بختاور‘‘:اکیلی عورت کی ظالم سماج میں جدوجہد کی کہانی‘‘

ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد پائی جاتی ہے جو آج کے دور میں بھی عورت کو کم تر سمجھتے ہیں اور اگر عورت غیر شادی شدہ ہو تو بات طنز و طعنے سے آگے نکل کر بہتان تراشی تک جا پہنچتی ہے۔
اس سب کے باوجود معاشرے میں عورتیں گھر سے باہر بھی نکلتی ہیں، کام بھی کرتی ہیں اور اس کے ساتھ زمانے کا سخت رویہ بھی برادشت کرتی ہیں لیکن اس سخت معاشرے میں بعض اوقات کچھ عورتیں ہمت ہار جاتی ہیں یا پھر وہ اپنا حلیہ تبدیل کر لیتی ہیں جس میں وہ خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔
لیکن دراصل معاملہ صرف عورت کا نہیں بلکہ معاشرے کی سختیاں عورت اور مرد دونوں کو برداشت کرنی پڑتی ہیں، حال ہی میں اداکارہ یمنیٰ زیدی کا ڈرامہ ’’بختاور‘‘ اپنے اختتام کو پہنچا ہے جس میں یمنیٰ زیدی نے بختاور نامی ایک ایسی نوجوان لڑکی کا کردار ادا کیا جو اپنے گھریلو مسائل اور مشکلات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کرتی ہیں۔
ڈرامہ نادیہ اختر نے لکھا ہے اور اسے مومنہ درید نے پروڈیوس کیا ہے جبکہ ڈرامے کی کاسٹ میں یمنٰی زیدی، زاویار نعمان اعجاز، ثاقب سمیر، شمعون عباسی، میزنا وقاص اور نورین گلوانی شامل ہیں، لاہور کی رہائشی فرحین اشتیاق نے اپنی بیٹی کو پالنے اور لوگوں کی ہوس کا نشانہ بننے سے بچنے اور اپنی بچی کو بچانے کے لیے مرد کا روپ دھار لیا تھا اور یہ روپ وہ 9 سال تک دھارے رہیں۔
حقیقی کہانی سے متاثر ہوکر بنائے گئے ڈرامے کی ابتدا ہی وہاں سے ہوتی ہے جب بختاور کے والد جوئے کی بازی ہارنے کے بعد بختاورکی بڑی بہن کی شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کرا دیتے ہیں اور پھر وہ خود گھر سے غائب ہو جاتے ہیں۔
چھوٹا بھائی معذوری کی حالت میں بستر پر پڑے پڑے فوت ہو جاتا ہے جبکہ ماموں جیسے قریبی رشتہ دار بختاور کی ماں سے مالی کفالت کے بدلے اپنے ذہنی معذور بیٹے کے لیے بختاور کا رشتہ مانگتے ہیں۔
اس صورتحال سے تنگ بختاور تعلیم حاصل کر کے دنیا کو کچھ کر دکھانے کی چاہ رکھتی ہے لیکن اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر اپنی ہی برادری میں بختاور کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے اور خاندان کے مردوں سے زیادہ عورتوں نے ہی ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ بے سہارا لڑکی ایک دوست کی مدد سے اپنی ماں کے ساتھ شہر بھاگ جاتی ہے۔
چند خوفناک واقعات بختاور کو مردانہ حُلیہ اپنانے پر مجبور کر دیتے ہیں، ان سب کے باجود وہ اپنے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ہر مظلوم کے درد کا احساس رکھتی ہے، بلآخر بختاور پدرشاہی معاشرے سے لڑتے لڑتے اپنے اصل حلیے میں واپس آنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
شمعون عباسی نے مزید کہا کہ آج کے دور میں جہاں ہم ڈراموں میں نفرتیں دیکھ رہے ہیں وہاں بختاور ڈرامے نے ایک مثبت پیغام دیا ہے، اس ڈرامے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عورت کے مسائل ساس بہو کی لڑائی، اور شادی بیاہ کے لیے کسی مرد کے پیچھے بھاگنا نہیں جو اکثر ڈراموں میں دِکھائے جاتے ہیں۔
ڈرامے میں روایتی شادی بیاہ کے موضوع سے ہٹ کر ترقی پسند سوچ کو دکھایا گیا جس میں لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کو شادی کرنے پر ترجیح دی گئی، بختاور صرف اپنے کیریئر کے بارے میں نہیں سوچتی بلکہ اس کا مقصد معاشرے کی سوچ میں تبدیلی بھی لانا تھا۔
ماں ہو یا بیٹی، عورت اپنے ہر روپ میں بہت مضبوط اور ہمت والی ہے لیکن زمانہ اکیلی عورت کو جینے کا حق نہیں دیتا۔ ہمارے معاشرے میں ایک عورت کا اکیلا رہنا کتنا دشوار ہے اس پر تو بہت بار بات کی جاتی ہے لیکن ایک سبق جو ڈرامے سے ملتا وہ یہ کہ بختاور کو مرد کا حلیہ اپنانے کے باوجود مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ ہمارے معاشرے میں نہ صرف عورت بلکہ مردوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
