نیب چیئرمین کا اپنی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیوں؟

چیئرمین نیب نے اپنے ہی ادارے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا ہے۔ جسٹس ر جاوید اقبال نے ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے برسہا برس تک نیب کے بنائے میگا کرپشن کیسز کے زیر التوا رہنے پر ادارے کی پراسیکیوشن ونگ کو ہدایت کی ہے کہ تمام زیر التوا ہائی پروفائل کیسز کو 30 روز کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قومی احتساب بیورو نے تحریک انصاف حکومت کو سہارا دینے کے لئے اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف بنائے گئے میگا کرپشن کیسز کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کی غرض سے نیب آرڈیننس کی شق 16 (اے) کو استعمال کرتے ہوئے 30 روز کے اندر کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے اور چیئرمین نیب کی جانب سے اپنے ہی ادارے کی پروسیکیوشن ونگ کی سرزنش کرنے کا بھی یہی مقصد تھا۔
ممکنہ طور پر آنےوالے دنوں میں اپوزیشن لیڈر شپ کے خلاف زیر التوا کیسون میں سزائیں دلوا کر جیلوں میں ڈالنے کی مہم میں شدت آجائے گی۔
ذراجع کا ماننا ہے کہ آپ ی حکومت کی ناکامی کے بعد کپتان کے اپوزیشن مخالف احتسابی بیانیئے کو درست ثابت کرنے کے لئے نیب نے جلد از جلد بڑے اپوزیشن رہنمائوں کو جیلوں میں ڈالنے کے لئے پھرتیاں دکھانے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ خدشہ ہے کہ اب جلد بازی میں نیب کئی برسوں سے التوا کا شکار کیسز کو نمٹا کر حکومت کا امیج بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔خیال رہے کہ این اے او 1999 کی دفعہ 16 (اے)، جس میں 26 مارچ 2010 کو ترمیم کی گئی تھی، میں کہا گیا ہے کہ ‘کسی دوسرے قانون میں موجود کسی بھی چیز کے علاوہ عدالت میں اس آرڈیننس کے تحت کسی جرم کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا اور اسے روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے گا اور 30 دن میں نمٹا دیا جائے گا۔
حالیہ دنوں قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے چیئرمین جسٹس ر جاوید اقبال کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ملک کے بڑے سیاستدانوں کے میگا کرپشن کے کیسز کا جائزہ لیا جن میں پانچ سابق وزرائے اعظم، پانچ سابق وزرائے اعلی اور کابینہ کے چند اراکین شامل ہیں۔ نیب نے ان کے کیسز نمٹانے میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے برخلاف تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا جس کے مطابق ایسے کیسز کے بارے میں 30 دن کے اندر فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بہت سے مقدمات گذشتہ کئی مہینوں سے زیر التوا ہیں مثال کے طور پر پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف 2 ارب 64 کروڑ روپے کا مقدمہ 5 سال سے زیر سماعت ہے اور اس کا آج تک فیصلہ نہیں ہوسکا۔ خیال رہے کہ نیب کے مقدمات کا سامنا کرنے والے نمایاں افراد میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، شوکت عزیز، راجہ پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری سمیت سابق وزرائے اعلی شہباز شریف،قائم علی شاہ، نواب اسلم رئیسانی، ثناء اللہ زہری اور موجودہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ شامل ہیں۔ کئی حکومتی شخصیات بھی نیب کے ریڈار پر ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان بھی مالم جبہ ریزورٹ منصوبے سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔میگا کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما اور کابینہ کے ممبران میں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر ہوا بازی غلام سرور خان، سابق وزیر صحت عامر کیانی اور عبدالعلیم خان شامل ہیں۔
نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال، جنہوں نے حال ہی میں بیورو کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی، نے بیورو کے پراسیکیوشن ونگ کو کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں داخل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر، پراسیکیوٹر جنرل احتساب، ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔تمام ڈائریکٹرز جنرلز نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔اس اہم اجلاس میں اسحٰق ڈار، خواجہ سعد رفیق، ڈاکٹر عاصم، احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، مفتاح اسمٰعیل، بابر خان غوری، منظور وسان، آغا سراج درانی، سہیل انور سیال، عادل صدیق، رؤف صدیق، شرجیل انعام میمن، خورشید شاہ، وسیم اختر، سردار عاشق خان گوپانگ، برجیس طاہر، اعجاز جاکھرانی، رانا ثناء اللہ، سبطین خان، صاحبزادہ محمود زیب، شیر اعظم خان، انجینئر امیر مقام، ریٹائرڈ کیپٹن صفدر، عثمان سیف اللہ، انور سیف اللہ، اسفند یار کاکڑ، عاصم کرد، حمزہ شہباز، سلیمان شہباز، حسن نواز، حسین نواز، احد چیمہ، فواد حسن فواد، منظور کاکا، شاہد الاسلام، عمران الحق، عبد الغنی مجید، انور مجید، کامران لاشاری اور دیگر کے خلاف مقدمات میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بینک اسلامک، بینک آف خیبر، بلین ٹری منصوبے اور دیگر کے خلاف جاری تحقیقات میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نیب کے مطابق مذکورہ اجلاس میں قانون کے مطابق مجرمان اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا
