باچا خان چوک کا نام تبدیل کرنے پر حکومت تنقید کی زد میں

پشاور میں بننے والے بی آر ٹی منصوبےکے ایک سٹیشن کا نام باچا خان چوک سے بدل کر ‘چرگانو چوک’ رکھنے پر خیبر پختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ صورتحال کو کشیدہ ہونے سے بچانے کے لئے کے پی حکومت نے فوری طور پر یہان سے چرگانو چوک کا بورڈ ہٹا دیا ہے لیکن ابھی تک اس چوک کو باچا خان کے نام سے دوبارہ منسوب نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ پشتون قوم پرست رہنما خان عبدالغفار خان باچا خان کے نام سے جانے جاتے تھے۔بہت سے نامور لکھاریوں نے اپنے کتابوں میں باچا خان کے لیے ‘فرنٹئیر کے گاندھی’ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ باچا خان خدائی خدمتگار تحریک کے بانی اور پشتون قوم پرست رہنما تھے۔سیاسی مخالفین بھی باچا خان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں قوم پرست رہنما کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔جولائی 2018 میں ایک جلسے کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پارٹی ورکرز کو باچا خان کے خلاف کلمات ادا کرنے سے روک دیا تھا۔عمران خان نے اس وقت کہا تھا ‘کوئی مانے یا نہ مانے لیکن باچا خان ایک عظیم رہنما تھے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کے خلاف کچھ بولے۔ تاہم پھر وہ وقت بھی آیا جب عمران خان کی اپنی حکومت نے باچا خان چوک کا نام تبدیل کر دیا۔
مختلف کتابوں میں باچا خان کی پشتون علاقوں میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی کہانیاں موجود ہیں کہ کس طرح انھوں نے انگریزوں کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ان کے فیصلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔باچا خان کے نام سے پشاور ائیر پورٹ بھی منسوب ہے جسے باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کہتے ہیں جب کہ ان کے نام سے خیبر پختونخواہ میں یونیورسٹی اور ایک میڈکل کالج بھی منسوب ہے۔ پشاور کا مشہورچوک لوگوں میں چرگانو یعنی مرغوں والے چوک کے نام سے مشہور تھا کیونکہ یہاں مرغوں کی لڑائیاں کروائی جاتی تھیں تاہم عوامی نیشنل پارٹی کی سابق حکومت کے دوران اس کا نام باچا خان چوک رکھ دیا گیا تھا۔ اس چوک میں بی آر ٹی کے ایک سٹیشن کو جب چرگانو کا انم دیا گیا تو کے پی حکموت پر ہر جانب سے تنقید شروع ہوگئی اور مطالبہ کیا گیا کہ تعصب کی بنیاد پر کئے گئے اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے اور یہاں نصب چرگانو چوک کا سائن بورڈ بھی ہٹایا جائے ورنہ نقص امن کا خطرہ ہے۔اس حوالے سے صوبائی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی رہنما سردار حسین بابک نے کہا یہ کام حکومت نے شرارت کی وجہ سے کیا ہے اور وہ حالات کو کشیدہ کرنا چاہتے ہیں۔اگر سائن بورڈ نہ ہٹایا گیا اور سٹیشن کو باچا خان چوک سے منسوب نہ کیا گیا تو ہم خود اسے ہٹائیں گے اور کسی بھی صورتحال کی پھر ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہو گی۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کی جانب سے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ایک صارف حسن محمود نے لکھا ہے کہ بنگلہ دیش میں باچا خان کے نام سے یونیورسٹی بن رہی ہیں ، افغانستان میں ان کے مزار کو تاج محل سے بھی خوبصورت ڈیزائن کے ساتھ بنایا گیا ہے لیکن پاکستان میں ایک چوک باچا خان کے نام سے منسوب ہے اور ان کو برداشت نہیں کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ کے پی میں برسر اقتدار تحریک انصاف نے باچا خان چوک کا نام تبدیل کیا لیکن مشیر بلدیات خیبر پختونخوا کامران خان بنگش کا کہنا ہے کہ باچا خان صرف ایک سیاسی جماعت کے رہنما نہیں بلکہ خطے کے عظیم لیڈر ہیں۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وزیراعلی اُن کی خدمات،جدوجہداورافکار کوقدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔باچاخان چوک پربورڈ کی تنصیب کی تصحیح کی جارہی ہے اوراس چوک کا اصل نام جلد آویزاں ہوجائیگا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہان نصب چرگانو کا بورڈ ہٹا دیا گیا ہے۔
تاہم ابھی تک اس چوک کو دوبارہ سے باچا خان کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا۔
