اے آر وائے کپتان کا ‏ ماؤتھ پیس بن کر کیسے تباہ ہوا؟

عمران خان کے ماؤتھ پیس سمجھے جانے والے نیوز چینل اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال اور ان کے کچھ اینکرز نے ذاتی مراعات حاصل کرنے کی خاطر ہزاروں چینل ملازمین کی نوکریاں داؤ پر لگا دی ہیں۔ نجم سیٹھی کی زیرادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ فرائیڈے ٹائمز میں عمر اظہر بھٹی لکھتے ہیں کہ یہ سارا کھیل پیسے، طاقت اور ذاتی مفادات کا ہے۔
تحریک انصاف اور اے آر وائے کی حالیہ محبت کی داستان کے پیچھے نہ صحافت ہے اور نہ آزادی اظہار کا کوئی عظیم مقصد بلکہ یہ سب پیسے کے لئے ہو رہا ہے۔ اگر بات صحافت یا اظہار کی آزادی کی ہوتی تو اے آر وائے یوں عمران خان کا لاؤڈ سپیکر نہ بنا ہوا ہوتا۔ سوال یہ یے کہ لائیٹنگ سے لے کر انٹرویوز تک ہر جگہ اے آر وائے ہی کیوں آگے آگے ہے؟ انکا کہنا یے کہ سلمان اقبال کے ایما پر اس چینل نے غیر ملکی سازش سے امپورٹڈ حکومت لانے کا عمرانی الزام ‘نیوٹرلز’ پر یوں ڈالا جیسے اس سے بڑا سچ اور کوئی نہ ہو۔
اپنی تحریر میں عمر اظہر بھٹی کا کہنا یے کہ بدقسمتی سے ARY بادشاہ گر بننا چاہتا تھا، اور اسی چکر میں صحافتی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ حد تو یہ ہے کہ چینل میں نیوز کا انچارج ایک ایسا غیر صحافی شخص تھا جو پہلے مارکیٹنگ کرتا تھا اور بعد میں ایک کھانا پکانے کے شو کا میزبان رہا۔ اس شخص کے کال ریکارڈز سے واضح ہے کہ وہ PTI کی فوج مخالف مہم چلا رہا تھا۔ لیکن سوالنیہ یے کہ کیا ARY یہ سب کچھ صحافت کی آزادی کے لئے کر رہا تھا؟ جی نہیں۔ یہ صرف عمران خان کے اس احسان کا بدلہ اتار رہا تھا جو اس کے مالک کو 23 مارچ کو صدارتی تمغے کی صورت میں دیا گیا تھا جو کہ ملک کا سب سے بڑا سولین ایوارڈ ہے۔
یہی ایوارڈ PTI حکومت کے دوران بیرون ملک فرار اور جانے والے بھگوڑے اینکر ارشد شریف کو بھی دیا گیا تھا، سلمان اقبال کو FBR سے ٹیکس میں چھوٹ بھی لے کر دی گئی۔ سلمان اقبال وہ واحد میڈیا مالک تھا جس نے عمران خان کے ساتھ روس اور اقوامِ متحدہ کے دورے کیے۔ صرف PCB کی جانب سے دیے گئے میچ دکھانے کے حقوق کی جو کہانی مریم اورنگزیب نے بیان کی ہے، وہی سلمان اقبال کی عمران سے محبت سمجھانے کے لئے کافی ہے۔ PTI دورِ حکومت میں ARY کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا، یہ بھی ایک بڑا سکینڈل یے۔ اے آر وائے سے منسلک دیگر افراد پر عمران نے کیا کیا نوازشات کیں، ان کی حقیقت بھی جلد سامنے آئے گی۔ اے آر وائے عدالتوں، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کو الزامات لگا کر دباؤ میں لایا اور PTI کے بیانیے کو فروغ دے کر اس کو بھی اپنے ساتھ رکھا۔
عمر اظہر بتاتے ہیں کہ اے آر وائے نے دسمبر 2021 میں ارشد شریف کا ایک پروگرام چلایا جس میں اس نے کہا کہ ہر ادارے کا سربراہ یا تو احسانات تلے دبا ہوا ہے، یا سمجھوتے کر چکا ہے یا پھر کرپٹ ہے۔ پھر پورے سوشل میڈیا پر اس پروگرام کے کلپس کو پھیلایا گیا۔ ارشد شریف نے اس کے بعد دو گانے چلائے جو براہِ راست عدلیہ کو ٹارگٹ کر رہے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ عدلیہ ہی پاکستان میں ہونے والی ہر ناانصافی اور غلط کاریوں کی ذمہ دار ہے۔ ارشد شریف اور ARY نے باقاعدہ پی ٹی آئی کے حق میں مہم شروع کر دی۔ اس دوران ارشد شریف جیسے نام نہاد اینکرز نے اپنے ماضی کے وہ تمام پروگرام بھی بھلا دیئے جو وہ خود PTI اور اس کے چیئرمین کی بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے کر چکا تھا۔ ارشد شریف نے عمران کے سابق مشیر برائے سلامتی معید یوسف کے خلاف کیے جانے والے اپنے وہ پروگرام بھی بھلا دیئے جن میں موصوف کو امریکہ کا ایک اثاثہ قرار دیا گیا تھا، ان پروگرامز کے ردعمل میں پی ٹی آئی نے ارشد شریف کے خلاف ٹرینڈ بھی چلائے اور ان کا نام بگاڑ کر چار ٹانگوں والے جانور کے نام پر رکھ دیا تھا۔
عمران اظہر بھٹی یاد آتے ہیں کہ اے آر وائے نے ’’وہ کون تھا‘‘ کے عنوان سے ایک سیگمنٹ بھی چلایا جس میں اداروں کے خلاف براہِ راست الزامات لگائے گئے۔ اس نے ایک نیا کام یہ کیا کہ اپنے چینل پر اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے پروگرام کرنے شروع کر دیئے، اس چینل سے منسلک صحافیوں بے PTI کے ٹرینڈز میں حصہ لینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ عدلیہ، دفترِ خارجہ، انٹیلی جنس اداروں سمیت تمام قومی اداروں کی جانب سے واضح کئے جانے کے باوجود کہ انہیں کسی بیرونی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے، اے آر وائے عمران خان کی ‘نکلو پاکستان کی خاطر’ نامی مہم چلاتا رہا۔ اس چینل کے نیوز روم اور اینکرز کو اجازت نہیں تھی کہ وہ PTI کے علاوہ کسی بھی نقطۂ نظر سے اتفاق کریں۔ اگر کسی اینکر نے توازن رکھنے کی کوشش کی تو یا تو اسے ایئر ٹائم دیا ہی نہیں گیا، یا ہھر دیا بھی گیا تو انتہائی کم۔ اگر آے آر وائے کا کوئی صحافی PTI سے ہٹ کر لائن لیتا تو اسے فوری ٹرانسمیشن سے نکال دیا جاتا۔
عمران اظہر بتاتے ہیں کہ اے آر وائے نے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں بیان کے حوالے سے جھوٹی خبر چلائی کہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جس کی بعد انہوں نے خود اس جھوٹ کی تردید جاری کی۔ لیکن آے آر وائے نے میڈیا کو جاری پریس ریلیز کو بھی پی ٹی آئی کے حق میں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی اور یہ تائثر دیا کہ اداروں نے سازش کے الزام کو تسلیم کیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ ایسے میں عمران کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے فوج میں بغاوت پھیلانے پر مبنی گفتگو کوئی انوکھا واقعہ نہیں بلکہ اسی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت داروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 15 منٹ کا لائیو بیپر ٹی وی جنرنلزم میں ایک نیا ریکارڈ ہے جس میں نہ تو شہباز گل کو روکا گیا اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔ اے آر وائے نے ان کی فوج مخالف گفتگو روکنے کے لئے تاخیری میکنزم کا بھی استعمال نہیں کیا۔
اگر ہم نومبر 2021 کے بعد سے اے آر وائے کی ٹرانسمیشن دیکھیں تو یہ واضح ہے کہ اس نے اپنا اثر و رسوخ اداروں پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کیا۔ اس نے ہمیشہ مخالف میڈیا ہاؤسز پر الزامات لگائے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہ چینل پاکستان سے باہر ہتکِ عزت کی درجن سے زائد مقدمات ہار چکا ہے۔ بدقسمتی سے اب تک ریاستی ادارے ARY کو بچاتے آئے ہیں اور اس نے کبھی حقیقی احتساب کا مزا نہیں چکھا۔ عمر اظہر بھٹی کا کہنا یے کہ آج ARY کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے ذمہ دار صرف اس کے مالکان اور چند اینکرز ہیں جنہوں نے اپنی مراعات کی خاطر ہزاروں ساتھیوں کی ملازمتوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ لہذا وقت آ گیا ہے کہ اس تناظر میں فوری تحقیقات کی جائیں اور جو لوگ اظہار کی آزادی اور صحافت کے نعروں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، ان کا احتساب کیا جائے۔ وقت آ گیا ہے کہ صحافی اور ان کی تنظیمیں اپنے درمیان موجود ان کالی بھیڑوں کو بھی پہچانیں جو صحافت کے نام پر ایک دھبہ بن چکی ہیں۔

Back to top button