ایوان زریں میں فنانس ترمیمی بل 2021 منظوری کیلئے پیش، اپوزیشن کی تنقید جاری

اسلام آبادمیں ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس جاری جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے فنانس ترمیمی بل 2021 ایوان میں منظوری کے لیے پیش کردیا ہے جس پر بحث کا سلسلہ جارہی ہے۔

وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کردہ ترمیمی بل پر اپوزیشن نے سخت مخالفت کی ہے۔

اس دوران ایوان زریں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور سابق قائد حزب اختلاف خورشید شاہ ایوان میں پہنچ گئے اور اراکین اپوزیشن نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔

علاوہ ازیں اپوزیشن اور حکومتی اراکین باری باری خورشید شاہ سے ملاقاتیں کی جو پروڈکشن آرڈر پر رہائی ملنے کے بعد اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی قومی اسمبلی پہنچ گئے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو قومی اسمبلی کی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھیں۔

ان ڈائریکٹ کی بجائے ڈائریکٹ ٹیکس ہونے چاہیے، نوید قمر
اپوزیشن نشستوں پر موجود پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر میں بحث کا حصہ بنتے ہوئے حکومت کے ٹیکسیشن کے عمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکس میں امیر اور غریب کی تفریق کے بغیر سب کو برابر ٹیکس دینا ہوتا ہے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ زیادہ آمدن والے افراد سے ٹیکس وصولی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ معاشرے کے نیم متوسط اور متوسط طقبے پر ٹیکس کا زیادہ بوجھ نہ پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو ہرساں کرنے کا عمل کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تاکہ ٹیکس کی ادائیگی میں اضافہ ہو اور لوگوں کا اعتماد اداروں پر قائم ہو۔

سید نوید قمر نے کہا کہ اس وقت ملک کا کاروباری طبقہ پہلے ہی قومی احتساب بیورو (نیب) سے تنگ ہے اور اب ایف بی آر کو گرفتاری کے اختیارات دیے جا رہے ہیں اور کاروباری طبقہ کہے گا ایف بی آر سے بچاؤ، نیب کے حوالے کر دو۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فون آج کل کی عام ضرورت ہے جبکہ موبائل فون کالز پر ٹیکس لگانے سے عام آدمی متاثر ہو گا۔

Back to top button