برسات میں اپنی جان و مال بچانے کے کیا طریقے اپنانے چاہئیں؟


قدیم زمانے سے ہی موسمِ برسات میں خطرات اور نقصانات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر بتائی جاتی تھیں۔ پرانے زمانے میں بزرگ موسمِ برسات میں حشرات سے بچنے کی تلقین کرتے تھے لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ چیلنج بھی بدل گیا ہے۔ غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ تو اب ہر فرد ہی دے گا اور یہ مشورہ بالکل درست ہے لیکن بعض اوقات سفر لازمی اور مجبوری ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں احتیاط کسی سانحے سے بچا سکتی ہے۔ احتیاط کے بہت سے پہلو ہیں جو راستے کے انتخاب سے لے کر سواری کی تیاری تک ضروری ہیں۔

سب سے پہلی بات راستے کا انتخاب ہے۔ جس علاقے سے آپ واقف نہیں وہاں خراب موسمی حالات میں جانے کا منصوبہ بنانا دانش مندی نہیں ہے۔ سڑک کے گڑھے اور کھلے مین ہول سے آپ اس وقت ہی واقف ہوسکتے ہیں کہ جب آپ عام حالات میں وہاں سے متعدد مرتبہ گزر چکے ہوں۔ بارش کے موسم میں کوشش یہی کرنی چاہیے کہ بہتر راستے کا انتخاب کریں چاہے نسبتاً طویل ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ٹریفک پولیس اور موٹروے پولیس مخصوص حالات کے لیے ایڈوائزری جاری کرتی رہتی ہے جس پر غور سے زیادہ عمل ضروری ہے تاکہ محفوظ رہا جاسکے۔ علاوہ ازیں اگر راستے کے آس پاس آپ کے شناسا رہتے یا کام کرتے ہوں تو ان سے ضرور مشورہ کریں۔

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ اپنی سواری کی حفاظت کیسے کی جائے۔ بارش کے موسم میں آپ کی سواری خصوصی دیکھ بھال مانگتی ہے۔ گاڑی ہو یا موٹر سائیکل اگر چند مخصوص چیزوں کا خیال رکھیں تو پریشانی سے بچ سکتے ہیں۔ بس یہ یاد رکھیں کہ ریلے میں جانے یا گزرنے سے ہر صورت احتیاط ضروری ہے کیونکہ آپ کی مہارت یا گاڑی کی ساخت پانی کے بہاؤ کا کیسے اور کتنا مقابلہ کرے گی یہ پیشگوئی ممکن نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ برسات کے موسم میں موٹرسائیکل سواروں کو کیا احتیاط کرنی چاہیے۔ اکثر بارش میں پلگ کے بیرونی حصے پر پانی لگنے سے کرنٹ کی ترسیل رک جاتی ہے جس سے انجن بند ہوجاتا ہے۔ برسات کے موسم میں ربڑ کے مضبوط پائپ سے پلگ کے حصے کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ پانی انجن میں سائلنسر کے راستے بھی داخل ہو سکتا ہے لیکن وہ اس وقت ممکن ہے جب انجن بند ہوجائے اور پانی کا لیول کافی دیر تک سائلنسر سے اوپر رہے۔ کوشش کریں کہ سڑک کے اس حصے سے گزرا جائے جہاں پانی کا لیول کم ہو۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ پانی کے نیچے بڑا گڑھا ہوسکتا ہے جس سے موٹر سائیکل کا توازن خراب ہونے اور آپ کے گرنے کا قوی امکان ہے۔ بوندا باندی کے بعد سڑک پر شدید پھسلن ہوتی ہے لہٰذا بریک کے استعمال یا تیز رفتاری میں احتیاط کریں۔ موٹر سائیکل کے میٹر میں بہت زیادہ پانی جانے کی صورت میں بھی انجن بند ہوسکتا ہے اس لیے اسے تھیلی سے ڈھانپ لینا بہتر ہے۔

اس کے علاوہ برسات کے موسم میں گاڑی کے لیے بھی احتیاتی تدابیر بنانا پڑتی ہیں۔ گاڑی کے انجن میں پانی دو راستوں سے داخل ہوسکتا ہے۔ عمومی طور پر اچھی دیکھ بھال والی گاڑی کے انجن یا کسی بھی حصے کو پانی اس قدر نقصان نہیں پہنچاتا کہ گاڑی بند ہوجائے۔ انجن بند ہونے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سائلنسر میں بہت زیادہ پانی بھر جائے لیکن اس کا حل موجود ہے کہ بارش سے پہلے ہی ربڑ کا پائپ سائلنسر کے ساتھ لگا کر اوپر کی جانب کر دیں اور اگر مینول گاڑی ہے تو پانی سے گزرتے ہوئے ایکسیلیٹر پر دباؤ رکھیں۔ یہ ربڑ کا پائپ ویسا ہی ہے جو گاڑی میں ریڈی ایٹر کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ دوسرا اور سب سے اہم راستہ ایئر فلٹر کمپارٹمنٹ ہے۔ زیادہ تر گاڑیوں کے انجن اسی راستے سے داخل ہونے والے پانی سے تباہ ہوتے ہیں۔ایئر فلٹر کار میں انجن کے اوپر کی جانب ہوتا ہے اور اگر پانی کا ریلا گاڑی کے اوپر سے گزرے تو پانی براستہ ایئر فلٹر میں داخل ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ بہت سی گاڑیوں جیسے وین وغیرہ میں فلٹر اگلے بمپر کے نیچے کی طرف ہوتا ہے اور ایسی کسی گاڑی کو پانی میں لے جانا فوری تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈبل کیبن پک اپ اور مختلف بڑی گاڑیوں میں اسی لیے پائپ نما فلٹر اوپر کی جانب ہوتا ہے تاکہ پانی سے گزرنے کی صورت میں پانی انجن میں داخل نہ ہوسکے۔

گاڑی کے انجن میں پانی کے داخلے کا کوئی اور راستہ نہیں ہوتا ہے لیکن شارٹ سرکٹ کا معمولی امکان ہوتا ہے۔ اگر آپ کو یہ محسوس ہو کہ پانی کی سطح اس قدر زیادہ ہے کہ اب انجن کے ایئر فلٹر کمپارٹمنٹ تک پہنچ جائے گا تو انجن بند کرنا مناسب ہے کیونکہ انجن جب بھی چلے گا تو ہوا کے بجائے پانی کھینچنے کا سبب بنے گا۔

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ گاڑی میں پانی داخل ہوجائے تو کیا کریں؟ شہروں میں عمومی طور پر پانی ایک حد سے اوپر نہیں جاتا لیکن اگر گاڑی کے اندر پانی داخل ہو رہا ہو تو آپ کی حاضر دماغی ضروری ہے۔ اگر تو پانی کا دباؤ مزید بڑھتا دکھائی دے رہا ہو اور گاڑی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے تو جان بچانا ضروری ہے۔ گاڑی کسی سائیڈ میں فوری چھوڑ دیں اور نکلنے کو ترجیح دیں۔ یاد رکھیں کہ دروازہ اور کھڑکی پانی کو نہیں روک سکتے۔ پانی کے دباؤ سے اگر ایک مرتبہ گاڑی نے زمین پر پکڑ چھوڑ دی تو پھر کشتی کی مانند تیرتی گاڑی کسی صورت کنٹرول نہیں ہوسکے گی۔ اگر گاڑی میں داخل ہونے والے پانی کی سطح پنڈلیوں سے نیچے ہے تو گاڑی کو نکالنے کی کوشش ممکن ہے لیکن یہ فیصلہ آگے کی صورت حال کا اندازہ کیے بغیر ممکن نہیں۔ ندی نالوں سے گزرنا موت کو دعوت دینا ہے اور اسکا بھیانک نتیجہ حال ہی میں کراچی میں 7 کار سواروں کی موت کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔

اسکے علاوہ پانی کے بہاؤ کی مخالف سمت جانے کی بالکل کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایسا ممکن نہیں ہوگا اور آپ کا نقصان بڑھنے کا اندیشہ ہوگا۔ عمومی طور پر لوگ جانی نقصان سے زیادہ مالی نقصان کی پرواہ میں زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ یاد رکھیں کوئی بھی حادثہ ہو تو املاک سے زیادہ جان بچانے کو ترجیح دیں کیونکہ اگر آپ زندہ رہیں گے تب ہی املاک آپ کے کام آسکیں گی اور یہ کہ آپ آنے والے وقت میں محنت کرکے نقصان پورا کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کی زندگی ضروری ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں لیکن قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

Back to top button