بلوچستان میں دہشت گردی کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟

بلوچستان میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب تک مختلف حملوں میں سیکورٹی فورسز کے 20 سے زائد اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا تعلق افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے بھی ہے کیونکہ اب وہاں چھپے ہوئے دہشت پسند دوبارہ سے پاکستان کے سرحدی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں ماہ یکم جون کو کوئٹہ اور تربت میں فرنٹیئر کور پر حملوں میں چار اہل کار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے تھے۔
ایک اور واقعہ رواں سال 10 مئی کو پیش آیا۔ جب کوئٹہ اور تربت میں فائرنگ کے دو واقعات میں تین ایف سی اہلکار سہید ہوگئے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فائرنگ کا پہلا واقعہ کوئٹہ سے تقریباً 70 کلو میٹر دور ہرنائی اور کوئٹہ کے سرحدی مقام مارگٹ میں سرکی کچھ میں پیش آیا۔حملہ آوروں نے سیکیورٹی پر مامور ایف سی 89 ونگ کی خالد چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔فائرنگ کے تبادلے میں تین ایف سی اہلکار شہہد اور ایک زخمی ہوا تھا۔ یاد رہے کہ رواں سال پانچ مئی کو بھی بلوچستان کے ضلع ژوب میں پاک افغان سرحد پر سرحدپار سے کی جانے والی فائرنگ سے ایف سی کے چار اہلکار ہلاک جب کہ چھ زخمی ہوگئے تھے۔یہ اہلکار پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے کام میں مصروف تھے۔
ژوب میں ہونے والے واقعے پر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغان سر زمین پر منظم دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔
سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے مختلف واقعات کے بعد پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے دوران جوابی کارروائیوں میں اب تک 10 سے زائد دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ بلوچستان کے سیاسی اور سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ حالیہ واقعات پر حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ حالانکہ ان کے بقول معلومات کی بنیاد پر بہت سے آپریشنز بھی ہوئے ہیں اور بہت سے لوگ بھی مارے گئے ہیں۔ ذوالفقار نے کہا کہ اگر گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ کو دیکھیں تو اس دوران بھی 22 کے قریب ایسے حملے ہوئے اور رواں سال کے چھ ماہ کے دوران بھی ایسے ہی حملے دیکھنے میں آئے اور یہ تقریباً 82 حملے بنتے ہیں، جو کہ بہت بڑا اضافہ ہے۔
شہزادہ ذوالفقار کے مطابق شدت پسندی اور سیکیورٹی فورسز پر حملے روکنے کے لیے صرف فوجی آپریشن اور طاقت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ سیاسی سطح پر بھی مسئلے کا حل نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ دو ملکوں کی لڑائی نہیں جس میں دو طاقتیں آمنے سامنے ہوں، یہ ایسی لڑائی ہے کہ جو لوگ کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ شہروں اور آبادیوں میں چھپ جاتے ہیں اور انہیں یہاں سے مدد بھی ملتی ہے کہ وہ حملہ کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ شہزادہ ذوالفقار کے بقول ہمیں یہ یقین نہیں ہے کہ جو واقعات ہو رہے ہیں، کیا واقعی اسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی ہے لیکن یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور اس سے یہ لگتا ہے کہ یہ تنظیمیں منظم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کی بنیاد پر جیسے ہی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لیے یہ لوگ انڈر گراونڈ ہوجاتے اور ان کی کارروائیاں بھی کم ہوتی ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد یہ تنظیمیں دوبارہ فعال ہونا شروع ہوتی ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔ ان واقعات کا تعلق دہشت گرد گروہوں کی استعداد کار سے ہے۔ اس لیے کبھی یہ واقعات کم ہوتے اور کبھی بڑھ جاتے ہیں۔عامر رانا کے بقول بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کا جو عمل شروع ہوا ہے اس میں تحریک طالبان پاکستان کا عمل دخل زیادہ لگتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جو کارروائیاں مکران ڈویژن میں ہو رہی ہیں، ان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کا ہاتھ ہے۔ لیکن اب تک کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا جیسے کہ پی سی گوادر یا کوسٹل گارڈ پر حملے ہوئے تھے۔عامر رانا کے مطابق لگتا ہے کہ ان تنظمیوں کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے لیکن دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا تعلق افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے بھی ہے کیونکہ اب وہاں چھپے ہوئے دہشت پسند دوبارہ سے پاکستان کے سرحدی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ایسے حملوں سے بچنے کے لیے پاک افغان سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل کر لیا ہے لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید خاردار تاریں دہشت گردوں کا پاکستان میں داخلہ روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔
