این ڈی ایم کے جنرل افضل کو سویلینز پر تنقید مہنگی پڑ گئی

سوشل میڈیا پر جہاں کرونا وائرس کے حوالے سے آرمی کے کردار کی تعریف کی جا رہی ہے وہیں کئی لوگ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی یا این ڈی اے کے فوجی سربراہ میجر جنرل محمد افضل کی جانب سے کرونا وائرس سے نمٹنے کی ساری مہم کا کریڈٹ سویلین سے چھیننے اور انہیں ‘غیر تربیت یافتہ سویلینز’ قرار دینے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ فوج کا کام ہے سویلین کا نہیں۔ ساری دنیا میں فوج ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کام کرتی ہے لیکن پاکستان میں فوج وہ کام کرتی ہے جو سویلینز کے ذمہ ہے یعنی حکومتیں بنانا اور چلانا۔ ایک دل جلے صارف نے تو یہ بھی لکھ دیا کہ سویلینز کو غیر تربیت یافتہ قرار دینے والے جرنیلوں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ آپ پچھلے سات عشروں سے ملک پر حکومت کر رہے ہیں لیکن آپ کو حکومت کرنا کیوں نہ آئی۔ آپ کی تربیت کس نے کرنا تھی۔
یاد رہے کہ ایک حالیہ انٹرویو میں کرونا کے خلاف جنگ میں آرمی کے کردار پر بات کرتے ہوئے جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں یونیفارم پہن کر بیٹھا ہوں اور ایک سویلین ادارے کا سربراہ ہوں جس میں 40 فیصد مین پاور فوجی ہے اور میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ فوجی مین پاور ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ بہت سارے ایسے کام ہیں جن کے لیے ہمارے سویلین بھائی ٹرینڈ نہیں ہوتے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کرونا کے حوالے سے پاکستانی فوج نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آرمی ہی تھی جس نے صوبوں کو بھی ساتھ لیا اور وائرس کی کمر توڑی۔ اسلام آباد میں بھی ایک کرونا سینٹر بنایا اور صوبوں میں بھی سینٹرز بنائے’۔ جنرل افضل کے انٹرویو پر تنقید کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ ’این ڈی ایم اے میں فوجی افسر کی سربراہی اور اس کے چالیس فیصد ارکان کا فوجی ہونا بہتر ہے۔ کیونکہ ان کاموں کے لیے سویلینز کی تربیت نہیں۔ لیکن اسی سانس میں جرنیل موصوف 18ویں آئینی ترمیم پر ایسی روانی سے بولے ہیں جیسے قانون اور سیاست ان کا پیشہ ہو۔ قائداعظم نے اسی لیے فوج والوں کو انکا حلف یاد دلایا تھا۔‘
یاد رہے کہ جنرل افضل نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ کرونا وائرس سے لڑنے کی جنگ کے دوران فوج کو صرف ایک مسئلہ درپیش آیا اور وہ 18 ویں ترمیم کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل تھے۔ لیکن یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کون سے ایسے مسائل تھے جو اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے کرونا کے خاتمے میں حائل ہو گئے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کےخلاف لڑائی میں سرکاری ہسپتالوں میں متاثر اور ہلاک ہونے والے طبی عملے اور پولیس کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کئی سوشل میڈیا صارفین کو شکایت ہے کہ فوج کے سامنے ان سویلینز کی قربانیوں کا ذکر کیوں نہیں کیا جا رہا۔ اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے صحافی عمار مسعود کا کہنا تھا کہ ’درجنوں ڈاکٹر اور نرسنگ سٹاف ہلاک ہو گئے اس وبا سے لڑتے لڑتے اور گراؤنڈ پر آپ کام کر رہے ہیں ؟ وبا کا بہانہ بنا کر یونیفارم پہن کر 18 ویں ترمیم کے خلاف بیان آپ کے حلف کے بھی خلاف ہے۔‘
محسن رضا خان کہتے ہیں ’اگر یہ آئین کا احترام نہیں کرسکتے تو اس پر بات بھی نہ کریں۔ کیا اس گریڈ کا کوئی اور سرکاری ملازم آئین کے بارے میں اس طرح اظہار خیال کرسکتا ہے؟ ان موصوف کا کورٹ مارشل تو بنتا ہے باقی عمران خان کی مرضی۔‘ جہاں کئی افراد یہ سوال کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اب تک جتنے لاکھوں ٹیسٹ کیے گئے ہیں وہ تو صوبوں نے کیے ہیں تو پھر فوج کیا کر رہی ہے؟ وہیں کئی ایسےبھی ہیں جو ملک بھر کے سی ایم ایچ ہسپتالوں میں سویلین افراد کا داخلہ بند کر دینے پر پاکستان آرمی کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔
اسی بارے میں جنرل افضل کو مخاطب کرتے ہوئے صائمہ بلال کہتی ہیں ’جنرل صاحب سویلین ہیلتھ ورکرز محدود وسائل کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ سویلین لیبارٹریاں بغیر کسی تفریق کے شہریوں کے ٹیسٹ کر رہی ہیں لیکن سی ایم ایچ عام شہریوں کے لیے بند ہے۔‘
کئی صارفین یہ پوچھتے بھی نظر آئے کہ اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جاتا ہے کہ کچھ امور کے لیے سویلین غیر تربیت یافتہ ہیں؟ کی سوشل میڈیا صارفین نے جنرل فضل سے یہ سوال بھی کردیا کہ آخر ستر برس گزرنے کے باوجود آپ حکومت چلانے کی تربیت کیوں حاصل نہ کر سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سویلین حکومتوں کو تو اقتدار کے لیے پانچ پانچ سال ملتے ہیں لیکن جنرل ایوب جنرل ضیاء اور جنرل مشرف نے تو دس دس سال کے لیے اقتدار پر قبضہ رکھا لیکن پھر بھی ملک کا بیڑہ ہی غرق کیا۔
جنرل افضل کے ’غیر تربیت یافتہ سویلین‘ سے متعلق جواب پر شہزاد احمد ملک کہتے ہیں ’آپ نے سویلین بھائیوں کو ٹرین ہونے کب دیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سکولز میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ہماری ایجوکیشن کا اور فورسز کا بجٹ دیکھ لیں۔‘
کئی صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سویلین ہر طرح کا کام کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں لیکن انھیں مواقع نہیں دیے جاتے۔
اسی بارے میں اکمل خان نامی صارف کہتے ہیں ’پاکستانی فوج کی عسکریت پسندی اور پیشہ ورانہ مہارت نے ہی انھیں سویلین بالادستی کے تابع نہیں ہونے۔۔ ہنگٹن کے فوجی ماڈل کے مطابق ان کا خیال ہے کہ وہ ہر کام کے لیے موزوں ہیں۔‘
ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فوج دوسرے اداروں کو بھی ترقی کرنے کا موقع دے۔
تنقید کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر کئی افراد جنرل افضل کے اس جملے کی بہت تعریف کر رہے ہیں جس میں انھوں نے یہ کہا کہ فوج کا سندھ حکومت کے ساتھ کوئی تنازع نہیں ہے۔ فوج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے غیاث میمن کہتے ہیں ’فوج ہماری ہے، ہم فوج کے ساتھ ہیں اور ہر ایمرجنسی میں فوج نے اپنا فرض نبھایا ہے۔ ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے مگر ایک گذارش ہے کہ اٹھارویں ترمیم ایک آئینی معاملہ ہے جنرل صاحب کو اس پہ تبصرہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘
جنرل افضل کے جوابات پر لیکن ایک سوشل میڈیا صارف ساجد احمد خان نے اپنا ردِعمل کچھ یوں بیان کیا ہے:
ہم چپ رہے ہم ہنس دیے
منظور تھا پردہ تیرا !!!
