باجوہ خاندان کا ڈیٹا لیک کرنے پر SECP افسر کی جبری چھٹی

حکومت نے عیدالاضحیٰ کے روز چھٹی والے دن سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دفاتر کو کھلوا کر عاصم سلیم باجوہ خاندان کی ملکیتی کمپنیوں کے ویب ڈیٹا میں ہیر پھیر کرنے کے الزامات کی انکوائری کروانے کی بجائے ان سرکاری افسران کے خلاف انکوائری تیز کر دی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر سینئر صحافی احمد نورانی کو باجوہ خاندان کے بیرون ملک اربوں کے اثاثوں کے حوالے سے خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ ایس ای سی پی کے ایسے ہی ایک افسر کو عاصم باجوہ خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات لیک کرنے کے جرم میں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سینئر صحافی احمد نورانی نے ایک غیر ملکی ویب سائٹ فیکٹ فوکس میں شائع شدہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کے قریبی معتمد اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے بیرون ملک ایک سو کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ اثاثے موجود ہیں جن میں عاصم باجوہ کی فوج میں ترقی کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا۔ احمد نورانی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ جب انہوں نے اس رپورٹ کی تیاری کے سلسلہ میں عاصم باجوہ سے رابطہ کیا تو عید الاضحی کے روز چھٹی والے دن ایس ای سی پی کے بند دفاتر کو کھلوا کر مبینہ طور پر باجوہ خاندان کی کمپنیوں کے ڈیٹا میں ہیر پھیر کیا گیا۔ تاہم بجائے کہ حکومت ان سنگین الزامات کی انکوائری کرواتی، وزیراعظم عمران خان نے ایس ای سی پی کے ان حکام کی انکوائری کروانے کا حکم جاری کردیا جنہوں نے عاصم باجوہ کے خاندان کے اثاثوں کے حوالے سے حساس معلومات میڈیا کو لیک کیں۔ یاد رہے کہ عاصم باجوہ نے یہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا لیکن عمران خان نے ان کا استعفیٰ مسترد کر دیا۔
دوسری طرف ایس ای سی پی پالیسی بورڈ نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے باجوہ خاندان کے اثاثوں بارے حساس معلومات کی چوری سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ایس ای سی پی کمشنر سعدیہ خان کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی 28 اگست کو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق خبر شائع ہونے کے ایک روز بعد تشکیل دی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ایس ای سی پی نے فیصلہ کیا ہے کہ حقائق سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ کو پالیسی بورڈ میں پیش نہیں کی جائے گی بلکہ ایس ای سی پی کے ہنگامی اجلاس میں پہلے پیش کی جائے گی۔ ایس ای سی پی کے ایک سینئر ایگزیکٹو نے کہا کہ ’رپورٹ کو لے کر ہر طرف خدشات ہیں اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہے کہ ایس ای سی پی کا پہلے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں چند ہی متعلقہ عہدیدار موجود ہوں گے‘۔ کمیشن کے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم آفس نے بھی ایس ای سی پی سے رپورٹ کی کاپی پیش کرنے کو کہا تھا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایس ای سی پی کی کمشنراور حقائق سے متعلق کمیٹی کی سربراہ سعدیہ خان کی طرف سے کمیشن کو ڈیجیٹل پریزنٹیشن دی جائے گی اور اس کے بعد اس رپورٹ کی صرف ایک ہارڈ کاپی چھاپ دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن کے اجلاس سے منظوری کے بعد انکوائری رپورٹ کی کاپی کو سیل بند لفافے میں وزیر اعظم سیکریٹریٹ کو بھیجا جائے گا۔ ایس ای سی پی پالیسی بورڈ کے چیئرمین مسعود نقوی اور پالیسی بورڈ کے ممبر خالد مرزا نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کو عام کیا جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ پالیسی بورڈ نے ایس ای سی پی کو ہدایت کی کہ سیکیورٹیز ایکٹ 2015 کے مطابق غیر سرکاری عہدیداروں کی معلومات کا رساو یا چوری ایک مجرمانہ جرم تھا۔
پالیسی بورڈ کے ایک رکن نے دعویٰ کیا کہ چونکہ سابقہ چیئر مین ظفرحجازی ، طاہر محمود اور ظفر عبد اللہم کے دور میں زیادہ تر ملازمین کو شامل کیا گیا تھا ان میں سے بیشتر کی سیاسی وابستگی ہے۔ ایس ای سی پی کی ابتدائی معلومات کے بعد محکمہ آئی ٹی نے اطلاع دی تھی کہ مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر ایس ای سی پی کے ڈیٹا بیس میں غیر متعلقہ طور پر لاگ ان ہوئے تھے۔ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی نگرانی اور اس کا پتہ لگائے۔ مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ نے نادرا ڈیٹا تک بھی رسائی کی اجازت دی ہے اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ارسلان ظفر نے نادرا کے اعداد و شمار پر بھی لاگ ان کیا اور معلومات کو جمع کیا جس میں ریٹائرڈ جنرل عاصم باجوہ کے کنبہ کے ممبروں کے سی این آئی سی نمبر بھی شامل تھے۔ ارسلان ظفر کا لیپ ٹاپ ضبط کرلیا گیا ہے اور انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔
