برآمدکنندگان کو بجلی نرخوں پر دی گئی رعایت ختم کرنیکا فیصلہ

وفاقی حکومت کا تخمینہ ہے کہ برآمدکنندگان نے گزشتہ تین برسوں کے دوران روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ایک کھرب 50 ارب روپے منافع کی مد میں کمائے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ رپورٹ وزیر خزانہ اسحق ڈار اور وفاقی ایوان ہائے صنعت و تجارت کے وفد اور برآمدکنندگان کے نمائندوں سے ملاقات کے موقع پر تیار کی گئی تھی۔

یہ ملاقات جمعے کے روز ہوئی تھی جس میں اسحاق ڈار نے یقین دلایا تھا کہ نیا بجٹ دوستانہ ہوگا تاہم انھوں نے نئے بجٹ میں ٹیکسوں میں کمی یا گیس اور بجلی کی قیمتوں میں رعایت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

ایف پی سی سی آئی کے وفد نے ملاقات کے دوران اسحاق ڈار سے نئے بجٹ میں شرح ٹیکس میں کمی کے علاوہ تمام درآمدات پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ مجموعی پیداوار پر ٹیکس ریٹ کو کم کرتے ہوئے 1 فیصد جبکہ کارپوریٹ ٹیکس کو 27 فیصد پر لانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ نے  بتایا کہ اسحاق ڈار نے کاروباری وفد کو یقین دلایا کہ نئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جائے گا نہ ہی ٹیکس دہندگان پر مزید کوئی بوجھ ڈالا جائے گا۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار سے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے وفد نے بھی ملاقات کی وفد نے مختلف صوبوں میں بجلی کے مختلف نرخوں سے متعلق مسائل سے بھی وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔

Back to top button