بشریٰ بی بی عمران کو خواتین کی کردار کشی سے روکیں ورنہ۔۔۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ کپتان حکومت اور پی ٹی آئی نے جس طرح عمران خان کے ایما پر خواتین صحافیوں کی کردار کشی اور بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کی وجہ سے کسی بھی وقت کسی کا بھی پیمانہ صبر لبریز ہوسکتا ہے۔ اس غلیظ مہم کے جواب میں سلسلہ عمران خان کے گھر تک دراز ہوسکتا ہے لہٰذا خاتونِ اول بشری بی بی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے میاں کو روکیں کہ وہ میڈیا اور سیاست سے وابستہ خواتین کی کردار کشی کا سلسلہ فوری بند کروائیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں خاتون اول کو یہ مشورہ دیتے ہوئے سلیم صافی ان دنوں کا ایک قصہ بیان کرتے ہیں جب ریحام خان صاحبہ عمران خان کےنکاح میں تھیں۔ تب مرحومہ بیگم نسیم ولی خان، اسفندیارولی خان سے ناراض تھیں اور انہوں نے اپنا الگ گروپ بنا رکھا تھا۔ بیگم نسیم ولی کی جماعت کے ترجمان ایک ٹاک شو میں فیاض الحسن چوہان کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بیگم نسیم کے ترجمان نے پی ٹی آئی پر تنقید کی تو جواب میں فیاض چوہان نے بیگم نسیم ولی کی ذات پر تنقید کرنا شروع کر دی جس پر طیش میں آ کر ان کےترجمان نے ریحام خان سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔ فیاض چوہان کے پاس اس وقت تک کوئی پارٹی عہدہ نہیں تھا لیکن یہ لوگ عمران خان کی خاطر ریحام خان کے بارے میں تنقید پر ایسے آگ بگولہ ہوجاتے تھے ۔چنانچہ گالم گلوچ اور دھمکیوں کے ساتھ اس شو کا اختتام ہوا۔ بقول سلیم صافی چند روز بعد ریحام خان انکے پروگرام میں انٹرویو کے لئے آئیں۔ صافی بتاتے ہیں کہ میں نے ان سے اس پروگرام کا ذکر کیا جو خود انہوں نے بھی دیکھا تھا اور عرض کیا کہ اس روز ان کو جو گالی پڑی، اس کے ذمہ دار اصلاً فیاض چوہان ہیں۔ موصوف اگر عمررسیدہ بیگم نسیم ولی خان کو گالی نہ دیتے تو جواب میں آپ کو گالی نہ پڑتی۔ اس لئے خان صاحب سے کہیئے کہ وہ ایسے بدزبان لوگوں کو اس طرح کی گندی زبان کے استعمال سے منع کریں۔ ریحام خان نے وعدہ کیا کہ وہ خان صاحب سے اس پر بات کریں گی اور انہوں نے بات کی بھی لیکن چند روز نہیں گزرے تھے کہ اسی گندی زبان کے استعمال کے صلے میں عمران نے فیاض چوہان کو پارٹی عہدے سے نواز دیا۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب ایک اور واقعہ سنئے، جب خان صاحب کی ریحام خان سے شادی ہوگئی تو مبارک باد کا ایک ایس ایم ایس کرکے ہم نے ان سے متعلق زبان بند کر لی۔ اصول یہ تھا کہ وہ اگر گھریلو خاتون رہیں گی تو ہم بھی ان کی ذات یا کردار کو موضوع بحث نہیں بنائیں گے لیکن کچھ عرصہ بعد انہوں نے مردان میں ایک حکومتی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس پر اگلے دن کالم لکھ کر میں نے متنبہ کیا کہ وہ سیاسی اور پارٹی سرگرمیوں میں شرکت سے گریز کریں۔ اگر وہ خاتون خانہ رہیں گی تو ہم ان سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے لیکن اگر وہ سیاسی اور حکومتی معاملات مین کوئی کردار ادا کریں گی تو پھر مجبوراً ہمیں بھی ان پر تنقید کرنا پڑے گی۔ اب یہی اصول خاتونِ اول اور دیگر خواتین سے متعلق بھی ہے۔ بقول سلیم صفی، مریم نواز چونکہ سیاست میں ہیں اس لئے روز ان پر تنقید ہوتی ہے اور شہباز گل جیسے لوگ ان کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو ہم نہ زبان پر لاسکتے ہیں اور نہ ہی سپرد قلم کرسکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شہباز گل، شبلی فراز اور اسی طرح کےدیگر مالشیے اور پالشیے اقتدار ملنے کے بعد سامنے آئے اور ہم عمران خان اور ان کے معاملات کو اس وقت سے قریب سے جانتے ہیں جب اس طرح کے لوگ دوسری دنیائوں میں گم تھے۔ پی ٹی آئی کے بانی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر فاروق خان میرے بھائی تھے۔ خان صاحب کے کرکٹ کے دنوں کے ہمسفروں نے بھی ہمیں بہت کچھ بتایا اور ان کے سیاست کے ساتھیوں نے بھی۔ میرا سینہ بہت سے رازوں اور معاملات سے بھرا پڑا ہے لیکن میں اس دن سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ ذاتی عناد کی بنا پر عمران خان یا ان کے اہل خانہ پر تنقید کروں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ خان صاحب مجھے 2011 سے گالیاں نکلوا رہے ہیں اور میرے پاس تمام تفصیلات موجود ہیں کہ سوشل میڈیا کی کون کونسی ٹیمیں تھیں اور کس سے منسلک تھیں۔ عارف علوی کا بیٹا کیا کر رہا تھا، افتخار درانی کی کیا ذمہ داری تھی، اس وقت سوشل میڈیا کے کون کونسے ایپس ہیں، انہیں کس طرح وزارتِ اطلاعات سے منسلک کردیا گیا ہے، کس کس کو کتنی تنخواہ مل رہی ہے اور شہباز گل جیسے لوگ ان کو کس طرح استعمال کررہے ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میری ٹرولنگ میں کس کس کا کتنا حصہ تھا اور یہ بھی معلوم ہے کہ سینئیر صحافی عاصمہ شیرازی کی ٹرولنگ میں عارف علوی کے بیٹے کی ٹیم کا کیا کردار ہے اور شہباز گل اینڈ کمپنی کا کیا کردار ہے ؟
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ ماضی میں عمران خان کے گھریلو معاملات میں جس قدر عون چودھری گھسے ہوئے تھے، اِن دنوں فیصل جاوید اور ان کے بھائی خرم جاوید گھسے ہوئے ہیں، لیخن وہ عون چودھری کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ عون کو اسی دن کیوں اور کس کے حکم پر بے دخل کردیا گیا جس روز عمران خان بطور وزیراعظم حلف اٹھارہے تھے۔ میں جہانگیر ترین کو فارغ کرنے کی اصل کہانی سے بھی واقف ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ زلفی بخاری کس طرح آئوٹ ہوئے اور اب کس طرح ان ہورہے ہیں؟ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ چیئرمین نیب کی نازیبا ویڈیو وزیراعظم ہائوس سے کس شخص نے ٹی وی پر چلوائی، لیکن ہم اپنی اقدار کے اسیر ہیں۔ صافی کہتے ہیں کہ انہوں نے دس سال تک غلیظ گالیاں برداشت کیں لیکن جواب میں کبھی عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی رہنما بارے ذاتیات پر نہیں اترا۔ ہم جیسے لوگ تو اب اس معاملے میں یکسر لاپروا ہوگئے ہیں۔ یوں جب میں مین اسٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا میں اس طرح کے حاسدوں کو حسد کی آگ میں جلتا دیکھتا ہوں تو مجھے ایک لمحے کے لئے ان پر ترس آجاتا ہے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ ہماری طرف سے ان کو کھلی اجازت ہے۔ جتنا زور لگا سکتے ہیں لگالیں۔ جتنے سرکاری وسائل خرچ کرسکتے ہیں، کرلیں۔ وہ کردار کشی کے ساتھ اگر جیل بھیجنے کی آپش آزمانا چاہتے ہیں تو وہ بھی آزما کر دیکھ لیں لیکن اب عمران خان کے ایما پر انکی ٹیم نے خواتین صحافیوں کی کردارکشی اور بلیک میلنگ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کی وجہ سے کسی بھی وقت کسی کا بھی پیمانہ صبر لبریز ہوسکتا ہے۔ جواب میں یہ سلسلہ عمران خان کے گھر تک دراز ہوسکتا ہے۔ لہازا سلیم صافی کہتے ہیں کہ یہ خاتونِ اول بشری بی بی کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے میاں کو روکیں کہ وہ میڈیا اور سیاست سے وابستہ خواتین کی کردار کشی کا سلسلہ فوری بند کروائیں۔
