زرداری پر PTI کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے

حکومت سندھ نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی مرتب کردہ تفتیشی رپورٹ جاری کر کے پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر علی زیدی کو جھوٹا ثابت کر دیا جنہوں نے پچھلے دنوں قومی اسمبلی میں یہ دعوی کیا تھا کہ اس JIT رپورٹ میں عزیر بلوچ نے آصف زرداری کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ تاہم سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں آصف زرداری یا کسی بھی اور پیپلز پارٹی رہنما کا کوئی ذکر نہیں ہے جس سے علی زیدی کا دعوی جھوٹا ثابت ہوگیا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری شدہ JIT رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے سیاسی و لسانی بنیادوں پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت نے نثار مورائی اور بلدیہ فیکٹری سانحے کی جی آئی ٹی رپورٹس بھی وعدے کے مطابق پبلک کرد ی ہیں تاہم عذیر بلوچ یا نثار مورائی کی رپورٹس میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ دونوں مجرم پیپلزپارٹی کی قیادت کے ایما پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ اس طرح تحریک انصاف کے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت پر لگائے گئے الزامات بھی رد ہو گے ہیں۔ خیال رہے کہ 30 جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر بحری امور علی زیدی ایوان میں عذیر بلوچ کے حوالے سے مبینہ جے آئی ٹی رپورٹ لے کر آئے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کئی سنگین نوعیت کے جرائم کی ذمہ داری آصف علی زرداری پر ڈالی ہے۔
تاہم سندھ حکومت نے علی زیدی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے عزیر بلوچ سمیت تین دیگر جی آئی ٹی رپورٹس بھی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ پر ڈال دیں ہیں جن میں کہ آصف علی زرداری کا کوئی ذکر نہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خفیہ ادارے اور حکومت پیپلز پارٹی کی قیادت بالخصوص سابق صدر آصف زرداری کو دباو میں لانے کے لئے انہیں عذیر بلوچ کے ساتھ نتھی کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ خیال رہے کہ چند ہفتے قبل ایجنسیوں نے عذیر بلوچ کو جیل سے نکلوا کر کراچی کے ایک ہاسٹل میں شفٹ کردیا ہے جہاں اسے زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی مبینہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
حکومت سندھ کی جانب سے جاری کی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عذیر بلوچ مختلف مجرمانہ واقعات میں ملوث ہونے کے باعث 2006 سے 2008 تک کراچی سینٹرل جیل میں قید رہا جبکہ ملزم جون 2013 میں کراچی سے براستہ ایران دبئی فرار ہو گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق وہ ایک نامعلوم راستے سے کراچی واپس آئے لیکن کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے 30 جنوری 2016 کو پاکستان رینجرز نے گرفتار کر لیا تھا۔جس کے بعد اپریل 2017 میں فوج نے اعلان کیاتھا کہ ‘جاسوسی’ کے الزامات پر انہوں نے عزیر بلوچ کی حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عذیر بلوچ کو جاسوسی سے متعلق الزامات ثابت ہونے پر ملٹری کورٹ سے 12 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔
جے آئی ٹی کے مطابق 2008 میں پولیس مقابلے میں رحمٰن ڈکیٹ کی موت کے بعد عذیر بلوچ نے گینگ کو سنبھالا اور پیپلز امن کمیٹی کا آغاز کیا اور اسی جماعت کے زیر سایہ لیاری میں مجرمانہ سرگرمیاں اور ارشد پپو اور غفار ذکری گروپ کے خلاف گینگ وار کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اس نے علاقے میں متحدہ قومی موومنٹ کے ٹارگٹ کلرز کو بھی مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مارچ 2013 میں ارشد پپو کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے بعد عذیر بلوچ لیاری کے بے تاج بادشاہ بن گیا تھا تاہم اس کے بعد لیاری امن کمیٹی اندرونی اختلافات سے دوچار ہو گئی اور بالآخر ستمبر 2013 میں کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ بیرون ملک فرار ہو گیا۔عذیر بلوچ نے انکشاف کیا کہ 2010 میں انہوں نے مختلف گینگسٹر گروپوں کو اپنے حریفوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جن کی کل تعداد 198 بنتی ہے۔
جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ عذیر نے بھتہ وصولی، گینگسٹر کے ذریعے اپنے حصے کی وصولی اور دیگر مقامات سے بزور طاقت لوگوں سے رقم وصول کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے۔اس نے تسلیم کیا کہ وہ پولیس میں بھی انتہائی اثرورسوخ کا حامل ہے اور اس نے 2011 سے 2012 کے دوران متعدد ایس پی اور ایس ایچ اوز کی من مانے تھانوں میں تقرریاں کروائیں۔ملزم کی پاکستان اور بیرون ملک بڑی تعداد میں جائیدادیں بھی موجود ہے جو اس نے اپنی بیوی اور دیگر رشتے داروں کے ناموں سے لیں جبکہ ملزم نے غیرقانونی ہتھیاروں کی خریداری اور ان کی گینگسٹرز میں تقسیم کا بھی اعتراف کیا۔ ملٹری کورٹ سے سزا پانے کے باوجود عذیر بلوچ انسداد دہشت گردی اور سیشن عدالتوں میں اپنے حریف ارشد پپو کے بہیمانہ قتل سمیت 50 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔
