آل پارٹیز کانفرنس: حکومت مخالف ملک گیرتحریک شروع کرنے پرغور

ملک بھر میں اپوزیشن کی طرف سے بلائی گئی اے پی سی میں 12 جماعتوں کا میثاق جمہوریت کی طرح کا نیا معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔پیپلز پارٹی کی اے پی سی اسلام آباد میں جاری، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت گرانے کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا مطالبہ کرے گی.
اپوزیشن کی اے پی سی اہم اس لیے ہے کہ اس میں بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے رہنما میاں نواز شریف اس کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کانفرنس کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات اور دیگر اہم جماعتوں کے ارکین سے ٹیلی فون پر رابطے کیے۔اس کے بعد میاں نواز شریف کی جانب سے آج ہی بنائے گئے ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ بھی کی گئی جس میں پیغام تھا ’ووٹ کو عزت دو۔‘
ووٹ کو عزت دو 🇵🇰
NS— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) September 19, 2020
پی پی پی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ سنیچر کو ایک پریس کانفرس کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں بتایا کہ مشترکہ حکمت عملی کے تحت ساری جماعتیں اکھٹی ہو کر اس حکومت سے نجات کا راستہ تلاش کریں گی۔ادھر پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق بلز کی پارلیمان میں متفقہ منظوری ملک کو ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے بے حد اہم ہے۔ حکومتی نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کو الجھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔پاکستانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانون سازی کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سازی صرف ایف اے ٹی ایف کی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ حکومت مخالف افراد کو نشانہ بنانے کے لیے بھی کی گئی ہے۔
دوسری طرف 19 ستمبر کو وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کہ ہمراہ مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق بلز کی پارلیمنٹ کی جانب سے حال ہی میں دی گئی متفقہ منظوری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی امور کے اندر ایسی شقوں کی ضرورت تھی کہ جس کے ذریعے مالی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کو روکا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں جانے کا خطرہ تھا اور ہمارے پاس دو راستے تھیں کہ ’اس سے نکل جائیں یا بلیک لسٹ میں چلے جائیں اور ہمیں یہ دیکھنا تھا کہ ان میں سے کیا بہتر ہے جبکہ دوسری طرف اپوزیشن کی یہ کوشش تھی کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کے لیڈرز کے لیے کیا اہم ہے۔‘انھوں نے کہا کہ سینیٹ میں ہماری اکثریت نہیں ہے اور حکومت نے کوشش کی کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں۔ اس سال کے دوران گذشتہ مہینوں میں تیزی آئی اور اپوزیشن نے اس میں 34 ترامیم تجویز کیں۔ لیکن عوامی دباؤ کی وجہ سے ان کا یہ مطالبہ ختم ہو گیا۔‘شہزاد اکبر نے بتایا کہ مذاکرات میں اپوزیشن کی سوئی اینٹی منی لانڈرنگ بل پر آ کر اٹک گئی۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن رہنما اپنے کیسز بند کروانا چاہتے تھے۔ ’حکومت نے ایک ڈرافٹ تیار کیا، اسے مذاکرات کے لیے اپوزیشن سے شیئر کیا گیا اور ان تمام مذاکرات کے دوران ان کی نیت واضح ہو گئی۔‘اے پی سی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ اس میں اپوزیشن مطالبہ کرے گی کہ ملک میں احتساب کا عمل روک دیا جائے، 19 ویں ترمیم میں تبدیلی کی جائے۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کے وزرا اور وزیراعظم کے مشیروں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ اے پی سی کے ذریعے اپوزیشن جماعتیں عوام کو کنفیوژن میں مبتلا کرنا چاہتی ہیں۔شہزاد اکبر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف مفرور مجرم ہیں اور اس حوالے سے پیمرا کا ضابطہ اخلاق اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ خطاب نہیں کر سکتے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کل نواز شریف خطاب کریں گے تو کیا کیا جائے گا تو ان کا جواب تھا ’قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘ادھر ٹوئٹر پر بھی وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور شہباز گِل نے عدالتی فیصلے اور قانونی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’نواز شریف جیسے مجرم آزاد شہری جیسا حق نہیں رکھتے۔‘

اس حوالے سے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کہا تھا کہ درحقیقت ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی آڑ میں منی لانڈرنگ کا بل منظور کیا گیا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔اُنھوں نے کہا کہ اس بل کی بعض شقوں پر تو حکومت نے حزب مخالف کی جماعتوں سے کسی حد تک مشاورت کی لیکن زیادہ تر ترامیم کو تو پارلیمنٹ، بلخصوص سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے سپرد ہی نہیں کیا گیا۔

رضا ربانی کا کہنا تھا حکومت کا یہ اقدام پارلیمان پر عدم اعتماد کا مظہر ہے اور ایسے اقدامات سے پارلیمنٹ کمزور تر ہو رہی ہے۔اُن سے یہ پوچھا گیا کہ مشترکہ اجلاس کی صورت میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کو عددی برتری ہونی چاہیے تھی تو یہ بل کیسے منظور ہو گئے؟ سینیٹر ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت کے علم میں تھا کہ وہ کس روز پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے گی تاہم حزب اختلاف کو اس اجلاس کے انعقاد کا سمن اجلاس سے چند گھنٹے پہلے جاری کیا گیا۔اُنھوں نے کہا کہ اتنے کم عرصے میں بھی حزب مخالف کی جماعتوں کی قیادت نے اپنے ارکان کی حاضری یقنی بنانے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ نہیں آ سکے جس سے مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف کی عددی برتری متاثر ہوئی۔یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری بھی بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں شریک نہیں تھے۔

بلوچستان نیشل پارٹی (مینگل ) گروپ نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں بلکہ اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ حکومت سے علیحدگی کے بعد بی این پی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پہلی مرتبہ حکومت کی مخالفت کی ہے۔پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر جاوید عباسی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے حزبِ مخالف کی جماعتیں قانون سازی کرنے کے لیے تیار تھیں لیکن حکومت نے اس کی آڑ میں ایسی قانون سازی بھی کر دی ہے جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں سے تعاون مانگا تو ان جماعتوں نے ملکی مفاد کے پیش نظر یہ سب کیا لیکن وزیر اعظم کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ حزب مخالف کی جماعتیں ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتی ہیں۔ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جو ترامیم پیش کی گئیں ان سب کو مسترد کر دیا گیا۔سینیٹر جاوید عباسی جو کہ وزارت قانون اور انصاف سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق جو قانون سازی کی گئی اس کا مسودہ تک متعقلہ قائمہ کمیٹی کو نہیں بھجوایا گیا جس سے حکومت کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
