ای وی ایم سسٹم کے تحت الیکشن 150 ارب میں پڑے گا


معلوم ہوا ہے کہ الیکٹرونک ووٹنگ مشین سسٹم کے تحت اگلے الیکشن کروانے کی صورت میں قومی خزانے پر 150 ارب روپے کا بوجھ
پڑے گا جبکہ الیکشن 2018 پر خرچ ہونے والی کل رقم صرف 25 ارب روپے تھی۔ یعنی نئے سسٹم کے تحت الیکشن کروانے کی صورت میں انتخابی اخراجات پچھلے الیکشن کی نسبت کئی سو گنا بڑھ جانے کا امکان ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے ای وی ایم سسٹم پر کیے جانے والے اعتراضات ایک تفصیلی رپورٹ کی صورت میں ڈیڑھ برس پہلے وفاقی حکومت کو بھیج دئیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے دونوں ایوانوں کوخطوط بھی لکھے تھے اور یاد دہانی بھی کروائی تھی.
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے قابل استعمال نہ ہونے بارے میں الیکشن کمیشن کے جو تحفظات سامنے آئے تھے ان میں ای وی ایم کے استعمال پر اٹھنے والے کئی سو گناہ زیادہ اخراجات بھی تھے۔ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ الیکٹرانک مشین سسٹم کے تحت انتخابات کے انعقاد پر 150 ارب روپے کی لاگت آ سکتی ہے جبکہ الیکشن 2018 صرف 25 ارب روپے کی لاگت سے سے کروائے گے تھے چنانچہ کمیشن نے 150 ارب سے زائد کے اخراجات کو ایک فضول ایکسرسائز قرار دیا تھا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں وفاقی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ ایک مشین کا خرچہ 2 لاکھ روپے ہے اور الیکشن کروانے کیلئے 2 سے 3 لاکھ آئی ٹی ماہرین کی بھی ضرورت پڑے گی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ الیکشن 2023 کے لئے 8 لاکھ مشینیں منگوانا پڑیں گی، لیکن کسی مشین کی چپ گم ہو جانے کی صورت میں الیکشن نتائج تبدیل ہونے کا بھی خدشہ ہو گا جبکہ مشینوں کو انتخابی حلقوں تک پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہوگی۔ اسکے علاوہ مشین پر غلط ووٹ کاسٹ ہونے کی صورت میں دوبارہ ووٹ کاسٹ کرنے کی سہولت نہیں ملے گی۔ کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ ای وی ایم حکومت نے خود نہیں بنائی، بلکہ ایک نجی کمپنی نے بنائی ہے جو دیگر بین الاقوامی مشینوں سے بہت کم محفوظ ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایک اور مسئلہ یہ بتایا کہ ای وی ایم کے استعمال کیلئے لمبے عرصے تک بڑی تعداد میں سٹاف کو ٹریننگ کی ضرورت ہو گی، اسکے علاوہ ای وی ایم کے ہر بوتھ پر استعمال کیلئے الگ مین پاور کی ضرورت ہو گی
ہر پولنگ بوتھ پر پریذائیڈنگ افسران اور سٹاف کو مکمل ٹرین کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہے، ہر پولنگ سٹیشن پر 2 سے 3 آئی ٹی کے افراد بھی تعینات کرنا ہوں گے۔ کمیشن نے حکومت کو مزید آگاہ کیا تھا کہ گزشتہ الیکشن میں 86 ہزار پولنگ سٹیشن بنے، جبکہ آئندہ الیکشن میں 1 لاکھ پولنگ سٹیشن بنائے جانے کا امکان ہے، لہذا ای وی ایم سسٹم سے الیکشن کروانے کے لیے کم سے کم تین لاکھ آئی ٹی ماہرین کی ضرورت پڑے گی جس سے لہ اضافی خرچہ ہوگا۔ اسی طرح گزشتہ الیکشن میں کل پولنگ بوتھ 2 لاکھ 40 ہزار تھے جبکہ آئندہ الیکشن میں 3 لاکھ ہونے کا امکان ہے۔ ہر پولنگ بوتھ پر قومی اور صوبائی اسمبلی کیلئے الگ الگ مشین رکھنا پڑے گی، حلقہ میں 20 امیدواروں کے زیادہ ہونے کی صورت میں ایک الگ مشین رکھنا پڑے گی، انتخابات میں تقریبا آدھے حلقوں میں 20 سے زیادہ امیدوار سامنے آتے، ایسی صورت میں کم سے کم ایک لاکھ اضافی مشینیں خریدنا پڑیں گی، اسکے علاوہ مشینوں کے اچانک خراب ہونے کے خطرے کے پیش نظر ایک لاکھ ایکسٹرا مشینیں لینا ہوں گی، لہذا کم سے کم 8 لاکھ ای وی ایم مشینیں خریدنا ہوں گی، ایک مشین کی لاگت ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے آئے گی اور یہ لاگت اربوں میں چلی جائے گی۔ لہذا الیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم کے تحت اگلے الیکشن کروانے کی مخالفت کر دی تھی جس کے بعد حکومتی وزراء نے چیف الیکشن کمشنر پر الزامات کی بارش کر دی۔

Back to top button