قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس: وزیر خزانہ بجٹ پیش کررہے ہیں

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
اپنی تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ اتحادی جماعتوں کا شکر گزار ہوں، حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بینان مرصوص میں کامیابی ایک روشن باب ہے،گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے، بہت سارے ممالک ہمارے لڑاکا طیارے اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں،ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے، سعودی عرب کے ساتھ بھائی چارےکا رشتہ دفاعی معاہدے سے مضبوط ہوا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مالی سال میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنےآئی، ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےجوکہ نیاسنگ میل ہے جبکہ فی کس آمدنی1751 ڈالرسےبڑھ کر1901 ڈالرہوگئی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو بڑھ کر17 ارب ڈالرسے زائد ہوچکے ہیں،زر مبادلہ ذخائر تین مہینوں کی درآمدات کےلیے کافی ہیں۔ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھیں،اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر کا حجم 38ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے،سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے،اس قومی فرض کےلیے 3 ہزار ارب روپے فراہم کیےجائیں گے جب کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کےلیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہاکہ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے،تین سالوں میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں 2 فیصد اضافہ ہوا،مالیاتی خسارہ جون 2023 میں جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا، مالیاتی خسارہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک آجائےگا۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے،ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جب کہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
اگلے مالی سال بی آئی ایس پی کےلیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،بی آئی ایس پی کےلیے یہ رقم پچھلے سال کے مقابلے میں17 فیصد زیادہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اخراجات سے آزاد کشمیر کےلیے 146ارب روپے،گلگت بلتستان کےلیے 88 ارب دیے جائیں گے جب کہ کے پی کے ضم شدہ اضلاع کےلیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز ہے۔
22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پرٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔41 سے 56 لاکھ روپےسالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد کرنےکی تجویز ہے جب کہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 15 سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی کی 6 سلیبس پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز ہے، 50 کروڑ سے زیادہ آمدنی پر سپرٹیکس کی شرح 10 سے کم کر کے 8 فیصد کرنےکی تجویز ہے تاہم بینکوں،تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزرز پر سرچارج برقرار ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہاکہ چھوٹے دکانداروں کےلیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز ہے،اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتے ہیں جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے،چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے،اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ود ہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے، چھوٹے دکاندار کو گوشوارے جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوگا،ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور انہیں خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمےداری نہیں ہوگی اور پی او ایس مشین رکھنےسے استثنیٰ ہوگا۔
بجٹ میں جائیداد منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے، فائلرز کے لیے جائیداد خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سےکم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ نان فائلرز کےلیے جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم سےکم ٹیکس کی مدد میں مجموعی طورپر2 فیصد ٹیکس ہے جسے کم کر کے 1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جو کہ کم سےکم ٹیکس کی مد میں ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ود ہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے،غیر ملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے۔یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنےکی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔
امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ جب کہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جا رہا ہے جب کہ 2 کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہ۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے،الیکٹرک موٹر سائیکل،رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیےجانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کےلیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،وفاق کا ایک ہزار ارب روپے، صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2224 ارب روپے ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کےلیے 451 ارب روپے شامل ہیں،وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کےلیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کےمطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کےلیے 100ارب روپے، سکھر حیدر آباد موٹروے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جب کہ ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام آئندہ سال شروع ہوگا جس کےلیے 25ارب مختص کیے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کےلیے خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے،آزاد کشمیر اور جی بی میں 8 پن بجلی منصوبوں کےلیے 13 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جب کہ واپڈا اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنے انفرادی وسائل سے 158ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو پانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،جیسے سٹوریج کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت، گزشتہ سال دریاوں میں سیلاب نے ہماری معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، بجٹ میں 43 آبی منصوبوں کےلیے 103 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14ارب، مہمند ڈیم کےلیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ داسو پن بجلی منصوبے کےلیے 15 ارب مختص کیے گئے ہیں جب کہ کراچی کے بلک واٹر سپلائی کے فور منصوبے کےلیے 10ارب روپے مختص کیےگئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 2035 تک ہماری تقریبا نصف ملکی آبادی شہروں میں مقیم ہوگی،اربن سینٹرز ہماری معیشت کا 55 فیصد حصہ ہیں،بجٹ میں دیرپا شہری ترقی اور ہاوسنگ شعبے کےلیے 54 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، اس رقم سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ 50 ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیےجائیں گے جب کہ 10 بڑے شہروں کےلیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی رفتار بڑھانے کےلیے بجٹ میں 6 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائنگ کے آٹومیشن مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ عوامی صحت کی دیکھ بھال ہماری اہم قومی ذمہ داری ہے، ترقیاتی بجٹ میں صحت کے منصوبوں کےلیے 25 ارب 10 کروڑ روپے رکھے ہیں، کینسر کے علاج کی سہولیات میں وسعت بھی شامل ہے۔
