پاکستانی جرنیلوں کی امیج بلڈنگ کے لیے اسلام کا استعمال کیوں؟

https://www.youtube.com/watch?v=lhM8KWtX6OU
ویسے تو دنیا بھر کی افواج کے سپہ سالاروں کو تب ہی یاد کیا جاتا ہے جب وہ پیشہ ورانہ جنگی چیلنجز سے بخوبی نبرد آزما ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو فتح سے ہمکنار کرتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں ہر دور میں آنے والے آرمی چیف کی امیج بلڈنگ کا سلسلہ کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے جاری ریتا یے چاہے اس جرنیل کی زیر قیادت کشمیر ہاتھ سے نکل جائے یا سیاچین پر بھارت کا قبضہ ہو جائے۔ چونکہ بیانیہ بنانے کا فریضہ فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کے ذمہ ہوتا ہے اس لیے یہ محکمہ اب وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان کا طاقتور ترین محکمہ بن چکا ہے اور ملک کا تمام میڈیا اس کے زیرتسلط اور زیر ہدایت کام کرتا ہے تاکہ چیف کا مطلوبہ بیانیہ فروغ پا سکے ۔
پاکستان کے کسی بھی آرمی چیف کی مدح سرائی میں لکھے گئے کالمز یا بیان کیے گئے واقعات کا موادی تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعریف و توصیف اور فضیلت ثابت کرنے کے لئے اسلامی مذہبی حوالوں کا استعمال لازم و ملزوم ہے۔ جنرل ایوب خان سے لے کر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک تمام تر آرمی چیفس کو اعلیٰ و افضل مذہبی حوالہ جات سے ہی ثابت کیا جاتا رہا ہے۔ اور یہ فریضہ درباری صحافیوں کے ذمہ لگایا جاتا ہے جو شاہ کی مدح سرائی میں اخبارات کے صفحات کالے کرتے ہیں اور ٹی وی سکرین پر مطلوبہ تجزیے پیش کرتے ہیں۔
جنرل ایوب خان کے دور کے اخباری تراشے یہ بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ کنونشنل جس کے ناتواں کندھوں پر ایوب خان کو مسند اقتدار پر فائز رکھنے کا بار رہا، اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک ایسا پوسٹر بھی بنایا جس میں جنرل ایوب خان کو حضرت نعوذباللہ ایوب علیہ السلام سے تشبیہ دی گئی تھی۔ نوائے وقت لاہور میں یکم جنوری 1965 کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق شہر میں کنونشنل مسلم لیگ کی جانب سے ایک پوسٹر دیواروں پر چسپاں کیا گیا جس میں لکھا گیا ہے کہ ’’اللہ پاک نے ۔۔۔ بنی اسرائیل کے پیغمبر ایوب علیہ السلام کا درجہ صدر ایوب کو بخشا‘‘۔ بعد ازاں جب محترمہ فاطمہ جناح نے صدر ایوب کے خلاف الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو ان کے مذہبی عقیدے کو بنیاد بنا کر ان پر شدید تنقید کی گئی۔
اسی طرح جامعہ اشرفیہ لاہور کے منتظم مولانا عبدالرحمان اشرفی سے منسوب ایک پرانا اخباری تراشہ ایسا بھی ہے جس میں انہوں یہ بیان دیا ہے کہ جنرل جنرل ضیا الحق صاحب کو نبی اکرم ﷺ کی جانب سے کئی سلام آئے اور کئی پیغام پہنچے۔ یاد رہے کہ جامعہ اشرفیہ کے مولانا محمد مالک کاندھلوی جنرل ضیا کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔ اب قریبی ساتھی کا خالہ زاد اگر ملک کا سپہ سالار ہو اور پھر ملک پر قابض ہو کر خود کو اس کا صدر بھی قرار دے لے، اور بعد ازاں آپ کو ملک کے چند اہم ترین مدرسوں میں سے ایک کا سربراہ بھی مقرر کر دے تو کیا آپ اس کے لئے چند توصیفی کلمات بھی نہیں کہہ سکتے؟ اب مولانا عبدالرحمان اشرفی سے یہ تو امید کی نہیں جا سکتی کہ وہ جنرل صاحب کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر تبصرہ کرتے۔ وہ تو اپنی core competency سے ہی کوئی کہانی گھڑنا تھی۔ سو گھڑ لی۔ بعد ازاں پاکستان کو نام نہاد افغان جہاد میں جھونکنے کی بنا پر جنرل ضیاء کے مذہبیی چماٹوں نے اسے مجاھد اسلام قرار دے دیا اور پھر اس نے اپنے آمرانہ اقتدار کو طول دینے کے لئے اسلام کے نام پر ایک ڈھونگ نما صدارتی ریفرنڈم بھی کروا دیا۔
نام نہاد لبرل جنرل مشرف برسر اقتدار آیا تو فوج کے میڈیا مینیجرز اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے چاپلوس کالم نگاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ تھا کے شراب کے رسیا اور عورتوں کے شوقین جنرل مشرف کی تعریف کس طرح کی جائے۔ لیکن جلد ہی اس کا حل بھی تلاش کرلیا گیا اور پھر یہ مشہور کردیا گیا کہ جنرل مشرف کی اسلام سے دلی عقیدت اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب 1979 میں دہشتگردوں نے خانہ کعبہ پر قبضہ کیا اور ایک جعلی امام مہدی کے ظہور کا اعلان کیا تو بطور ایس ایس جی کمانڈو ایک پاکستانی دستے کی قیادت کرتے ہوئے جنرل مشرف نے تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کر کے خانہ کعبہ کو آزاد کروایا.
حالانکہ یہ بات بالکل جھوٹ تھی کیونکہ سعودی عرب نے خانہ کعبہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے فرانس کی انسداد دہشت گردی کے فوجی یونٹ سے وابستہ انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کی مدد حاصل کی تھی.
اسی طرح دائیں بازو کے کالم نگار ہارون الرشید جنرل اشفاق پرویز کیانی کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملایا کرتے تھے۔ اسی دور میں ان کا ایک کالم بہت مشہور ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنے ’درویش‘ کی طرف سے اعلان کیا تھا کہ کل رات حضرت عمرؓ نے جھنڈا طالبان سے لے کر کسی اور کو تھما دیا۔ یاد رہے کہ یہ کالم ایک ایسے موقع پر چھپا کہ جب کئی سال تک طالبان کی حمایت کرنے والے صحافی بشمول ہارون الرشید کے، نئے نئے مشرف بہ کیانی ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے کالم میں ’کسی اور‘ کی وضاحت تو نہیں کی لیکن اشارہ کس طرف ہے، یہ زیادہ وضاحت کا طلبگار بھی نہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہارون رشید جب اس طرح کے چاپلوسانہ کالم لکھتے ہیں تو وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچے ہوتے ہیں۔
اسی طرح جنرل راحیل شریف کی تعریف و توصیف میں بھی مذہبی حوالوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اس حوالے سے مذہبی رہنما امیر حمزہ کا دنیا اخبار کے لئے لکھا گیا ایک کالم بہت مشہور ہوا جس میں انہوں نے جنرل راحیل شریف کے نام کا عربی ماخذ بیان کر کے ان کے پاک چین راہداری میں کردار کو عین اسلامی اور ان کے نام کے مطابق قرار دیتے ہوئے انہیں پاک چین راہداری کے لئے لازم و ملزوم قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’الرحیل اسے کہتے ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک کے بعد دوسرا قدم اٹھانے میں اور چلنے میں بڑا مضبوط ہو۔ قارئین کرام! میں جب جنرل راحیل شریف کو دیکھتا ہوں تو انہی خوبیوں کا حامل پاتا ہوں ۔۔۔ جنرل صاحب نے چین کو پاک فوج کی طرف سے گارنٹی دی ہے کہ اسے مکمل کر کے چھوڑیں گے‘‘۔
پھر جنرل قمر جاوید باجوہ آئے تو کالم نگار اوریا مقبول جان نے لکھا کہ ان کی تعیناتی نعوذباللھ براہ راست رسول اکرم ﷺ کے حکم پر ہوئی ہے۔ اور ایک روحانی شخصیت کا خواب بھی سنایا جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کی بارگاہ رسالت میں سفارش بھی جنرل باجوہ کے کام آئی۔ یاد رھے کہ اوریا مقبول کے کالم کے بعد ان کو شدید تنقید اور مذاق کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اسی طرح ماضی میں جنرل راحیل شریف کو CPEC کا گارنٹر قرآن سے ثابت کرنے والے امیر حمزہ، جو کہ جماعت الدعوۃ کے رہنما بھی ہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعیناتی پر اپنے کالم میں کچھ یوں مدح سرا ہوئے کہ ’’ہمارے نئے آرمی چیف کا نام قمر جاوید ہے۔ قمر عربی میں چاند کو کہتے ہیں۔ جس طرح چاند کے آنے سے پہلے اس کے طلوع کا انتظار ہوتا ہے، جنرل صاحب کی آمد سے پہلے بھی یونہی انتظار تھا اور ہر کان اسی خبر کی طرف لگا ہوا تھا۔ پھر جیسے چاند کے آنے پر عید ہو جاتی ہے، ان کے آنے پر ہمیں عید کی خوشی ملی۔ جاوید فارسی کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیشہ رہنے والا۔ جنرل صاحب اس عام چاند کی طرح نہیں جو ہر چند دن بعد پہلے چھوٹا ہوتا ہے پھر غائب ہو جاتا ہے بلکہ آپ ہمیشہ رہنے والے چاند ہیں۔‘‘
یہ علیحدہ بات ہے کہ جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کی وجہ سے امیر حمزہ کی خوشامد کا جواب خیر سگالی سے دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ چنانچہ راحیل کے دور میں امیر حمزہ کی جماعت الدعوۃ پر پابندی لگی جب کہ قمر باجوہ کے دور میں یہ پابندی نہ صرف برقرار ہے بلکہ جماعت الدعوۃ کے تمام مدرسوں کا انتظام و انصرام بھی حکومتِ پاکستان نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور حافظ سعید اور جماعت الدعوہ کی مرکزی قیادت کو دہشت گردوں کی فنڈنگ کے الزام میں میں سزا دے کر قید کیا جا چکا ہے۔
