بزدار نے عمران خان سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیوں کیا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے ’وسیم اکرم پلس‘ ان کی سیاسی زندگی کے سب سے اہم میچ کا فیصلہ کُن آخری اوور شروع ہوتے ہی میچ فکسنگ کر کے کھیل کو خیرباد کہہ کر بھاگ گئے ہیں۔جمعے کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی سیاست سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا  ہے کہ پاک فوج کے ساتھ تھے اور کھڑے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی تنظیمی ’عمارت‘ کی اینٹیں اور ستون ایک ایک کرکے اس سے علیحدہ ہوتے جا رہے ہیں اور ایسے میں سب کی توجہ پارٹی کے ایک اور ’برج‘ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب بھی مرکوز تھی  کہ وہ پارٹی سربراہ عمران خان سے اپنی راہیں جدا کرنے کا اعلان کب کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جہاں پی ٹی آئی چھوڑنے والے اگلے رہنما کے ناموں کی پیشگوئیاں ہو رہی تھیں، وہیں اس حوالے سے بھی چہ مگوئیاں جاری تھیں آخر عثمان بزدار منظر سے غائب کیوں ہیں اور کہیں نظر کیوں نہیں آرہے جبکہ ان کے تمام فون نمبرز بھی بند تھے۔

 تاہم اب سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نےکوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سیاست سے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ کھڑے تھے اور آئندہ بھی فوج کے ساتھ ہوں گے۔ اور وہ ملک کی ترقی کے لیے دعا گو ہیں۔

واضح رہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں اپنے والد سردار فتح محمد بزدار کے حلقے سے وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پہلی بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور انہیں وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ لیکن انہیں مقبول وزیراعلیٰ کے بجائے ڈمی وزیراعلیٰ قرار دیا جاتا رہا۔ جبکہ وہ خود بھی بحیثیت وزیراعلیٰ اپنے سے پہلے وزرائے اعلیٰ کی طرح عوامی مقبولیت اور مختلف حلقوں میں جگہ پیدا کرنے کے بجائے خاموش طبع اور الگ تھلگ ہی رہے اور ان کے اپنے ہی قریبی سپورٹر ساتھی ارکان اسمبلی کے حلقوں کی جانب سے انہیں ہٹانے کیلیے عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کروائی گئی اور چوہدری پرویزالٰہی وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے اور ساتھ ہی ان کے خلاف کرپشن کے الزامات بھی سامنے آئے۔ پہلی بار کسی وزیراعلیٰ کا کوئی فرنٹ مین سامنے آنے کے بجائے یہ انکشاف ہوا کہ وہ خود مبینہ طور پر اپنے پارٹی لیڈر اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کے فرنٹ مین تھے اور ان میں فرح گوگی نامی خاتون رابطہ کار تھی۔

عمران خان کی طرف سے اتحادی حکومت کیخلاف احتجاج تحریک اور عسکری حلقوں کے خلاف منظم تحریک کے دوران کچھ عرصہ تک عثمان بزدار منظرِ عام پر رہے، لیکن زیادہ متحرک نہ ہوئے اور مبینہ طور پر انہیں خاص اہمیت بھی نہیں دی گئی۔ البتہ فرح گوگی کے خلاف تحقیقات کے دوران انہیں مختلف اوقات میں پارٹی لیڈر عمران خان کی طرف سے انڈر آبزرویشن رکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق سردار عثمان بزدار تین ہفتے قبل آخری بار عمران خان سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد سے وہ اپنے معاملات میں ہی مصروف رہے۔ عمران خان کی گرفتاری کے ردِ عمل میں ہونے والے 9 مئی کی تخریب کاری میں بھی کسی سرکاری ریکارڈ میں دکھائی نہیں دیئے، بلکہ مزید خاموشی اختیار کرلی اور کچھ بلوچ سابق اراکین اسمبلی سے ملاقات کی جس میں پانچ سے زائد ساتھیوں نے اس عمل سے الگ تھلگ رہنے پر اتفاق کیا۔

ذرائع کے مطابق آبائی علاقے میں ہونے والی اس ملاقات میں سردارعثمان بزدار نے پہلی بار ساتھیوں کے ساتھ شکوہ بھی کیا کہ عمران خان نے ایک جانب انہیں وزیراعلیٰ بناکر بڑا حسان کیا تو دوسری جانب ان پر بننے والے مقدمات میں ان کا ساتھ نہیں دیا اور کسی ایک دن بھی بلا کر حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ ہمیشہ ہدایات ہی جاری کیں اور زیادہ سے زیادہ کارکن لانے کا حکم دیا۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ اعلیٰ سے سبکدوشی کے بعد انہیں کم و بیش روز ملنے والا پنکی پیرنی کا ’’تعویز‘‘ تو بند ہوگیا اور صرف دو بار مخصوص معاملات میں تنبیہہ کیلئے ہی رابطہ کیا گیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حلقوں نے بزدار کو احسان فراموش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ بلوچستان کی سرحد پر پنجاب کے آخری جنوبی ضلعے ڈیرہ غازی خان میں یکم مئی 1969 کو پیدا ہونے والے سردار عثمان خان بزدار سابق وزیراعظم عمران خان کے اپنے ساتھیوں اور اُس وقت کے آرمی چیف کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کی پہلی وجہ بنے تھے۔عثمان بزدار ہی وہ ہستی تھے جس کے توسط سے عمران خان کی اہلیہ کی دوست فرح بی بی کے متعلق ان پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگے لیکن عمران خان آخری وقت تک ان کا دفاع کرتے رہے۔عثمان بزدار سیاست میں نووارد تھے اور عمران خان کے انہیں منتخب کرنے کے علاوہ ان کی شخصیت میں اور کوئی ایسا پہلو نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلٰی کی مسند پر براجمان ہوتے۔عمران خان نے شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، فواد چودہری اور علیم خان جیسے لوگوں کو نظر انداز کر کے اُنہیں وزیر اعلٰی بنایا اور جب تنقید ہوئی تو ان کو ’وسیم اکرم پلس‘ قرار دیا۔

وزیر اعلٰی منتخب ہونے سے پہلے عثمان بزدار کے پاس سیاسی عہدے کا واحد تجربہ تونسہ شریف کا تحصیل ناظم ہونا تھا جو وہ 2001 میں بنے۔

Back to top button