عمران خان کے سوشل میڈیا مینجرز ارب پتی کیسے بنے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق سوشل میڈیا منیجرز ارسلان جاوید اور فرحان جاوید کے کپتان دور حکومت میں اربوں پتی بن جانے کا سکینڈل سامنے آ گیا ہے۔ ان دو بھائیوں اور انکے تیسرے پارٹنر شفیق اکبر کی ملکیتی گرانہ نامی رئیل اسٹیٹ کمپنی نے

پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پاکستان میں اربوں روپے کے میگا پراجیکٹس بھی شروع کی

ے۔

معروف صحافی حمزہ اظہر سلام کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خود کو پاکستان کی پہلی آن لائن مارکیٹ پلیس قرار دینے والی کمپنی گرانہ نے بڑے پیمانے پر عوام سے فنڈز بھی بٹورے حالانکہ یہ ایک نان بینکنگ فنانس کمپنی یعنی (NBFC) کے طور پر رجسٹرڈ نہیں تھی۔

ایک اندازے کے مطابق اس رئیل اسٹیٹ کمپنی نے عوام سے 10 بلین روپے اکٹھے کیے جن کے عوض ان کے ساتھ رائج الوقت شرح سود سے 3 گنا زیادہ منافع دینے کا وعدہ کیا گیا۔ایسا کرتے ہوئے گرانہ نامی کمپنی نے بینکنگ فنانس کمپنی کے قوانین کی خلاف ورزی بھی کی لیکن سابق حکومت کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ گرانہ اب بھی دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی ہے۔

حمزہ اظہر سلام کی رپورٹ کے مطابق گرانہ نامی کمپنی اور اس سے ملحقہ “برانڈو مارکیٹنگ” اور “ایجنسی 21” کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد اور اسکے آس پاس انکے بڑے بڑے اشتہاری بورڈ جا بجا اور بلامعاوضہ لگے نظر آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گرانہ کے مالکان فرحان جاوید اور ارسلان جاوید نے عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی زلفی بخاری کے ذریعے وزیر اعظم ہاؤس تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

فرحان جاوید اور ارسلان جاوید نے ماضی میں زلفی بخاری کے سوشل میڈیا منیجرز کے طور پر بھی کام کیا تھا لیکن جیسے ہی عمران حکومت بنی، ان کی کمپنی برانڈو مارکیٹنگ پی ٹی آئی حکومت سے وابستہ ہو گئی اور بے پناہ مالی فوائد حاصل کیے۔

فرحان جاوید، ارسلان جاوید اور برٹش نیشنل شفیق اکبر کی ملکیتی برانڈو مارکیٹنگ نامی ایجنسی کو نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے “سرکاری منصوبوں کو طاقت دینے کے لیے حکومت پاکستان کے آفیشل ڈیجیٹل میڈیا پارٹنر” کے طور پر بھاری مالیت کا کنٹریکٹ دیا تھا۔
گرانہ نے خود کو کسی قسم کی قانونی کارروائی سے بچانے کے لیے مسلح افواج کے کئی ریٹائرڈ آفیسز بشمول میجر جنرل (ریٹائرڈ) سعد خٹک کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں، موصوف اب کمپنی چھوڑ چکے ہیں اور سری لنکا میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

لیکن لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہارون اسلم اسوقت گرانہ گروپ کے ایڈوائزری بورڈ کے صدر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گرانہ کا اثر و رسوخ بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ہارون اسلم کو ماہانہ 20,000,00 سے زیادہ معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔

کمپنی کے لیے کام کرنے والے سابق ملازمین کا الزام ہے کہ کمپنی ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے جو اس نے سرمایہ کاروں سے کیے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر اپنے اندرونی ڈھانچے اور دیگر معاملات کو صارفین سے پوشیدہ رکھا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے والوں کو مشکل پیش آئے۔

بتایا جاتا ہے کہ گرانہ اور امارت کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شفیق اکبر پہلے مشرقی لندن کے ایلفورڈ علاقے میں ایک پراپرٹی ڈیلر تھے جو Steptons Estate Agents Ltd میں کام کرتے تھے۔ شفیق اکبر نے گرانا اور امارت گروپ کے سی ای او نے Homzz Investments and Hotspots Management UK لمیٹڈ میں ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ 2007 میں شفیق ڈگلس ایلن میں سینئر فنانشل ایڈوائزر تھے۔ برطانیہ میں کام کرنے سے پہلے انکا 1998 اور 2002 کے درمیان ہنڈائی انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈ میں اسسٹنٹ منیجر مارکیٹنگ کے طور پر چار سالہ تجربہ تھا۔

عمران خان کے دور حکومت میں شفیق اکبر نے پاکستان کے سرکردہ پراپرٹی ٹائیکون کے طور پر شہرت حاصل کی، اس نے بھارتی شہری شانتی لال ویلجی پٹیل کے ساتھ Steptons Estate Agents Limited میں شراکت داری کی جو کمپنیز ہاؤس کے مطابق ایک رئیل اسٹیٹ ایجنسی کے طور پر رجسٹرڈ تھی۔ شفیق اکبر اور اس کے پارٹنر شانتی لال کے ساتھ منسلک کمپنیوں کی کل مالیت صرف 6 لاکھ 50 ہزار روپے تھی، جو پراپرٹی کے کاروبار کے لیے نہایت معمولی رقم تھی۔

کمپنی کے سابق سینئر ملازمین کے مطابق، گرانہ نے پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے ساتھ اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے جو پاکستان میں دیگر رئیل اسٹیٹ کمپنیوں پر حکومت کرتے ہیں۔ گرانہ اور امارت گروپ کے ابتدائی ڈھانچے میں شامل ایک سینئر لیول کے سابق افسر نے بتایا کہ کمپنی غیر بینکنگ مالیاتی کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ نہیں تھی چنانچہ وہ قانونی طور پر بڑے پیمانے پر عوام سے سرمایہ کاری قبول نہیں کرسکتی تھی۔ انکا کہنا ہے کہ میں نے گرانہ کمپنی کی انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ معاملات قانون کے مطابق آگے بڑھائیں لیکن میرے باسز کو قانون کی تعمیل میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔

گرانہ کے مالیاتی معاملات سے وابستہ رہنے والے سابق ملازم کے مطابق کمپنی کو عوام سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری قبول کرنے کا قانونی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی کمپنی کے پاس منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے کوئی حفاظتی انتظامات ہیں۔ لیکن گرانہ صارفین کو فنڈز کے ماخذ کو تلاش کیے بغیر نقد رقم میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور مارکیٹ ریٹ سے زیادہ شرح سود ادا کرتا ہے۔

پاکستان کے بینکنگ قانون میں مہارت رکھنے والے ایک وکیل نے تصدیق کی کہ کوئی بھی کمپنی جو غیر بینکنگ مالیاتی کمپنی کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے وہ عوام سے سرمایہ کاری قبول نہیں کر سکتی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گرانہ نے 4 قسطوں میں 300 سے 400 ملین روپے کی قیمت پر “مال آف عربیہ” کے لیے زمین خریدنے کا سودا کیا تھا۔ لیکن گرانہ نے تیسری اور چوتھی قسط ابھی تک ادا نہیں کی۔

حمزہ اظہر سلام کے بقول گرانہ کے نمائندوں سے ہونے والی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی اپنے سرمایہ کاروں کو 25 فیصد، 18 فیصد اور 15 فیصد سالانہ تک سود ادائیگی کی پیشکش کرتی ہے۔ جن پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کروائی جاتی ہے ان میں مال آف عربیہ، ایمیزون آؤٹ لیٹ مال، امارت بلڈرز مال اور گالف فلورس شامل ہیں۔ گرانہ کی جانب سے دیا جانے والا منافع رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے لیے بہت زیادہ منافع سمجھا جاتا ہے۔

گرانہ کے تمام منصوبے اسلام آباد میں ہیں اور وہ جو منافع ادا کرتے ہیں ان میں کرایہ، کیپٹل گین اور بائی بیک اسکیم شامل ہے جو سرمایہ کاروں کو گرانہ کے پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرتی ہیں۔ تاہم، اب تک، گرانہ کے بڑے منصوبوں میں سے صرف ایک مکمل ہوا ہے۔ گرانہ کے ممکنہ سرمایہ کاروں کو گھیرنے کے لیے زیر تعمیر دیگر منصوبوں پر جاری کام کی ویڈیوز دکھائی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود نیب اور ایف آئی اے کی جانب سے گرانہ کے خلاف اسلئے کوئی کارروائی نہ ہوئی کہ اسکے مالکان کی اہم حکومتی شخصیات تک رسائی تھی۔

گرانہ کے ایک صارف نے تصدیق کی کہ اسے سرمایہ کاری کے وقت یقین دلایا گیا تھا کہ زلفی بخاری اس منصوبے میں پوری طرح ساتھ ہیں لہذا نقصان کا کوئی امکان نہیں۔ یاد رہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ گرانہ کی برینڈو ایجنسی سے کیےبگے میڈیا معاہدوں کا نوٹس بھی لیا تھا۔ ٹرانسپرنسی کے مطابق نیشن انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ یعنی (NITB) کی طرف سے “آفیشل ڈیجیٹل میڈیا پارٹنر” کے لیے کوئی ٹینڈر پوسٹ نہیں کیا گیا، جو کہ خریداری کے قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے چند ماہ کے اندر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وفاقی حکومت کو خط لکھ کر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی آئی ٹی اور ڈیجیٹل میڈیا انڈسٹری میں ایک نامعلوم کمپنی کو اس طرح کی شراکت کی پیشکش کرنے سے پہلے رائج طریقہ کار نہیں اپنایا گیا۔ تب یہ بات بھی سامنے آئی کہ برینڈو مارکیٹنگ پی ٹی آئی کے چیئرمین اور وزیر اعظم پاکستان کے آفیشل پیج کو خفیہ طور پر ہینڈل کر رہی تھی۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا کہ برانڈو مارکیٹنگ کے ڈائریکٹر فرحان جاوید بھی زلفی بخاری کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور موجودگی کا انتظام کر رہے تھے۔ گرانہ کمپنی کے تیسرے پارٹنر شفیق اکبر نے تب اپنے LinkedIn پروفائل میں خود کو برانڈو کے ڈائریکٹر کے طور پر درج کیا تھا لیکن بعد میں تمام تفصیلات مٹا دیں۔

پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے پراعتراض

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے یہ بھی پتہ چلایا تھا کہ زلفی بخاری کے ساتھ ذاتی کاروبار کے علاوہ برانڈو بغیر کسی معاہدے کے زلفی بخاری کی قیادت میں وزارت سمندر پار پاکستانیوں سے سمندر پار پاکستانیوں کا مکمل ڈیٹا حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور اسی ڈیٹا بیس کو گرانہ اب سمندر پار پاکستانیوں کو جائیدادیں فروخت کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ تاہم برانڈو اور گرانہ کے خلاف اس معاملے پر بھی کوئی انکوائری نہیں ہوئی ہے۔ لیکن شفیق اکبر کے ترجمان نے سابق ملازمین کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گرانہ کے سابق ملازمین کا دعویٰ سراسر غلط کیونکہ گرانہ کسی قسم کی مالیاتی خدمات کی پیشکش نہیں کرتا ۔

How did Imran social media managers become billionaires? video

Related Articles

Back to top button