نوجوت سنگھ سدھو کو کس کیس میں قید کی سزا ہو گئی؟


سابق وزیراعظم عمران خان کے دوست اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو جادو کی جپھی ڈال کر بھارت میں تنقید کی زد میں آنے والے سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو 1988 میں ہونے والے ایک سڑک حادثے میں مجرم قرار دے کر ایک سال کی قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ سدھو نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

اپنے شاعرانہ انداز سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے اور بھارت کے مقبول ’’کپل شرما شو‘‘ سے شوبز میں پہچان بنانے والے نوجوت سدھو کوبھارتی سپریم کورٹ نے 34 برس پرانے ایک ایکسیڈنٹ میں ایک شخص کی ہلاکت پرایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو کو پہلے دی گئی سزا پر نظرثانی کی درخواست کی سماعت بھارتی عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ جسٹس اے ایم کھانولکر اور ایس کے کول نے کی، نوجوت سنگھ سدھو پر 1988 میں کار حادثے میں ایک شخص کی ہلاکت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کانگریس پنجاب کے سابق صدر نوجوت سنگھ سدھو کو پہلے اس مقدمے میں ایک ہزار روپے جرمانے کے ساتھ بری کر دیا گیا تھا، تاہم حادثے میں ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین نے عدالت عظمیٰ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے نوجوت سنگھ سدھو کی سزا بڑھاتے ہوئے انہیں ایک سال قید کی سزا سنائی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ریکارڈ میں بظاہر غلطی سامنے آئی ہے، لہٰذا ہم نے سزا کے معاملے پر نظرثانی کی درخواست کی اجازت دی جبکہ جرمانے کے علاوہ ہم ایک سال کی مدت کے لیے قید کی سزا دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ 58 سالہ نوجوت سنگھ سدھو کو ایک سال قید بامشقت کے لیے خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا، کانگریس رہنما نے فیصلے پر ٹوئٹ میں کہا کہ ’وہ عدالت کے فیصلے کی تابعداری کریں گے۔ بعد ازاں انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

کرکٹر سے سیاستدان بننے والے کانگریس رہنما نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ اس بات کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایک ہی چوٹ سے 65 سالہ شخص کی موت ہوئی، نوجوت سنگھ سدھو نے متاثرہ خاندان پر مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے لیے بدنیتی کا الزام بھی لگایا۔ سندھو نے عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں لکھا تھا کہ عدالت نے بجا طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ فیصلہ آئی پی سی کے سیکشن 323 کے تحت آئے گا، کیونکہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ لگنے والی چوٹ کے نتیجے میں اس شخص کی موت ہوئی اور نہ اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ موت، ملزم کی طرف سے ایک ہی ٹکر سے ہوئی ہے۔

Back to top button