بلاول نے امریکہ میں عمران کا دفاع کیا یا پاکستان کا؟


پاکستانی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں اگلے لمحے کا علم نہیں، اور کوئی نہیں جانتا کہ کب کسی بڑے فیصلے کا اعلان ہو جائے۔ اس تیزی سے بدلتی صورتحال میں سیاست دان ایک دوسرے پر مسلسل الزامات عائد کرنے میں مصروف ہیں اور سخت زبان کا استعمال معمول بن گیا ہے۔ تاہم ایسے تنائو کے ماحول میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی جانب سے قدرے خوش آئند خبر آئی ہے جو آج کل امریکہ کے اہم ترین دورے پر ہیں اور دونوں ممالک میں سرد مہری کم کرنے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہیں۔

امریکہ کے دورے کے دوران جہاں بلاول بھٹو کے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی اقوامِ متحدہ میں کی جانے والی تاریخی تقریر کی بازگشت سنائی دی وہیں ان سے ان کی والدہ بینظیر بھٹو سے متعلق بھی سوال پوچھے گئے۔ تاہم سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ روس سے متعلق سوال کا جواب ان کے اس دورے کا سب سے نمایاں پہلو بن گیا ہے۔ نیویارک میں جب بلاول سے ایک پریس بریفنگ کے دوران پوچھا گیا کہ عمران کی جانب سے دورہ روس کے باعث یورپ اور امریکہ میں خاصی مایوسی پائی جاتی ہے تو آپ اس سے کیسے نبرد آزما ہوں گے۔ اس پر بلاول نے کہا کہ ’میں سابق وزیرِ اعظم کے دورہ روس کا دفاع کروں گا۔ انھوں نے یہ دورہ اپنی خارجہ پالیسی کے حساب سے کیا۔ کسی کی بھی چھٹی حس اتنی اچھی نہیں ہوتی، ہمیں کسی بھی صورت میں اس بارے میں علم نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ وہ وقت ہو گا جب روس یوکرین تنازع شروع ہونے جا رہا تھا۔

بعد میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جب میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے کام کرتا ہوں تو میں صرف پیپلز پارٹی کے حمایتیوں کی نمائندگی ہی نہیں کر رہا ہوتا بلکہ پورے پاکستان کے عوام کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہوں۔’
خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس فروری کے اواخر میں روس کا دورہ کیا تھا جسے سفارتی اعتبار سے نہایت اہم سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی جب روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کیا جا چکا تھا۔ تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے اور عمران کے وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد سے عمران کی جانب سے بارہا اس دورے کا ذکر کیا جاتا رہا ہے اور ان کی جانب سے کئی دعوے بھی سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھیں مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے روس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی ’سزا‘ دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر بلاول کو عمران خان کے بیان کا دفاع کرنے پر خاصی پذیرائی مل رہی ہے اور اکثر افراد سابقہ وزیرِ اعظم عمران خان کے بیرونِ ملک دوروں کے دوران دیئے گئے بیانات کا حوالہ بھی دے رہے ہیں۔ امریکہ کے دورے پر جانے کے بعد سے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلاول بھٹو کو کسی نے کسی انداز میں عمران خان کے کسی بیان یا اقدام کا دفاع کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل معروف امریکی صحافی کرسٹیان امان پور نے جب ان سے عمران خان کے افغانستان کے بارے میں اس بیان میں پوچھا جس میں انھوں نے طالبان کے افغانستان پر قبضے کو ‘غلامی کی زنجیریں توڑنے’ سے تشبیہ دی تھی تو بلاول نے عمران خان پر تنقید کرنے کی بجائے کہا کہ ’ہماری توجہ مستقبل پر ہے، کیونکہ اگر ماضی کے الزامات کے بارے میں بات کی جائے تو امریکہ کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔’

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین، تجزیہ کار اور صحافی ’بڑا پن‘ دکھانے پر ان کی تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ شاید عمران خان ان کی جگہ ہوتے تو ایسا نہ کرتے۔ صارف خرم قریشی نے کہا کہ آپ اپنے ملک کی نمائندگی اس طرح کرتے ہیں۔ وکیل اھمد پنسوٹا کا کہنا تھا کہ ’اپنے حریف کے اقدام کا دفاع کرنے کے لیے بڑا پن اور ہمت چاہیے ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو کے اس اقدام کی تمام افراد کی جانب سے تعریف کرنی چاہیے۔ن’سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن اس وقت وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں اور پاکستان سے کوئی بھی اور کچھ بھی پہلے نہیں آ سکتا۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ اگر آپ سفارت کاری کے بارے میں کچھ سیکھنا ہے تو آپ بلاول بھٹو سے سیکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح ایک صارف نے لکھا کہ ’بلاول نے عمران خان کی خارجہ پالیسی کا دفاع کیا جو انھیں کرنا چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی اپنے والد کی حکومت کے دوران ہونے والے ریکارڈ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں سے اظہارِ افسوس تو کیا لیکن اس دوران اپنے والد آصف زرداری کا ذکر نہیں کیا۔‘صحافی خاور گھمن کا کہنا تھا کہ ’عمران بڑے غور و خوض کے بعد روس گئے اور یہ وزارتِ خارجہ کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے جس کے بلاول اس وقت وزیر ہیں۔ تو وہ کیسے اس بات کی نفی کر سکتے تھے۔‘ ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ ‘بلاول نے جس انداز میں عمران خان کے دورہ روس کا دفاع کیا شاید ان کے اپنے ترجمان بھی نہ کر پاتے۔‘

تاہم تحریک انصاف کے حمایتی بلاول کی جانب سے پاکستان کو ’سزا‘ دینے کی بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کا مؤقف بھی بالکل یہی ہے کہ پاکستان کو روس کے ساتھ روابط کی سزا دی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ جب سنہ 2019 میں عمران خان دورہ امریکہ پر گئے تھے تو وہاں پارک ون ارینا میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا تاہم یہ تقریر انھوں نے امریکہ میں موجود اپنے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔

Back to top button