بلوچستان کے بعد وفاق اور پنجاب میں تبدیلی کی باتیں


وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے استعفے کے بعد جہاں صوبے میں حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں وہیں پنجاب میں بزدار اور وفاق میں عمران حکومت کی تبدیلی کی باتیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ اس بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال میں حزبِ اختلاف کی جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں جبکہ حکومت کے اتحادی ناراضی کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان میں ایک ایسے وقت میں تبدیلی آئی ہے جب وفاق میں وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت کے مابین نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر اختلاف چل رہا تھا۔

پاکستانی سیاست میں عمومی خیال یہی ہے کہ بلوچستان میں حکومت کا آنا اور جانا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا لہذا بلوچستان میں جام کمال کی حکومت جانے کو معنی خیز خیال کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی یا باپ وفاق میں عمران خان کی اتحادی ہے اور ان کی حکومت باپ کی مدد کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتی۔ چنانچہ جام کمال کی حکومت جانے کے بعد اب اسلام آباد میں یہ افواہیں زور پکڑ رہی ہیں کہ کیا پنجاب اور وفاق میں بھی تبدیلی کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی کی طرح پنجاب میں بھی عمران خان کی حکومت اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔

ملک میں مہنگائی کی حالیہ لہر اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے نے پہلے ہی عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں عوام کی ناراضی کو حکومت مخالف تحریک کی صورت میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت مخالف جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے مہنگائی اور حکومتی مبینہ بدانتظامی کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاج شروع کر رکھے ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتیں جہاں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کا آغاز کیے ہوئے ہیں وہیں وہ حکومتی اتحادیوں کو بھی مشورہ دے رہی ہیں کہ وہ پاکستانی عوام کے وسیع تر مفاد میں تحریکِ انصاف کی حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کے علاوہ فوج کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بھی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے جس کے حل میں تاخیر ہر گزرتے دن کے ساتھ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

وفاق میں کپتان حکومت کے حالات خراب ہوتے دیکھ کر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے حکومت گرانے کی تحریک دوبارہ کھڑی کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ سینئیر تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ مہنگائی کا جن حکومت کے قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت مخالف تحریک بن رہی ہے۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے باہمی اتحاد کے بغیر یہ تحریک کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔ سلیم بخاری کے بقول حزبِ اختلاف کی جماعتیں دوبارہ سے متحد ہو رہی ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم میں واپس آنا اب آسان نہیں ہے خصوصا جب الیکشن کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کو بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ اس نے بھی اب اگلے الیکشن کی تیاری کرنا ہے اور اسوقت وہ کسی بڑی سیاسی جماعت کی اتحادی بننا گوارا نہیں کرے گی۔

اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ انہیں حکومت کے خلاف سازش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حکومت خود ہی اپنے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ خیال رہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ان مصنوعات کی قیمتیں ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے، مہنگائی اور اہم حکومتی امور میں مشاورت نہ کرنے کو جواز بنا کر اتحادی جماعتیں بھی اب حکومت سے ناراضی کا اظہار کر رہی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہی ہے جسکی وجہ سے حکومتی اتحادی ہونے کی حیثیت سے ان کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کو بتانا چاہتے ہیں کہ انکی کارگردگی کا بوجھ ان کی جماعت پر بھی پڑ رہا ہے۔ وفاق اور پنجاب میں عمران خان کی ایک اور اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) بھی حکومت سے نالاں دکھائی دیتی ہے۔

اس معاملے پر پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں گرتی ہوئی ساکھ اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے حکومت پر تنقیدی بیانات دے کر خود کو فاصلے پر لے جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام کو چلانے کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے حزبِ اختلاف اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت اور اہم امور پر انہیں اعتماد میں لینے کے عمل کی کمی رہی ہے جو کہ اتحادی جماعتوں کی دوری کی ایک وجہ ہے۔ان کے بقول مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کے پاس حکومت کو چھوڑ کر دوسری طرف جانا آسان فیصلہ نہیں ہو گا کیوں کہ (ق) لیگ کا پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے لیے سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کی طرف جانا مشکل ہوگا۔

اس معاملے پر سلیم بخاری کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی سابق اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی پہلے ہی حکومت سے علیحدہ ہو چکی ہے اور پارلیمنٹ میں قلیل اکثریت رکھنے والی پی ٹی آئی حکومت کو ایم کیو ایم آنکھیں دکھا رہی ہے اور (ق) لیگ کے بیانات سے بھی لگتا ہے کہ سب درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اتحادی فاصلہ اختیار کرتے ہیں تو وفاق اور پنجاب میں عمران خان کو اپنی حکومت برقرار رکھ پانا بہت مشکل ہوگا۔

چنانچہ مہنگائی اور حکومتی اتحادیوں کے ناراضی کے شور میں پنجاب میں ایک مرتبہ پھر سے تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ گمان کیا جارہا ہے کہ بلوچستان سے آغاز ہونے والا تبدیلی کا اگلا پڑاؤ پنجاب ہوگا جہاں تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے ہی ناراض جہانگیر ترین گروپ یا مسلم لیگ ق سے خطرہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ان کی جماعت پنجاب میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حامی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ترین گروپ اور مسلم لیگ ق سے معاملات طے کر کے بتائے تو (ن) لیگ ساتھ دے گی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی نمبر گیم مکمل کر کے رابطہ کرنے کی پیش کش کو قبول کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے وزیرِ اعلی عثمان بزدار کی کارگردگی پر اتحادی جماعتیں اور پی ٹی آئی کے اپنے اراکین دبے الفاظ میں عدم اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سلیم بخاری پنجاب میں بدلتی سیاسی صورتِ حال پر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکومت گرانا نہیں چاہے گی اور اس حوالے سے مریم نواز کا بیان موجود ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں اپنے پانچ سال مکمل کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ پنجاب میں تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لیگ ق حزب اختلاف کا ساتھ دے جو کہ ناممکنات میں نہیں البتہ موجودہ حالات میں مشکل دکھائی دیتا ہے۔

تاہم پروفیسر حسن عسکری کے بقول ابھی تک یہ اشارے نہیں مل رہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ البتہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پنجاب میں حکومت کی تبدیلی وفاق میں عمران خان کی حکومت کو گرانے میں راہ ہموار کرے گی تاہم مسلم لیگ ن اس عمل کے نتیجے میں اندرونی خلفشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں اس وقت شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان پارٹی سربراہ کے جانشین کی جنگ چل رہی ہے اور اگر پنجاب میں عدم اعتماد ہوگا تو اصولی طور پر صوبائی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف حمزہ شہباز وزیرِ اعلی بنیں گے جو مریم نواز کو قبول نہیں۔ تاہم ایک بات ہے کہ بلوچستان کے بعد اگر وفات میں بھی تبدیلی آنی ہے اس کا آغاز پنجاب میں تبدیلی سے ہوگا۔

Back to top button