سیاستدانوں کے لیے طاقت کا سر چشمہ عوام نہیں، فوج ہے


سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عوام سے حقیقی رابطہ رکھنا اب نہ تو ہماری سیاسی جماعتوں کا مسئلہ رہا ہے اور نہ ہی انکی ترجیح رہ گئی ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ طے کرلیا گیا ہے کہ اقتدار کا حقیقی منبع عوام کے بجائے چند طاقتور ریاستی ادارے ہیں۔ یعنی بھائی لوگوں کی نوکری کرتے رہو اور ان سے اقتدار میں حصہ لینے کی کوشش میں مگن رہو۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان میں سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کی کہانی بھی اسی لئے مقبول ہوئی کہ سلیکٹرز کی جانب سے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے آفس تک پہنچانے ہوئے سب نے دیکھا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کے اصل ’’مالکوں‘‘ کا یہ فیصلہ عملی اعتبار سے سب نے سرجھکا کر مان بھی لیا۔ بقول نصرت، کچھ عرصہ بعد کپتان کے سیاسی مخالفین یہ امید باندھنا شروع ہو گئے کہ بالآخر عمران خان کو لانے والے ان سے ناراض ہوجائیں گے اور پھر سے ہمارا چانس بن جائے گا۔ یہ سوچا گیا کہ اپوزیشن جماعتوں کی لاٹری بھی تب ہی نکلے گی جب مسند اقتدار پر بٹھانے والے ہی نکالنے کا فیصلہ بھی کریں گے اس لیے ہمیں بلاوجہ زور لگانے کی ضرورت نہیں۔ پھر نئے آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی کے عمل میں تاخیر شروع ہوئی تو ’’تھا جس کا انتظار‘‘ والا ماحول بن گیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف قومی اسمبلی میں دوبارہ سے متحرک ہوگئے۔ ان کی کوششوں سے حکومت کو دو مرتبہ قومی اسمبلی میں ہونے والی گنتی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد یہ بھی فرض کرلیا گیا کہ عمران خان پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں دکھائیں گے اور ان قوانین کو لاگو کرنے کی ضد بھلادیں گے جنہیں وہ صاف شفاف انتخابی نظام کے لئے لازمی سمجھتے ہیں حالانکہ بست اس کے الٹ ہے۔ تاہم اپوزیشن کے سب اندازے غلط ثابت ہوئے اور عمران خان نے نہ صرف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوبارہ بلا لیا بلکہ 33 متنازعہ بل بھی پاس کروا لیے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ روزمرہّ زندگی کے مسائل سے پریشان ہوئے پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح مجھے بھی عمران حکومت کے استحکام یا عدم استحکام میں خاص دلچسپی نہیں۔ میں نے تمام عمر صحافت میں گزاری یے اور میرے رزق کا واحد وسیلہ صحافت ہی ہے۔ اندھی نفرت وعقیدت کے موجودہ دور میں اگرچہ اس دھندے سے وابستہ رہنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ لیکن موجودہ دور میڈیا کیلئے مشکل ترین بھی ہے اور بدترین بھی۔ حکومت فقط اپنے بیانیے کو شدت سے فروغ دینا چاہ رہی ہے۔ تنقید برداشت نہیں کرتی۔ آزادمنش صحافیوں کو بکائو ٹھہراتی ہے جن میں سے اکثر پر وطن عزیز میں جھوٹی خبروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں بھی صحافیوں سے خوش نہیں۔ وہ انہیں حکومتی دبائو سے سہم جانے کے طعنے دیتی ہیں۔ اس تصور کو ہم میں سے اکثر ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ والے رویے سے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں کافی دنوں سے نہایت سنجیدگی سے وطن عزیز میں جاری سیاست نامی شے کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ سنا تھا کہ ایک حکومت ہوتی ہے اور اس کی مخالف اپوزیشن جماعتیں ہوتی ہیں۔ حکومت اپنی توجہ ایسے اقدامات پر مرکوز رکھتی ہے جو عوام کو استحکام اور خوش حالی کی جانب بڑھنے کا گمان فراہم کریں۔ حکومت کی مخالف جماعتیں اس کے برعکس عوامی مسائل اجاگر کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ اس کے علاوہ شاید کوئی نظریہ نام کی شے بھی ہوتی ہے۔ لیکن میں سیاسی اُفق پر چھائی سیاسی جماعتوں کی ساخت اور رویے پر غور کرتا ہوں تو ان کی ’’نظریاتی‘‘ پہچان یا تخصیص کا تعین دشوار محسوس ہوتا ہے۔ حکمران جماعت سمیت اپوزیشن میں بیٹھی دونوں بڑی جماعتیں بھی بنیادی طورپر نام نہاد الیکٹ ایبلز پر مشتمل ہیں۔ یہ جماعتیں بھی ایسے خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو برطانوی دور سے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے سرکاری سرپرستی کو یقینی بنانے کے لئے انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے طاقت ور دھڑے ہیں اور ڈیرے داری کی روایت بھی نبھانا ہوتی ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری ایسی اشرافیہ کا حقیقی مسئلہ نہیں۔ وہ اس سے ہرگز پریشان نظر نہیں آتے۔ لیکن ووٹروں کو مطمئن رکھنے کے لئے عام آدمی کے مسائل پر تقریر ہر صورت کرتے ہیں۔
پارلیمان میں بیٹھے افراد خواہ حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہوں یا اپوزیشن میں اگر واقعتا عوام کے حقیقی مسائل کے بارے میں فکر مند ہوتے تو ڈاکٹر حفیظ شیخ جیسے ٹیکنوکریٹ آئی ایم ایف سے ایسا معاہدہ نہ کر پاتے جس نے روزمرہّ ضرورت کی اشیاء اور بجلی اور گیس کے نرخوں میں ناقابل برداشت اضافے کر دیا ہے۔ ان کی جگہ آنے والے شوکت ترین بھی قومی اسمبلی یا سینیٹ میں پیش ہوکر تفصیل سے یہ بتانا لازمی محسوس نہیں کرتے کہ آئی ایم ایف نے ہماری معیشت کو توانا رکھنے کے لئے 500 ملین ڈالر کی جو قسطیں دینا تھیں وہ ابھی تک کیوں نہیں ملیں۔ وہ مل رہی ہوتیں تو ہمارے خزانے میں اب تک ایک ارب ڈالر آچکے ہوتے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ یہ رقم چند شرائط کی وجہ سے رکے ہوئی یے۔ حکومت ان پر عملدرآمد سے ہچکچارہی ہے۔ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کو مگر خبرہی نہیں کہ وہ شرائط کیا ہیں اور ان پر عملدرآمد سے حکومت کیوں گھبرارہی ہے۔ آئی ایم ایف کے خلاف اپوزیشن میں بیٹھے لوگ تقاریر تو مسلسل جھاڑتے ہیں۔ اپنے دور اقتدار میں لیکن وہ اکثر عطار کے اسی لڑکے سے شفایابی کی امید باندھتے رہے۔ اپنے تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے ایسی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے نظر نہیں آتے جو آئی ایم ایف پر انحصار کو مکمل ختم کرنے کے بجائے اسے کم سے کم تر بنانے کی راہ دکھائے۔ لہذا مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کا آج جو حال ہو رہا ہے اس سے کچھ مختلف ہونا ممکن نہیں تھا۔

Back to top button