کشمیری رہنما یاسین ملک کو بھارت میں سزائے موت کا امکان


نئی دلی کی تہاڑ جیل میں کئی برسوں سے قید معروف کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کو دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دیدیا گیا ہے اور اس امکان کا اظہار کیا جارہا ہے کہ انہیں 25 مئی کو سزائے موت سنا دی جائے گی۔ دہشت گردوں کی معاونت کے اسی کیس میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یاسین ملک برسوں سے بھارتی جیل میں قید ہیں جبکہ ان کی اہلیہ مشال ملک اور بیٹی اسلام آباد میں مقیم ہیں۔

یٰسین ملک پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عدالت نے یٰسین ملک کو مجرم قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ انکی سزا کا اعلان 25 مئی کو دلائل سننے کے بعد کیا جائے گا۔ یٰسین ملک نے بطور احتجاج خود پر لگے الزامات کا دفاع نہیں کیا، ان الزامات میں اقدام دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت، دہشت گردانہ عمل کی سازش، اور دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ 57 سالہ یاسین ملک پر 1989 میں تب کے انڈین وزیرداخلہ اور کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سید کو اغوا کرنے اور 1990 میں انڈین فضائیہ کے چار افسروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کا بھی الزام ہے، تاہم تازہ فرد جرم میں ان الزامات کا ذکر نہیں ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ نے یاسین ملک پر لگے الزامات کو فرضی قرار دے کر بھارتی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے اور آزاد کشمیر میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب یاسین ملک کا کہنا ہے کہ وہ ایک حریت پسند ہیں اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ قبضے سے چھڑانے کے لیے برسرپیکار رہیں گے۔

ان کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ ’یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اقرارکیا ہے کہ میں حق خود ارادیت کی جدوجہد کررہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی نے بھی کی تھی اور یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

تاہم عدالت نے یاسین ملک کو دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے کا قصوروار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے پوری دنیا میں ایک وسیع اسٹرکچر اور میکانزم تشکیل دیا ہے تاکہ جموں و کشمیر میں ’آزادی کی جدوجہد‘ کے نام سے غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے دہشتگردوں کی مالی معاونت کی جا سکے۔ عدالت نے چند اور کشمیری حریت پسندوں پر بھی فردِ جرم عائد کی، جن میں فاروق احمد ڈار، شبیر شاہ، مسرت عالم، محمد یوسف شاہ، آفتاب احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، نعیم خان، محمد اکبر خاندے، راجا مہراج الدین کلوال، بشیر احمد بھٹ، ظہور احمد شاہ وتالی، شبیر احمد شاہ، عبدالرشید شیخ، اور نوال کیشور کپور شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اسی عدالت میں لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے خلاف بھی چارج شیٹ دائر کی گئی تھی، جنہیں اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے، پاکستان نے بھارتی حکام کی طرف سے کشمیری حریت رہنما یٰسین ملک کے خلاف من گھڑت الزامات عائد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی سفارتی عہدیدار کو ایک احتجاجی مراسلہ سونپا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے مقامی کشمیری رہنماؤں کی آواز کو دبانے سے متعلق پاکستان تشویش کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہلی نے انہیں من گھڑت محرکات میں پھنسانا شروع کر دیا، مراسلے میں کہا گیا کہ کشمیری قیادت کے خلاف جھوٹے الزامات لگانے کے مذموم بھارتی حربے اور نہ ہی ظلم و جبر اور دھمکیوں کا ماحول بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کی کو ختم کر سکتا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ وہ یٰسین ملک کے خلاف تمام بے بنیاد الزامات واپس لے اور اسے فوری طور پر رہا کرے تاکہ وہ اپنے خاندان سے دوبارہ مل سکے اور معمول کی زندگی میں واپس آ سکے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سمیت عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی جانب سے کشمیری رہنما کے ساتھ کیے جانے والے غیر انسانی سلوک کا فوری نوٹس لیں۔

Back to top button