بلوچ خاتون نے 350 کلو میٹر طویل پیدل مارچ کیوں کیا؟

دنیا بھر میں احتجاج کے بہت سے طریقے رائج ہیں،کبھی احتجاج پر امن ہوتا ہے تو کبھی پر تشدد، اسی طرح بلوچستان کے لوگوں کا بھی احتجاج کو اپنا انداز ہے، وہ ہنگامے نہیں کرتے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں بنتے، سڑکیں بلاک نہیں کرتے بس سڑک پر پیدل مارچ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں گزشتہ چند برسوں سے لوگوں کا اپنے مسائل کے حل کے لیے پیدل لانگ مارچ کرنے کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دوردراز کے علاقوں میں لوگوں کے احتجاج کو میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا پر بہت زیادہ کوریج نہیں ملتی ہے۔
اسی طرح بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک باہمت خاتون نے 350 کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ کا آغاز کیا توان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ مارچ کٹھن ہوگا لیکن انہوں نے تمام تر تکالیف اور مشکلات کے باوجود یہ مارچ کیا۔ اس مارچ میں اس خاتون کے ساتھ جو دیگر 19 افراد شامل تھے وہ سب مرد تھے۔ آخری دس کلومیٹر کے سوا وہ مارچ میں دیگر شرکاء سے پیچھے نہیں رہی۔ یہ خاتون آخری دس کلومیٹر میں اس لیے پیچھے رہی کیوں کہ ان کے دائیں پیر میں تکلیف کی وجہ سے ان کے پیدل مارچ کی رفتار انتہائی کم ہوگئی تھی۔ یہ کہانی ہے پاکستان کے صوبے بلوچستان کی ایک باہمت خاتون پروین میر کی جنہوں نے اپنے علاقے اوستہ محمد کے مسائل کے حل کےلیے 12روز کوئٹہ تک پیدل مارچ کیا۔
پروین میر کا تعلق صوبہ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کے علاقے اوستہ محمد سے ہے۔ وہ ایک پڑھی لکھی سماجی کارکن ہیں۔ ویسے تو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خواتین نے لاپتہ افراد کی بازیابی کےلیے کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک دو ہزار سے زائد کلومیٹر پیدل مارچ کیا تھا لیکن پروین میر بلوچستان کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے ایک علاقے کے عوام کی مشکلات اور تکالیف کو اجاگر کرنے اور ان کے مسائل کو حل کروانے کےلیے اتنا طویل پیدل مارچ کیا۔ اگرچہ 12روز مسلسل چلنے کی وجہ سے مارچ کے زیادہ تر شرکا کے پیر چھالے پڑنے کے باعث زخمی ہوئے تھے اور ان کےلیے بھی ایک مناسب رفتار کے ساتھ چلنا مشکل تھا لیکن پروین میر کا دایاں پیر بری طرح زخمی ہوا تھا۔ پروین میر کہتی ہیں کہ کوئٹہ شہر سے دس کلومیٹر پہلے جب ان کے پیروں میں تکلیف بہت زیادہ ہوگئی تو ان کےلیے دیگر ساتھیوں کے رفتار سے چلنا مشکل تھا اس لیے وہ ان کے پیچھے چلتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ دائیں پیر میں درد زیادہ ہونے کی وجہ سے جب وہ اسپتال گئیں تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے پیر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ بات باعث حیرت تھی کہ ان 12 دنوں کے سفر کے دوران میں کہیں گری نہیں تو فریکچر کیسے ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ زیادہ چلنے کی وجہ سے ان کے پیروں میں اسٹریس فریکچر ہے جو کہ پاﺅں پر زیادہ دباﺅ ڈالنے سے ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے میرے دائیں پیر پر پٹی کی ہے۔
اگرچہ ڈاکٹروں نے ان کو ایک ماہ تک آرام کا مشورہ دیا تاہم وہ آرام کی بجائے پریس کلب کے باہر پہنچ گئی جہاں ان کے دوسرے ساتھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج پر بیٹھے ہیں۔ پروین میر کا کہنا ہے کہ ان کو اور ان کے دیگر ساتھیوں کو راستے میں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ پیر زخمی ہوئے، راستے میں کھانے اور پینے کے حوالے سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن چونکہ علاقے کے لوگوں کی تکالیف ہمیں لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والی تکالیف سے بہت زیادہ ہیں اس لیے مجھے مارچ کو ترک کرنے کا خیال نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سفر کی مشکلات کے علاوہ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ان کی مارچ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ کوئٹہ شہر میں داخل ہونے سے پہلے اتنی بھاری نفری کھڑی تھی کہ ہم حیران ہوئے کہ ہم چند لوگوں کےلیے اتنی بڑی نفری کی کیا ضرورت ہے۔ پروین میر نے بتایا کہ کوئٹہ شہر میں داخل ہونے سے جب ہمیں روکا گیا تو ہمارے پوچھنے پر بتایا گیا کہ ہم نے کوئٹہ شہر میں احتجاج کےلیے این او سی نہیں لیا ہے اس لیے ہمیں آگے جانے نہیں دیا جائے گا۔ ہم نے کہا کہ ہم اتنے دور سے واپس جانے کےلیے نہیں آئے اور اگر ہمیں جانے نہیں دیا جاتا تو پھر ہمیں گرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انتظامیہ کے کہنے پر اپنا مارچ ختم نہیں کیا اور ہم کوئٹہ پریس کلب پہنچے تو ہمیں پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ بھی نہیں لگانے دیا گیا۔
خیال رہے کہ مارچ کرنے والوں کے مطالبات 15 نکات پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے اہم مطالبات اوستہ محمد کو ضلع کا درجہ دینا، وہاں گرلز کالج اور یونیورسٹی کا قیام، کھیر تھر کنال پر سیاسی مداخلت کا خاتمہ، اوستہ محمد میں صحت کی سہولیات اور صاف پانی کی فراہمی کے علاوہ سیوریج کی نظام کی بہتری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2013 سے لے کر تاحال اوستہ محمد کےلیے ملنے والے سرکاری فنڈز کی نیب کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ بھی ہے۔
پروین میر نے بتایا کہ اوستہ محمد کی آبادی پانچ لاکھ ہے جہاں گرلز کالج نہیں ہے جس کے باعث وہاں کی خواتین میٹرک کے بعد اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں نہ صرف گرلز کالج ہو بلکہ یونیورسٹی بھی قائم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوستہ محمد میں لوگوں کے روزگار کا انحصار زراعت پر ہے جب کہ زراعت کا انحصار کھیر تھر کنال پر ہے لیکن کھیر تھر کنال پر بااثر لوگوں کی مداخلت کی وجہ سے غریب کاشتکاروں کو پانی نہیں ملتا جس کی وجہ سے ان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کھیر تھر کنال پر سیاسی اور بااثر شخصیات کی مداخلت کا خاتمہ ہو تاکہ تمام لوگوں کو منصفانہ طور پر کاشتکاری کےلیے پانی ملے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ مشکلات کے علاوہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں جب کہ اوستہ محمد شہر میں سیوریج کے ناقص نظام کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی خاندان کی موروثی سیاست کی وجہ سے خطیر فنڈز ملنے کے باوجود علاقے کے مسائل حل نہیں ہوئے اس لیے دیگر مطالبات کے ساتھ ساتھ ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ 2013 سے لیکر تاحال اوستہ محمد کو جو بھی فنڈز ملے ہیں ان کے بارے میں نیب تحقیقات کرے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ فنڈز کہاں خرچ ہوئے۔ پروین میر کا کہنا ہے کہ ہم اپنے علاقے کےلیے جو حقوق مانگ رہے ہیں وہ لوگوں کے بنیادی آئینی حقوق ہیں۔ اگر یہ لوگوں کو حقوق نہیں دے سکتے تو ان کو آئین سے نکالا جائے۔ گرلز کالج مانگنا یا یونیورسٹی یا پانی مانگنا کوئی بڑی بات نہیں ہے اور یہ ایسے مسائل بھی نہیں جو حل نہیں کیے جا سکتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو خواب غلفت سے جاگ جانا چاہیے اور ہمیں ہمارے حقوق دیئے جائیں تاکہ کل کوئی اور بیٹی نہیں نکلے اور اس طرح ہڈیاں تڑواتی نہیں پھرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایک بیٹی نکلی ہے اگر آپ گرلز کالج نہیں دیں گے تو کل سو بیٹیاں نکلیں گی اور بعد میں ہزاروں نکلیں گی اور جب اوستہ محمد کی لاکھوں کی آبادی نکلے گی تو پھر کیا ہوگا۔
