بلدیاتی انتخابات کیلئے حکومت سندھ کو حتمی مہلت

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے سندھ حکومت کو 2 ہفتے کی مہلت دیدی۔

حکم نامے میں بتایا گیا کہ یکم دسمبر 2021 سے کمیشن بلدیاتی قانون سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 اور اس سے متعلق بنائے گئے قواعد کے تحت متبادل طور پرحد بندی شروع کریگا۔ الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ حکومت حلقہ بندیوں کا منصوبہ یا شیڈول تیار کریں اور اس پر ای سی پی سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگی ۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سندھ میں بلدیاتی حکومت کی مدت 30 اگست 2020 کو ختم ہوچکی اور قانونی و آئینی ذمہ داری کے تحت کمیشن سابق حکومت کی مدت ختم ہونے کے 120 روز میں انتخابات منعقد کرتا ہے۔

بلدیاتی حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد کمیشن صوبائی حکومت سے اصرار کر رہا ہے کہ حلقہ بندی کے لیے اعداد و شمار فراہم کیے جائیں ، اس سے قبل معاملے سے متعلق سندھ حکومت کو مختلف خطوط لکھنے کے علاوہ نمائندوں سے ملاقات بھی کی گئی۔

حکم نامے میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تعاون نہیں کیا جارہا اور مختلف مؤقف ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں‌ کر رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تجزیہ کیا کہ مزید تاخیر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 140 اے اور 219 ڈی کی خلاف ورزی ہوگی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں بتایا گیا کہ آرٹیکل 7، 32 اور 140 اے (1) کے تحت ہر صوبہ پابند ہے کہ صوبے میں بلدیاتی حکومتی نظام قائم کرتے ہوئے سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات منتخب نمائندگان کے سُپرد کیے جائیں۔آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ چیف الیکشن کمیشن کی تعاون کرے اور ای سی پی الیکشن کا انعقاد کرے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد فیصلے کیے گئے جس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی آئینی زمہ داریوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ادھر بلوچستان ہائیکورٹ بار بالمقابل ایف او پی اور راجا رب نواز مقدمات میں سپریم نے فیصلہ کیا کہ صوبوں کو بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کرنے کے اختیارات ہیں۔

Back to top button