بلاول کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اے پی سی پر تبادلہ خیال

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔دونوں رہنماؤں نے کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے ایجنڈے اور اعلامیے پر غور کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول نے کہا کہ اپوزیشن کی حکمت عملی کل سامنے آ جائے گی، مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بہت اچھا اور تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، مولانا کل ہماری اے پی سی میں بھی آئیں گے، اے پی سے کے بعد کل تفصیلی پریس کانفرنس ہوگی، اے پی سی کے بعد متحدہ اپوزیشن کا متفقہ لائحہ عمل آپ کے سامنے آئے گا۔
اسلام آباد: چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف موجود
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ مولانا عطاالرحمان، اکرم خان درانی، اویس نورانی و دیگر موجود pic.twitter.com/lPDewd5wGO
— PPP (@MediaCellPPP) September 19, 2020
علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے مختلف جماعتوں کے رہنمائوں سے فون پر رابطے بھی کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق بلاول نے بی این پی مینگل کے سربراہ اخترمینگل، بی این پی عوامی کے اسرار اللہ زہری اور قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپائو سے بھی فون پر گفتگو کی ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی کی قیادت سے بھی رابطہ کیا ہے۔اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کا مشاورتی اجلاس بھی ہوا ہے جس میں اے پی سی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
قبل ازیں اپنے ایک بیان میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں آزادانہ اور شفاف انتخابات نہ ہونا ملک کے لیے بڑا سیکیورٹی رسک ثابت ہوسکتا ہے۔بلاول بھٹو نےگلگت بلتستان میں پارٹی کو بھرپور الیکشن مہم چلانےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں الیکشن جیت کر بھٹو شہید اور بی بی شہید کے مشن کو پوراکرنا ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ آزادانہ اور شفاف انتخابات نہ ہونا ملک کے لیے بڑا سیکیورٹی رسک ثابت ہوسکتا ہے،جیالےگھر گھر جائیں اور بھٹو شہید کے پیغام کو عوام میں پہنچائیں۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے 24 جون 2020 کو گلگت بلتستان کی سابقہ حکومت کی 5 سالہ مدت ختم ہونے کے چند روز بعد ہی نئے انتخابات کا شیڈول جاری کرتے ہوئے پولنگ کےلیے 18 اگست 2020 کی تاریخ مقرر کی تھی تاہم بعد ازاں مختلف وجوہات کی بناء پر الیکشن ملتوی کردیے گئے۔چند روز قبل چیف کورٹ گلگت بلتستان نے 3 ماہ کے اندر الیکشن منعقد کروانے کا حکم دیا تھا۔
