ہندوؤں کی املاک کی فروخت پر وضاحت طلب

عدالت عظمیٰ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے کراچی میں ہندو املاک کی مبینہ فروخت کی وضاحت دینے کی ہدایت کر دی ۔ پی ایچ سی کے پیٹرن ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اقلیتی برادری کی املاک کے تحفظ سے متعلق دی گئی ہدایات پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے پٹیشن کی سماعت میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت اقلیتیوں کی املاک فروخت کیا جا رہا ہے ۔درخواست میں ڈاکٹر رمیش کمار نے سال 2014 کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی استدعا کی تھی ، سکولوں اور کالجوں کے لیے نصاب تیار کر کے معاشرے میں مذہبی اور ثقافتی رواداری کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے لیے رہنما اصول وضع کیے گئے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں رواداری کے فروغ کے لیے ٹاسک فورس کی تشکیل اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے پولیس یونٹ کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے یہ ثابت کرنے کے لیے دستاویزات میں رد و بدل کیا کہ محکمہ ورثہ سندھ نے کراچی میں ہندو یاتریوں کے قیام کی جگہ (دھرم شالہ) کو مسمار کرنے کے لیے تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) جاری کیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر ایک ہزار 831 مندر اور گردوارے بورڈ کے دائرہ اختیار میں ہیں لیکن ان میں سے صرف 31 عبادت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بقیہ کو یا تو بند کردیا گیا، اس پر تجاوزات قائم کردی گئیں۔
