دباو کے بعد اسلام آباد میں مندر کی تعمیر لٹک گئی


اسلام آباد میں ہندوؤں کی پہلی عبادت گاہ کے قیام کا معاملہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مذہبی شدت پسندوں اور لبرل حلقوں کے مابین وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے جاری تنازعے میں اس وقت ایک نیا موڑ آ گیا جب وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے مندر کی تعمیر کا نقشہ موصول نہ ہونے کی وجہ سے تعمیراتی کام معطل کرا دیا۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں حقوق انسانی کے پارلیمانی سیکریٹری لال چند ملہی کا کہنا ہے کہ چار دیواری کی تعمیر کے لیے کسی اجازت نامہ کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ پنچایت پہلے ہی سی ڈی اے کو چار دیواری کی تعمیر شروع کرنے سے متعلق تحریری اطلاع دے چکی ہے۔

یاد رہے کہ ساٹھ کی دہائی میں تعمیر اور دارالحکومت قرار دئیے جانے والے شہر اقتدار اسلام آباد میں تقریبا تین ہزار ہندو خاندان آباد ہیں۔ جو یہاں کے مستقل رہائشی ہیں۔ ہندو برادری کے اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر کے دیرینہ مطالبہ پروزیراعظم پاکستان عمران خان نے 27 جون کو اس منصوبے کے لیے 10 کروڑ مختص کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے بلند بانگ دعوے کرنے والی کپتان سرکار میں اسلام آباد میں ہندو برادری کیلئے مندر کی تعمیر روک دی گئی ہے جس پر دنیا بھر میں وزیر اعظم عمران خان شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ گذشتہ کئی روز سے پاکستان کے مقامی اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے خبریں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ مندر کا تعمیراتی کام رکنے کی بنیادی وجہ مذہبی امتیاز ہے تاہم حکومتی بیانات میں اس تاثر کی تردید کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ترجمان سی ڈی اے کا بتانا ہےکہ مندر کا بلڈنگ پلان ابھی تک سی ڈی اے کو موصول نہیں ہوا، جس کی وجہ سے تعمیراتی کام کو معطل کیا گیا ہے اور بلڈنگ پلان موصول ہونے اور اس کی منظوری کے بعد ہی تعمیراتی کام شروع کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مختص جگہ کے حوالے سے کوئی تنازع نہیں اور وہ جگہ منظور شدہ ہے تاہم تعمیراتی کام کو شروع کرنے سے قبل دو مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ترجمان کے مطابق سب سے پہلے ’الاٹمنٹ لیٹر‘ بھجوایا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ منظور شدہ زمین کے مالک کو اس جگہ پر قبضہ حاصل ہو گیا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں تعمیراتی کام سے قبل بھی سی ڈی اے کو ایک منصوبہ پیش کیا جاتا ہے جسے ’بلڈنگ پلان‘ کہا جاتا ہے۔ میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے سی ڈی اے ترجمان نے وضاحت کی کہ مندر کے تعمیراتی کام کو روکا نہیں گیا بلکہ اسے عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔

دوسری طرف انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکرٹری اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن لال چند مالہی کا مندر کی تعمیر رکوانے پر کہنا ہے کہ اس متعلق انھیں سی ڈی اے کی جانب سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی میں سی ڈی اے کو ایک درخواست دے دی گئی تھی کہ اسلام آباد ہندو پنچایت منظور شدہ زمین پر چار دیواری تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ ’سی ڈی اے کے پاس کام رکوانے کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا اور انھیں یہ کام نہیں رکوانا چاہیے تھا۔ کیونکہ ہم صرف پلاٹ کے گرد چار دیواری کھڑی کر رہے ہیں کہ اس پر کوئی قبضہ نہ کر لے۔ ‘

واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مندر کی تعمیر کی منظوری کے بعد سے مذہبی حلقوں سے ایک شدید رد عمل سامنے آیا۔ لاہور کی جامع اشرفیہ سے وابستہ مفتی محمد ذکریا نے مندر کی تعمیر کے حوالے سے ایک فتوی جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام کے مطابق اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال اور انھیں قائم رکھنا جائز ہے تاہم نئی عبادت گاہوں کی تعمیر کی اجازت نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مندر کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے صارفین یہ منطق پیش کررہے ہیں کہ اس مندر کی تعمیر کے لیے رقم سرکاری خزانے سے نہیں آنی چاہیے کیونکہ اسلام آباد میں پہلے ہی ہندو برادری کی بہت کم تعداد ہے۔

واضح رہے کہ شری کرشن مندر کی چار دیواری کی تعمیر کا کام چند ہفتے پہلے شروع کیا گیا تھا۔ میڈیا میں اسلام آباد کے پہلے مندر کی تعمیر سے متعلق خبریں آنے کے بعد بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔تاہم حالات نے سنجیدہ موڑ س وقت لیا جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویزالہی نے اس سلسلہ میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا اور مندر کی تعمیر کی مخالفت کیی۔ اسلام آباد میں نئے مندر کی تعمیر پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے مندروں کی تعمیر اسلام کی روح کے منافی ہے۔ اس لئے نئے مندر بنانے کی بجائے شہر میں پہلے سے موجود پرانے مندروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کی جائے۔ اسکے رد عمل میں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انھوں نے اس حوالے سے یکم جولائی کو ایک ٹویٹ بھی کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں تعمیر ہونے والا مندر اقلیتوں کے لیے ہماری رواداری اور نیک نیتی کی علامت ہو گا۔
چوہدری پرویز الہی کے بیان کے بعد مندر کی تعمیر کے مخالف بیانات کا تانتا ہی بندھ گیا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر اس سلسلہ میں ایک بھرپور مہم کیا آغاز ہوا۔ جس میں تحریک انصاف حکومت کی مندر کی تعمیر کی اجازت اور فنڈز کی فراہمی کے اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مندر کی تعمیر کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اسلامی تاریخ، تعلیمات اور پاکستان کا آئین تمام اقلیتوں کی مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کی حفاظت کی ضامن ہیں۔۔۔۔ 50 لاکھ ہندو بھی پاکستانی ہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر منصوبے کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button