ای وہیکل پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوں گی؟

پاکستان میں وفاقی حکومت نے بالآخر ای وہیکل پالیسی منظوری تو دیدی لیکن کیا الیکٹرک گاڑیوں کے عام ہوجانے سے بگ تھری یعنی سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا کی مارکیٹ پر اجارہ داری یا اسٹیٹس کو توڑنا ممکن ہوگا؟۔ اور کیا ملک میں گاڑیوں کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ میں آسکیں گی؟۔ دوسری جانب تین بڑے مینوفیکچررز کے پاس ای وہیکل بنانے کے پلانٹس ہی موجود نہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہو کیوں کہ پاکستان آٹو انڈسٹری ان کےلیے سونے کی کان تصور کی جاتی ہے۔
ای وہیکل پالیسی منظوری کے موقع پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ای وہیکل پالیسی سے آئندہ دس سے پندرہ برس میں پاکستان میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک پر منتقل ہو جائیں گی اور گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔
وفاقی حکومت سے منظور شدہ ای وہیکل پالیسی کے مطابق پاکستان میں بننے والی ای وہیکل پر کوئی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس لاگو نہیں ہوگا جب کہ مینوفیکچررز کو مراعات دینے کےلیے بھی صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ای وہیکل کے پرزے درآمد کرنے اور دو سال پرانی گاڑی درآمد کرنے پر ابتدائی طور پر 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ ای وہیکل پالیسی کے تحت تین ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنانے کا منصوبہ بھی پالیسی میں شامل ہے۔
ای وہیکل پالیسی کو جہاں ماحول دوست اور تیل کی کھپت کو کم کرنے کےلیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے وہیں حکومت یہ بھی دعویٰ کر رہی کہ اس سے ملک میں گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔ لیکن آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صد ایچ ایم شہزاد اس حکومتی دعوے سے متفق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کےلیے کسی پالیسی کی نہیں بلکہ اصل ذمہ داران پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جب تک نئی گاڑیوں کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کو نہیں روکا جاتا پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان موجود نہیں۔ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ پاکستان میں دس لاکھ گاڑیوں کی سالانہ کھپت ہے جب کہ مینوفیکچررز ڈھائی سے تین لاکھ گاڑیاں تیار کرتے ہیں جس سے ڈیمانڈ اور سپلائی میں ایک بڑا فرق پیدا ہونے سے گاڑیوں کی بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا اگر نئی گاڑی خریدنے جائیں تو چھ سے آٹھ ماہ کا وقت آپ کو دیا جاتا ہے لیکن اگر آپ کہیں کہ مجھے فوری گاڑی چاہیے تو اضافی رقم دینے کے بعد آپ کو فوری طور پر گاڑی دے دی جاتی ہے جو کہ پہلے سے سرمایہ کاروں نے منافع کمانے کےلیے بُک کی ہوئی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی، ڈیلرز اور سرمایہ کاروں کی ملی بھگت کے بغیر نئی گاڑیوں کی بلیک مارکیٹ میں فروخت ممکن ہی نہیں ہے۔ جب تک گاڑیوں کی پروڈکشن میں اضافہ اور بلیک مارکیٹ پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے گاڑیوں کی قیمت میں کبھی کمی نہیں آئی گی۔
پاک وہیلز کے چیئرمین سنیل سرفراز منج نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں سے پہلے پاکستان کے زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ای وہیکل پالیسی سے پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں کسی حد تک تو کمی آئے گی لیکن دیگر گاڑیوں کی قیمتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ سب سے بڑا مسئلہ چارجنگ اسٹیشنز کا ہے، جگہ جگہ آپ کو اسٹیشنز لگانا پڑیں گے لیکن سب سے زیادہ تیز چارجنگ اسٹیشنز پر بھی گاڑی چارج ہونے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگتا ہے اور یہ عام آدمی کےلیے ممکن نہیں کہ وہ گھنٹوں گاڑی جارچ کرنے کےلیے کھڑا رہے، گھر میں چارج کریں تو کبھی بجلی چلی جاتی ہے تو کبھی والٹیج کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ سنیل سرفراز حکومت کے تین ہزار چارجنگ اسٹیشنز لگانے کے ہدف کو بھی غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک گھنٹہ ایک گاڑی چارج ہونے میں لگے گا تو چارجنگ اسٹیشنز والے کتنا کمائیں گے، جب تک چارجنگ اسٹیشنز کا ایک ویسع نیٹ ورک نہیں ہوگا، پارکنگز میں، ہوٹلز وغیرہ ہر جگہ یہ سہولت جب تک نہیں ملے گی ہم الیکٹرک کی طرف نہیں جا سکتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دس سال بعد پاکستان میں 3 سے 5 فیصد الیکٹرک گاڑیاں مارکیٹ میں نظر آئیں گی اور اس سے دس فیصد تک گاڑیوں کی قیمت میں کمی آ سکتی ہے۔ ابھی یہ ایلیٹ کی گاڑیاں ہیں، جب تک ایک عام آدمی کےلیے آسان نہیں بنائیں گے اس کے ثمرات نہیں آئیں گے، دس سال بعد کچھ گاڑیاں مارکیٹ میں آئیں گی جب لوکل مینوفیکچرنگ شروع ہو جائے اور اس سے قیمتوں میں دس فیصد کمی آسکتی ہے۔
آل پاکستان کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ایچ ایم شہزاد کے مطابق پاکستان میں تین بڑے مینوفیکچررز کے پاس ای وہیکل بنانے کے پلانٹس ہی موجود نہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہاں گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی ہو کیوں کہ پاکستان آٹو انڈسٹری ان کےلیے سونے کی کان تصور کی جاتی ہے۔
پاکستان الیکٹرک وہیکلز اینڈ پارٹس مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل شوکت قریشی پُرامید ہیں کہ ای وہیکل پالیسی کے ثمرات 5 برس بعد ملنا شروع ہوں گے۔ 2024 میں تین بڑی کمپنیاں جو اس وقت پاکستان میں اسمبلنگ کر رہی ہیں وہ بھی ای وہیکل گاڑیاں تیار کرنا شروع کر دیں گی جس کے بعد کافی حد تک اس ٹیکنالوجی کی طرف لوگ آنا شروع ہو جائیں گے۔ شوکت قریشی کے مطابق اس وقت پاکستان میں ای وہیکل گاڑیاں اسٹیٹس سیمبل بن چکا ہے۔ اور جو گاڑیاں موجود ہیں وہ ڈیڑھ دو کروڑ کی گاڑیاں ہیں لیکن مارکیٹ میں عام آدمی کی سب سے زیادہ ڈیمانڈ ہزار سی سی سے کم گاڑیوں کی ہے۔ اور وہ مارکیٹ کی 75 فیصد ڈیمانڈ کو پورا کر رہی ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان میں ایک ہزار سے کم سی سی کی گاڑیوں جیسی الیکٹرک گاڑی 15 سے 17 لاکھ روپے میں دستیاب ہوگی، اور ان گاڑیوں کی چارجنگ کا مسئلہ بھی نہیں ہوگا کیوں کہ چھوٹی گاڑیاں ’پلگ ان‘ ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں اور کہیں بھی چارج کی جا سکتی ہیں چاہے وہ گھر ہو یا کوئی خاص پارکنگ۔ بڑی گاڑیوں کےلیے چارجنگ اسٹیشن کی ضرورت ہوگی لیکن جب مینوفیکچررز زیادہ ہوں گی تو چارجنگ اسٹیشنز بھی ہوں گے۔ شوکت قریشی کے خیال میں 2021 میں چار ہزار سے پانچ ہزار گاڑیاں پاکستان میں آجائیں گی جو کہ اگلے تین چار سال میں بڑھ کر 30 ہزار تک چلی جائیں گی لیکن جب لوکل پروڈکشن شروع ہوگی تو گاڑیاں سستی ہوں گی لیکن تب تک باہر سے ہی گاڑی درآمد کی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا انقلاب الیکٹرک بسیں لائیں گی جس کی وجہ سے سب سے زیادہ تیل کی کھپت میں کمی ہوگی اور پاکستان میں بسیں بنانے کا پلانٹ آئندہ سال کام کا آغاز کر دے گا۔ اس کے علاوہ فروری تک الیکٹرک بسیں چین سے بھی درآمد کر دی جائیں گی جس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی اور ایندھن کی کھپت بھی کم ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button