اپوزیشن کیAPC جاری، نواز شریف اورآصف زرداری کی شرکت

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے کثیر الجماعتی کانفرنس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری ہے، جس سے سابق صدر آصف علی زرداری نے ابتدائیہ خطاب کیا۔
اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان پیپلزپارٹی کی زیر قیادت ہونے والی اس کثیر الجماعتی کانفرنس میں پی پی رہنما شیری رحمٰن کے مطابق 12 جماعتوں کے نمائندے شریک ہیں، تاہم اپوزیشن میں موجود جماعت اسلامی نے اس کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت سے پہلے ہی انکار کردیا تھا۔آج ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہیں۔اس کثیرالجماعتی کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک شرکا سے خطاب کریں گے۔
نواز شریف کے علاوہ سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی بذریعہ ویڈیو لنک ابندائیہ خطاب کر رہے ہیں۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے بذریعہ ویڈیو لنک اپنے خطاب میں سب سے پہلے سابق وزیراعظم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بلاول کی دعوت پر اے پی سی میں شرکت کی، ساتھ ہی انہوں نے سابق وزیراعظم کی صحت کے لیے بھی دعا کی۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، مولانا نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں، میرا انٹرویو پارلیمنٹ سے بند کیا جاسکتا ہے لیکن وہ آمر جو بھاگا ہوا ہے اس کا انٹرویو دکھانا ان کے لیے ناپاک نہیں ہے۔دوران خطاب سابق صدر کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ہم جمہوریت پر یقین رکھنے والے سب ناکام ہیں، ہمیں پیمرا کی ضرورت نہیں ہے، لوگوں کو پتہ ہے وہ ہمیں سن رہے ہیں اور سنتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب سے ہم سیاست میں ہیں ہم نے کبھی اتنی پابندیاں نہیں دیکھیں، ایک چینل کے سی ای او کو جیل میں ڈالا ہوا جبکہ ایک چینل کو لاہور سے بند کیا ہوا ہے، یہ سب حکومت کی کمزوریاں ہیں، آج کل کی میڈیا کو بند کرنا یا رکھنا تقریباً نامکمل ہے کیونکہ آج کل ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرتا ہے۔
اس موقع پر مریم نواز کو قوم کی بیٹی کہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں انہوں نے کتنی تکلیف سہی ہوگی کیونکہ میری بہن اور بیوی نے بھی یہ سب کچھ دیکھا تھا، تاہم ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کے مقصد کے لیے لڑتے رہیں گے۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ ہماری کوئی پہلی کثیر الجماعتی کانفرنس نہیں ہے، اس سے قبل بینظیر بھٹو نے سعودی عرب جا کر نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی کیا تھا جس سے ہم نے ایک ہم آہنگی بنائی تھی اور مشرف کو گھر بھیجا تھا جبکہ 18ویں ترمیم بھی پاس کی تھی۔
18ویں ترمیم کو پاکستان کے آئین کے گرد ایک دیوار کہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افسوس ناسمجھ لوگ، سیاسی بونے، جنہیں سیاست کا پتا نہیں ہے، سلیکٹڈ وزیراعظم کی سوچ سمجھیں ایک میجر کی سوچ ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ 1973 سے ذوالفقار علی بھٹو، ولی خان، مولانا مودودی اور اس زمانے کے لیڈروں سے زیادہ ہوشیار ہیں جبکہ ان سب نے مل کر 1973 کا آئین بنایا تھا اور ہم نے انہیں کہ نقش قدم پر چل کر 18ویں ترمیم بنائی۔مجھے لگتا ہے اس ‘اے پی سی کے بعد پہلا بندہ میں ہی جیل میں ہوں گا لیکن مولانا فضل الرحمٰن آپ ملنے آیئے گا’۔انہوں نے کہا کہ میری اے پی سی کے دوستوں سے گزارش ہوگی کہ وہ ایسا لائحہ عمل طے کریں جس سے ہم جمہوریت کو آگے بڑھا سکیں۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم صرف حکومت گرانے نہیں آئے بلکہ ہم مل اس حکومت کو نکال کر جمہوریت بحال کرکے رہیں گے۔
میزبان پیپلپزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے وہاں موجود ہیں جبکہ ان کی جماعت کے دیگر رہنماؤں میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، نیر بخاری، نوید قمر،شیری رحمٰن، فرحت اللہ بابر، نفیسہ شاہ و دیگر بھی موجود ہیں۔اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کا وفد پارٹی صدر شہباز شریف کی قیادت میں کثیر الجماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچ گیا ہے۔وفد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز، خواجہ آصف، احسن اقبال، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ، امیر مقام اور مریم اورنگزیب شامل ہیں۔اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین و رہنما بھی اس کثیر الجماعتی کانفرنس میں شریک ہیں۔
