کیا پرویز الٰہی حمزہ شہباز کی جگہ وزیر اعلیٰ بن پائیں گے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تحریکِ انصاف کے 25 منحرف اراکینِ پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے بعد پنجاب میں ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے اور حمزہ شہباز شریف کی وزارت اعلیٰ بھی ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف اور وزیراعلیٰ نہیں رہے جبکہ نواز لیگ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو پنجاب اسمبلی میں اب بھی اکثریت حاصل ہے۔
جمعے کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اتفاقِ رائے سے فیصلہ سنایا۔ تحریکِ انصاف کے 25 منحرف اراکینِ پنجاب اسمبلی نے پارٹی پالیسی کے برخلاف حمزہ شہباز شریف کو ووٹ دیا تھا۔ تحریکِ انصاف نے ان اراکین کو نااہل قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اراکینِ پنجاب اسمبلی علیم خان، نعمان لنگڑیال، اجمل چیمہ، سعید اکبر خان نوانی، نذیر چوہان، راجہ صغیر احمد، ملک غلام رسول لنگاہ سمیت 25 پی ٹی آئی اراکین ڈی سیٹ ہو گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ اب حمزہ شہباز شریف کے بطور وزیرِ اعلیٰ برقرار رہنے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں رہی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج گھناؤنی سیاست کا ایک اور باب بند ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس منحرف ارکانِ اسمبلی سے متعلق پی ٹی آئی کے ریفرنس پر فیصلہ سنانے کے لیے 29 مئی کو آخری دن تھا کیوں کہ کمیشن ریفرنس پر 30 روز کے اندر فیصلہ سنانے کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن نے 17مئی کو پی ٹی آئی کے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹ کی کہ تحریکِ انصاف چاہے کچھ بھی کر لے، شیر سے پنجاب چھیننے کا خواب چکنا چور ہو گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو دن رات گالیاں دینے والے عمران خان کو آج کچھ تو شرم آئی ہو گی مگر کہاں!
آئینی ماہرین کے مطابق پنجاب میں اب آزاد ارکانِ پنجاب اسمبلی اہمیت اختیار کر گئے ہیں اور یہی چار ارکان اسمبلی وزیرِ اعلٰی کے دوبارہ انتخاب کی صورت میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پنجاب میں پارٹی پوزیشن کی بات کی جائے تو موجودہ پنجاب اسمبلی میں وزارتِ اعلٰی کے لیے درکار 186 ارکانِ پنجاب اسمبلی کی حمایت کسی بھی جماعت کو حاصل نہیں ہے۔ منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اب حمزہ شہباز کو 172 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ وزیرِ اعلٰی پنجاب کے انتخاب میں اگر ووٹنگ کے دوران کوئی بھی اُمیدوار 186 ارکان کی حمایت حاصل نہیں کر پاتا تو رولز کے مطابق ‘سیکنڈ رن’ یعنی دوبارہ ووٹنگ ہو گی جس میں ہال میں موجود ارکانِ اسمبلی میں اکثریتی ووٹ لینے والا وزیرِ اعلٰی کا انتخاب جیت جائے گا۔پنجاب اسمبلی قواعد کے مطابق اگر قائدِ ایوان کے انتخاب میں دونوں امیدوار برابر ووٹ حاصل کر لیتے ہیں تو اِیسی صورتِ حال میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا ووٹ حتمی تصور ہو گا۔
گزشتہ ماہ وزیرِ اعلٰی کے انتخاب کے دوران حمزہ شہباز نے مجموعی طور پر 197 ووٹ حاصل کیے تھے۔ حمزہ شہباز کو مسلم لیگ (ن) کے 160 ارکان کے ووٹ ملے تھے۔ تحریکِ انصاف کے 25 منحرف ارکان ، پیپلزپارٹی کے سات، راہ حق پارٹی کا ایک جبکہ چار آزاد ارکان نے حمزہ شہباز کو ووٹ دیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے پانچ ارکان اور چوہدری نثار نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ لہذٰا نئے انتخاب اور منحرف اراکین کے ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد پنجاب میں وزارتِ اعلٰی کا دوبارہ انتخاب دلچسپ ہو جائےگا۔ وزیراعلی کے دوبارہ الیکشن میں چوہدری نثار علی خان اور تین دیگر آزاد اراکین کے ووٹ بھی اہمیت حاصل کر گئے ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں تحریکِ انصاف کے ارکان کی تعداد 158 جب کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان ہیں، تحریکِ انصاف کے 25 منحرف ارکان کے نااہل ہونے کی صورت میں خصوصی نشستوں پر تحریکِ انصاف کے پانچ نئے ارکان ایم پی اے بن جائیں گے۔ لہذٰا پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی کل تعداد 173 ہو جائے گی۔ اس طرح موجودہ صورتِ حال برقرار رہنے پر تحریکِ انصاف کو نئے انتخاب میں ایک ووٹ کی برتری حاصل ہو گی۔ ایسی صورت میں اگر چار آزاد ارکان مسلم لیگ (ن) کا ساتھ چھوڑتے ہیں تو تحریکِ انصاف کی پوزیشن اور مضبوط ہو جائے گی۔
ادھر لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کو وزیرِاعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے حلف کے خلاف اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر انہیں نوٹس جاری کر دیا ہے۔
دوسری جانب اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا انتخاب ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی نے سماعت کی۔ پرویز الٰہی کی جانب درخواست میں حمزہ شہباز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حمزہ شہباز نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے مطلوبہ ووٹ نہیں لیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں حمزہ شہباز کے پاس اسمبلی میں مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک حمزہ شہباز کو بطور وزیر اعلیٰ کام سے روکا جائے اور ان کے حلف کو کالعدم قرار دے کر نئے الیکشن کرانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ جمعے کو سماعت کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کر دی ہے کہ منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ حمزہ شہباز کو پی ٹی آئی کے منحرف ارکان نے ووٹ دیا تھا اس لیے اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر رہنے کا جواز کھو چکے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کب سے لاگو ہوگی؟ دیکھنا یہ ہے کہ جو اقدامات ہو گئے کیا وہ بھی کالعدم ہو سکتے ہیں؟
عدالت نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے خلاف درخواستیں منظور کرتے ہوئے کیوں نہ مخالف فریق سے جواب لے لیں۔ بعد ازاں عدالت نے حمزہ شہباز سمیت فریقین کو 25 مئی کے لیے نوٹسز جاری کردیئے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کا اصرار ہے کہ منحرف ارکان سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد اب حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہیں رہے اور صوبے میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی ڈی سیٹ نہیں ہوئے، اب معاملہ واپس 16 اپریل والی صورت حال پر آگیا ہے۔ قانونی طور پر آرٹیکل 130 کے مطابق اب وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا دوسرا راؤنڈ ہوگا اس میں جو اکثریت لے گا وہی وزیراعلیٰ ہوگا۔ اب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ بلایا جائے گا جب کہ پنجاب میں اس وقت کوئی گورنر بھی نہیں ہے اور گورنر کے لیے نوٹیفکیشن بھی نہیں ہوسکا ہے، اب نیا گورنر آنے کے بعد ہی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا اور نئے سرے سے ووٹنگ ہوگی۔
اسں معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ حمزہ شہباز اب وزیر اعلیٰ نہیں رہے۔ اب وزیراعلیٰ کے لیے ووٹنگ دوبارہ ہوگی، منحرف ارکان کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست ہے۔
پنجاب اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 186 ووٹ درکار ، پی ٹی آئی کے 25 منحرف ارکان نکال کر کسی پارٹی کی سادہ اکثریت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے 183 میں سے 158 ووٹ باقی جبکہ ق لیگ کے10، ن لیگ کے4 منحرف ارکان ملاکر 172 ووٹ بنتے ہیں۔ اگر ن لیگ کے 165 ارکان میں سے چار منحرف نکال دیں تو 161 بنتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے 7، آزاد 5 اور راہِ حق کا ایک ووٹ ملائیں تو 174 بنتے ہیں ۔ تاہم اعداد و شمار کے لحاظ سے ن لیگ کو اب بھی 2 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں گورنر نہیں ہیں اور اسپیکر نے بھی گورنر کا چارج نہیں لیا جبکہ گورنر پنجاب نہ ہونے پر اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کوئی ایڈوائس نہیں آسکتی۔منحرف اراکین کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے لیے تو مشکلات کھڑی کی ہی ہیں لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے لیے مسائل کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے۔ اگر پرویز الہٰی وفاقی حکومت کی ایڈوائس کے مطابق حمزہ شہباز کو اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے گورنر کا عہدہ سنبھالتے ہیں تو ڈپٹی سپیکر فوری طور پر اسپیکر کا عہدہ سنبھال کر ان کے خلاف زیر التوا تحریک عدم اعتماد پاس کروا سکتا ہے۔
