بلوچستان کے2 اضلاع میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 28 افراد جاں بحق

عام انتخابات سے ایک روز قبل بلوچستان کے دو اضلاع میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 28 افراد جاں بحق ہوگئے۔بلوچستان میں پہلا دھماکا ضلع پشین کے علاقے خانوزئی میں ہوا جس میں 15 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ دوسرا دھماکا قلعہ سیف اللہ میں جے یو آئی (ف) کے دفتر کے باہر ہوا جس میں 13 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
خانوزئی میں ہونے والے دھماکے کے بعد علاقے میں کھڑی موٹرسائیکلیں تباہ ہوگئیں اور دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
خانوزئی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کی کہ دھما کے کے بعد 15افراد کی لاشیں اور 30 سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا ہے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
دھماکا عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اور سابق وزیر اسفند یار کاکڑ کے دفتر کے باہر ہوا ہے تاہم وہ دفتر میں موجود نہیں تھے، دھما کے کے وقت علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے دفاتر بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔
سابق وزیر اسفند یار خٹک کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے تاہم اس بار ٹکٹ نہ ملنے پر وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑرہے ہیں۔
حلقے سے آزاد امیدوار اسفند یار خٹک کا کہنا ہےکہ دھماکا ان کے دفتر کے باہر کھڑی موٹرسائیکل میں ہوا ہے۔
نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا کہ خانوزئی میں افسوسناک واقعہ ہوا، یہ خودکش دھماکا نہیں تھا، دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب تھا۔

Back to top button