے محکموں میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے حلقوں کا خیال ہے کہ ایسی اہم وزارتیں پارٹی کے اندر ہی رہنی چاہئیں،حمزہ شہباز کی موجودہ 8 رکنی کابینہ میں پیپلز پارٹی کے دو اراکین ہیں تاہم وہ محکموں کی تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاسوں میں غیر فعال رہتے ہیں،دو ہفتے قبل کابینہ میں ان کی شمولیت کے باوجود تمام اراکین کو قلمدان تفویض نہیں کیے گئے ہیں، مسلم لیگ (ن) کابینہ میں توسیع کے حوالے سے فیصلہ کن نہیں دکھائی دے رہی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اگلے ماہ پنجاب کی 20 صوبائی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے پر اتفاق کیا ہے،تاہم پارٹیوں کے درمیان نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ان کے کارکنان ابھی تک میدان میں اترتے نہ ہی ان حلقوں میں اپنے مشترکہ امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلاتے نظر آئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے 25 قانون سازوں کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں انحراف پر ڈی سیٹ کرنے کے بعد حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے تھے، جس کے بعد وہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کے لیے بے چین ہیں تاکہ اپنے عہدے کو برقرار رکھ سکیں،مسلم لیگ (ن) نے عمران خان سے الگ ہونے کی ’قربانی‘ کے عوض پی ٹی آئی کے 20 منحرف افراد میں سے بیشتر کو ٹکٹ دیے ہیں،ن لیگی ذرائع نے بتایا کہ حمزہ شہباز نے اپنی کزن مریم نواز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان امیدواروں کے لیے مہم چلائیں تاکہ وہ اسمبلی میں واپس آسکیں۔

Back to top button