برطانوی بینکوں میں پاکستانی رقوم کیوں منجمد ہوئیں؟


آئین شکنی پر سزائے موت دیے جانے والے پرویز مشرف کے آمرانہ اقدامات سے پاکستان کو عالمی سطح پر اب تک سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشرف کے آمرانہ دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور ان کے اثاثہ جات کی تحقیقات کیلئے مقرر کی گئی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی نیب اور ریاست پاکستان کے خلاف مقدمہ جیت گئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی عدالت نے برطانیہ کے مختلف کمرشل بینکوں میں موجود ریاست پاکستان کے 26 ملین ڈالرز منجمد کر دیے ہیں.
براڈ شیٹ کمپنی نے لندن میں قائم انصاف کی اعلیٰ عدالت ہائیکورٹ آف جسٹس کے ذریعے تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر حاصل کر لیا ہے جس میں یونائیٹڈ نیشنل بینک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریاست پاکستان کے مالی اکاﺅنٹس منجمد کر دے۔ یہ اکاﺅنٹس اس وقت تک منجمد رہیں گے جب تک نومبر 2020 میں کیس کی حتمی سماعت نہیں ہو جاتی۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد یہ فنڈزفنڈز براڈشیٹ کو دیدیے جائیں گے تاکہ ریاست پاکستان کے بقایا جات کی ادائیگی کی جا سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عالمی عدالت کے فیصلے کے خلاف نہ تو پاکستان کو اپیل کا حق حاصل ہے اور نہ ہی وہ فیصلے کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہے۔واجبات کی ادائیگی کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی آپشن باقی نہیں بچاہے، عدالت کی طرف سے بینکوں کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ حتمی سماعت اور فیصلہ آنے تک بنک براڈ شیٹ یا ریاست پاکستان کسی کو بھی فنڈز کی ادائیگی قطعاً نہ کرے۔
عالمی ثالثی عدالت کی طرف سے دئیے گئے فیصلے میں پاکستان کے برطانوں بینکوں میں موجود اثاثہ جات کی رقم 22 ملین ڈالرز بتائی گئی ہے۔ تاہم پاکستان کو براڈ شیٹ ایل ایل سی کو اب 30 ملین ڈالرز ادا کرنا ہیں کیونکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں اصل واجب الاداء رقم پر سود اور بھاری عدالتی اخراجات بھی جرمانے میں شامل کر دیے ہیں. ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ نیشنل بینک نے عبوری آرڈر پر عمل کو یقینی بنانے کیلئے اضافی اکاﺅنٹس کو بھی منجمد کر دیا ہے اور پہلے سے منجمد کردہ 2 کروڑ 60 لاکھ (26 ملین) ڈالرز کی رقم اس کے علاوہ ہے جسے پاکستان کی بقایہ جات کی ادائیگی کیلئے محفوظ کر لیا گیا ہے اس کے علاوہ، براڈ شیٹ نے لندن میں پاکستان کے دیگر کمرشل بینک اکاﺅنٹس کے انتظام سنبھالنے کے متعلق بھی عبوری حکم نامہ حاصل کرلیا ہے.
دوسری طرف براڈ شیٹ کمپنی نے حکومت پاکستان کو خط لکھ کر وضاحت کی ہے کہ برطانیہ میں 26 ملین ڈالرز منجمد ہونے کے باوجود پاکستان پر واجبات کی مکمل ادائیگی نہیں ہوگی کیونکہ اب مجموعی رقم میں سود کی رقم اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوں گے کیونکہ آپ کے موکل نے ہائیکورٹ کے فیصلوں کا مان رکھنے میں ناکامی ظاہر کی ہے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک نومبر 2020 کی سماعت ہو، اس وقت تک سود کی رقم میں مزید 2.21 ملین ڈالرز کا اضافہ ہو چکا ہوگا۔ براڈشیٹ کے خط میں پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ پاکستانی عوام کو مزید بوجھ سے بچانے کیلئے یونائیٹڈ نیشنل بینک میں موجود رقم فوری طور پر ادا کرنے کے انتظامات کیے جائیں تاکہ سود کی رقم میں کچھ کمی واقع ہو سکے جب تک انھیں واجبات کی ادائیگی نہیں کی جاتی اس وقت تک یقینی طور پر اخراجات میں اضافہ ہوتا رہے گا
واضح رہے کہ اس سے قبل براڈ شیٹ کے خلاف پاکستان کی درخواست مسترد ہونے پر عالمی ثالثی ایل سی آئی اے نے 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز سے زائد کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور جرمانے کی عدم ادائیگی پر پاکستان کے بیرون ملک موجود اثاثے منجمند کرنے کا کہا گیا تھا۔ ۔
واضح رہے کہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں برطانیہ اور امریکا میں کم وبیش 200 پاکستانیوں کے اثاثوں کا پتہ لگانے کے لیے آئزل آف مین رجسٹرڈ براڈشیٹ ایل ایل سی نامی فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور اس سلسلے میں کمپنی کو آصف علی زرداری، بینظیر بھٹواور نواز شریف خاندان کو بطور خاص ہدف بنانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔اس معاہدے کے تحت مقررہ اہداف سے وصول شدہ رقم میں سے 20 فیصد کمپنی کو ادا کی جانی تھی، تاہم کسی بھی الزام کا ثبوت نہیں ملا اور ایک عشرے کے دوران برطانیہ سے ایک روپیہ بھی واپس نہیں لایا جاسکا۔ تاہم براڈ شیٹ اس بات پر بضد تھی کہ پاکستان اس کو اثاثوں کی کھوج لگانے کے لیے اس کی خدمات کے عوض 33 ملین ڈالر ادا کرے مگر پاکستان نے اس سے انکار کر دیا جس پر براڈ شیٹ نے لندن کی بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔ جو کیس پاکستان ہار چکا ہے۔
دوسری جانب اگرچہ براڈ شیٹ سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے لیکن براڈ شیٹ کمپنی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا اور جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد مزید 60 لاکھ امریکی ڈالر کا دعویٰ بھی کرے گی کیونکہ فرم نے سب سے پہلے کیس پر کام شروع کرکے نیب کو شریف خاندان کے خلاف دستاویزات فراہم کی تھیں۔
یہاں پر یہ بات بھی واضح رہے کہ پاکستان اب تک براڈ شیٹ کے خلاف کیس میں‌دو ارب روپے سے زائد خرچ کرچکا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ 2008 میں‌ نیب کا اس کمپنی کے ساتھ تصفیہ ہوگیا تھا اور اس کو پانچ ملین ڈالر ادا کر دیئے گئے تھے تاہم بعد میں پتا چلا کہ وہ پانچ ملین ڈالر کسی غلط کمپنی کو ادا کر دئیے گئے ہیں۔ احمر بلال صوفی اس کیس کے وکیل تھے اور آج تک ان سے کوئی سوال نہیں‌کیا گیا کہ انہوں نے وہ پانچ ملین ڈالر غلط کمپنی کو کیوں‌اور کیسے ادا کر دیے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button