بریگیڈئیرستی کا چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے ڈی ایچ اے لاہور کے خلاف اراضی قبضہ کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ فوج کے حاضر سروس افسران ڈی ایچ اے جیسے اداروں میں کام کریں گے تو وہ احتساب سے بالا نہیں ہو جائیں گے، ان کا احتساب لازمی ہوگا۔ انہوں نے یہ ریمارکس 29 اپریل کو متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر ڈی ایچ اے کے مبینہ قبضے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوسرے روز دیے۔ تاہم دوسری جانب ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر وحید گل ستی نے چیف جسٹس کی جانب سے طلب کیے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہو کر ثابت کیا کہ ڈی ایچ میں کام کرنے والے فوج کے حاضر سروس افسران احتساب سے بالاتر ہیں۔ یاد رہے کہ 28 اپریل کو کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے بار بار بلائے جانے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہونے پر ڈی ایچ اے کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر ستی کو آخری وارننگ دیتے ہوئے اپنے فوجی بیجز اتار کر 29 اپریل کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
تاہم جمعرات کو نہ تو برگیڈیئر ستی عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی چیف جسٹس نے اس حوالے سے کوئی استفسار کیا۔ کیس کی سماعت کے دوران ڈی ایچ اے لاہور کے وکیل نے چیف جسٹس قاسم خان سے کہا کہ انہوں نے 28 اپریل کو دوران سماعت فوج اور فوجی افسران سے متعلق جو ریمارکس دیے تھے اس سے ادارے میں تشویش پائی جاتی ہے لہٰذا انہیں کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا جائے۔ تاہم چیف جسٹس نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے برگیڈیئر ستی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر برہم ہو۔کر یہ ریمارکس دیے تھے کہ فوج ایک قبضہ گروپ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں کل کور کمانڈر کو بھی طلب کر لیتا ہوں، یہ معاملہ رسہ گیری کی ایک قسم کا ہے، فوج کا کام قبضہ کرنا نہیں ہے، اور میرے منہ سے فوج بارے جو بھی جملے نکلے ہیں وہ سچ ہیں اور اللہ تعالی نے اگلوائے ہیں۔
جمعرات کے روز چیف جسٹس قاسم علی خان نے ڈی ایچ اے کے وکیل سے کہا کہ جب فوج کے حاضر سروس افسران ڈی ایچ اے اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے اداروں میں کام کریں گے تو ان کا احتساب ہوگا۔ ’میرے ریمارکس بطور کلاس آرمی کے خلاف نہیں تھے۔ میں نے آپ کے کچھ لوگوں کے غیرذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے ریمارکس دیے تھے جو حذف نہیں ہو سکتے۔‘ چیف جسٹس نے قراردیا کہ ’اگر میری جائیداد پر کوئی شخص قابض ہو جائے تو میں اس کو قانون کے بغیر نہیں نکال سکتا۔ اس لیے یہ لوگ عدالت میں آئے تاکہ یہ اپنے لیے انصاف حاصل کر سکیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا آئین کہتا ہے کہ ہم نے اقلیتوں کی، ان کی جائیدادوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنی ہے۔ یہ معاملہ کسی وقت حکومت کے گلے پڑ جائے گا۔ یہ ایف اے ٹی ایف سے زیادہ بڑا مسئلہ بن جائے گا۔ ڈی ایچ اے میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں کہ جو اقلیتوں کی وقف جائیداد بھی ہڑپ کر گئے ہیں۔‘
چیف جسٹس نے قرار دیا کہ ’میں اگر کسی پلازے میں جا کر دکان دار سے جھگڑنا شروع کردوں تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ قاسم خان نے جھگڑا کیا بلکہ وہ بولیں گے کہ چیف جسٹس نے جھگڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 سال ہو گئے ہیں لیکن مسئلہ ہی نہیں ہو رہا۔ چار وکیل کسی رکشے والے کے ساتھ دنگا فساد کرتے ہیں تو نام کس پر آتا ہے؟ ہائی کورٹ کا جج کسی ادارے میں بیٹھا تو اس نے اپنا ڈیکورم برقرار رکھنا ہے۔‘انہوں نے ریمارکس دیے کہ فوج کے حاضر سروس لوگ ڈی ایچ اے میں آ کر غلط کام کریں گے تو بدنام کون ہو گا؟ اور اس کا ذمہ دار کسے سمجھا جائے گا؟
چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ ملک کے 22 کروڑ عوام اس فوجی کا احترام ہے جو کشمیر، سیاچن اور دیگر محاذوں پر بیٹھا ہے، ان کا احترام افسران سے زیادہ ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے 2007 کے فیصلے میں ڈی ایچ اے کا زمین پر حق معطل ہو چکا ہے۔ اس پر فاضل چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے وکیل کو حکم دیا کہ درخواست گزاروں کی زمین کی قانونی حیثیت تبدیل نہ کی جائے اور آپ ڈی ایچ اے انتظامیہ سے ہدایات لے کر تین مئی کو عدالت میں پیش ہوں۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس قاسم علی خان نے 28 اپریل کو اس کیس کی سماعت کے دوران ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے بریگیڈیئر ستی کو وردی اور ٹوپی کے بغیر پیش ہونے کا حکم دیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے اور ان کی جگہ ڈائریکٹر لیگل ڈی ایچ اے پیش ہوئے تھے۔ قاسم خان نے زمینوں پر ‘غیر قانونی’ قبضوں میں ملوث ہونے پر ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ فوج ‘سب سے بڑا قبضہ مافیا’ بن گئی ہے۔ چیف جسٹس قاسم خان 3 شہریوں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کررہے تھے جس میں انہوں نے ڈی ایچ اے کے خلاف حکم جاری کرنے کی استدعا کی تھی کہ وہ متروکہ وقف املاک بورڈ سے لیز پر حاصل کی گئی ان کی اراضی کے جائز قبضے میں مداخلت نہ کریں۔ چیف جسٹس قاسم خان نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ فوج نے ہائی کورٹ کی بھی 50 کنال کی اراضی پر قبضہ کررکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو ہدایت دیں گے کہ اس سلسلے میں آرمی چیف کو خط لکھا جائے۔
ڈی ایچ اے کے وکیل الطاف الرحمٰن خان نے ہائی کورٹ کی زمین پر قبضے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ اس حقیقت کی تصدیق کے لیے کور کمانڈر لاہور کو طلب کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج کی وردی خدمت کے لیے ہے، بادشاہ کی طرح حکمرانی کرنے کے لیے نہیں ہے۔ جسٹس قاسم خان نے کہا کہ انہوں نے فوج کے خلاف کچھ غلط نہیں کہا ہے اور اللہ تعالی نے ان سے سچ کہلوایا ہے، جس طرح فوج لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کررہی ہے یہ زمینوں پر قبضے کے سوا کچھ نہیں۔ اس کیس کی تفصیلات کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر ڈی ایچ اے کے قبضے کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ 300 کنال سے زائد متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی انہوں نے 2020 سے لیز پر حاصل کی۔ درخواست کے مطابق تاہم ڈی ایچ اے نے لیز شدہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ڈی ایچ اے سے قبضہ ختم کروانے کا حکم دیا جائے۔ وکیل ڈی ایچ اے نے عدالت کو بتایا کہ 2007 میں لیفٹیننٹ جنرل ذوالفقار نے بطور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈی ایچ اے کو 1742 کنال زمین دی، جس کے بدلے بورڈ نے 33 فیصد ڈیولپڈ پلاٹ مانگے، تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت آنے کے بعد آصف اختر ہاشمی نے بطور چیئرمین 33 فیصد کی بجائے 25 فیصد پلاٹ مانگے۔ تاہم متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی میں چونکہ سکھ کمیونٹی کا گوردوارہ بھی آتا تھا، لہذا سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور گوردوارہ سکھ کمیونٹی کو دینے کا حکم دیا۔
