صدارتی استثنیٰ کے خاتمے کے بعد ٹرمپ کو کن مقدمات کا سامنا ہوگا؟

امریکی صدر کو دوران صدارت ہر قسم کے مقدمات خواہ وہ فوجداری نوعیت کے ہوں یا دیوانی، استثنیٰ حاصل ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ انتخابات 2020 کے صدارتی انتخابات میں ہارنے کے بعد بہت جلد ایک بار پھر عام شہر ی بن جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے وہ ان کو مقدمات کےاستثنیٰ کےحوالے سے تمام مراعات جو بطور صدر حاصل تھیں، ختم ہو جائیں گے اور ان کے مقدمات دوبارہ کھل سکتے ہیں جن کےلیے انہیں خود ہی وکلا اور استغاثہ سے نمٹنا پڑے گا۔ امریکہ میں وفاق اور نیو یارک کے سابق پراسکیوٹر ڈینیئل الانسو کہتے ہیں کہ صدرات ختم ہونے کے بعد ماحول بدل جائے گا۔ اب ان کے پاس تحقیقات کو روکوانے کی صدارتی طاقت نہیں ہوگی۔
ٹرمپ اور ان کی ریئل اسٹیٹ کمپنی دی ٹرمپ آرگنائزیشن کےلیے سب سے خطرناک چیز یہ ہوگی اگر ان کے خلاف نیو یارک میں وسیع پیمانے پر جرائم کی تحقیقات شروع ہو جائیں۔ ان کے خلاف پہلے سے کئی مقدمات درج ہیں جن میں خاندان کے کسی فرد یا ملازم پر بدعنوانی سے لے کر جنسی ہراسانی کے الزامات لگے ہوئے ہیں۔ ایک قانونی طوفان پیدا ہو رہا ہے۔ ہم یہاں ان سے متعلق چھ اہم قانونی معاملات پر نظر دوڑاتے ہیں۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ ان مقدمات میں بالغوں کےلیے شائع ہونے والے معروف ميگزین پلے بوائے کی ماڈل کیرن میکڈوگل اور پورن اسٹار اسٹورمی ڈینیئل کے ساتھ کسی ’سازش کے تحت خاموشی‘ کے دعوے ہوتے رہے ہیں۔ ان الزامات کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں خواتین کا کہنا تھا کہ ان کے ٹرمپ کے ساتھ جنسی تعلقات تھے اور 2016 کے صدارتی انتخاب سے قبل دونوں کو چُپ رہنے کےلیے پیسے دیے گئے تھے۔ جب دونوں خواتین نے 2018 میں خاموشی توڑی تو یہ ٹرمپ کی صدارت کےلیے سیاسی چیلنج ثابت ہوا اور ان کے خلاف جرائم سے متعلق دو تحقیقات شروع ہوگئیں۔ پہلی تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ آیا کسی وفاقی قانون کی خلاف ورزی ہوئی تھی اور اس دوران ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل مائیکل کوہن کا کیا کردار تھا۔
تحقیقات کے دوران مائیکل کوہن نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے دونوں خواتین کو پیسوں کی ادائیگی کےلیے تیار کیا تھا۔ ان ادائیوں کو انتخابی مہم کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا اور مائیکل کوہن کو 2018 میں تین برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مائیکل کوہن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے رقم ادا کرنے کا ‘حکم’ دیا تھا لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ٹرمپ پر فردِ جُرم عائد کرنے کےلیے استغاثہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ ٹرمپ نے واقعی مائیکل کوہن کو ان رقوم کی ادائیوں کا حکم دیا تھا۔ قانون کے ماہرین کے مطابق اگر ٹرمپ پر فرد جرم عائد کرنے کےلیے کافی شواہد حاصل ہو جائیں تب بھی یہ امریکی حکومتی پالیسی کے خلاف ہے کہ ایک موجودہ صدر پر فرد جرم عائد ہو۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مقدمہ ختم ہو گیا۔ بات اس سے زیادہ پیجیدہ ہے۔ آسان لفظوں میں یہ کہ نیو یارک میں ان ادائیگیوں سے متعلق دوسری تحقیقات جاری ہے۔
مین ہیٹن کے ضلعی اٹارنی سائرس وانس اس کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ کی کمپنی نے ان ادائیوں سے متعلق اپنے کاروباری ریکارڈ میں رد و بدل کی۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ سائرس وانس کے پاس فرد جرم عائد کرنے کےلیے کوئی ثبوت ہے یا نہیں۔ بات اسی پر منحصر ہے۔ کاروباری ریکارڈ میں رد و بدل نیو یارک کے قوانین میں چھوٹا جرم ہے۔ یہ ثابت ہونے پر ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس پر فرد جرم عائد کرنے کےلیے دو سال کی مدت ہوتی ہے اور اب دو سال گزرنے پر استغاثہ کے پاس جرم ثابت کرنے کے امکانات کم ہیں۔ ان مقدمات میں سے اور بھی راستے نکلتے ہیں۔ نیو یارک میں کاروباری ریکارڈ میں رد و بدل اس وقت ایک سنگین جرم میں بدل جاتا ہے جب اسے کسی دوسرے جُرم سے جوڑا جائے، جیسا کہ ٹیکس فراڈ۔ سنگین جرائم کے مقدمات کو لمبے عرصے بعد بھی چلایا جا سکتا ہے اور ان میں مجرم قرار پانے والے کو لمبی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف انتخابی مہم کی فنڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمہ بن سکتا ہے۔ اسی قانون کے تحت صدر ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن کو 2018 میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جہاں سائرس وانس کی تحقیقات سے جڑی دوسری تحقیقات کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔
ٹرمپ آرگنائزیشن کے ایک وکیل نے 2019 میں وانس انکوائری کے حوالے سے کہا تھا کہ اس تحقیق کا مقصد کسی کو سیاسی نقصان پہنچانا مقصود ہے۔ ٹرمپ آرگنائزیش کے وکیل کے اس بیان سے غصہ جھلک رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب وانس نے دستاویزات کی درخواست جسے سپینا کہا جاتا ہے، جاری کی تھی۔
وہ صدر ٹرمپ اور ٹرمپ آرگنائزیشن کا آٹھ سال کا فنانشل ریکارڈ دیکھنا چاہتے تھے۔ صدر ٹرمپ نے دستاویزات کی درخواست کو روک دیا تھا اور اپنے اوپر ٹیکس چوری کے الزامات کو فیک نیوز یا جعلی خبریں کہہ کر رد کر دیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ انہیں ہراساں کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ گزشتہ برس ایک وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور پراسیکیوٹرز کےلیے ان دستاویزات تک رسائی کو قدرے آسان بنا دیا تھا۔ سائرس وانس نے عدالتوں میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ادا کیے گئے ٹیکس کی معلومات کو اپنی تحقیقات کےلیے اہم قرار دیا تھا۔ نیویارک میں ٹیکس فراڈ کی کئی قسمیں سنگین جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور ان پر لمبی قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کو اپنے ٹیکس کے گواشوراوں کے حوالے سے وفاقی جج کے فیصلے کو ختم کرانے کےلیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا جہاں حتمی فیصلے کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ کےلیے اس میں بہت خطرات ہیں۔ جارج واشنٹگن یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں پروفیسر جوناتھن ٹرلی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیکس اور بینک فراڈ کی تحقیقات صدر ٹرمپ کےلیے بہت اہمیت کی حاصل ہیں لیکن کیا صدر ٹرمپ کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ بن سکتا ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں۔ سائرس وانس کےلیے صدر ٹرمپ کے ٹیکس کے گوشواروں تک رسائی ان کی تحقیقات کو آگے بڑھانے کےلیے اہم ہے اور ان ریکارڈز تک رسائی کے بعد معلوم ہو پائے گا کہ صدر ٹرمپ کے خلاف کوئی مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔ ریئل اسٹیٹ کے ممکنہ فراڈ کے حوالے ہم جانتے ہیں کہ نیو یارک کی اٹارنی جنرل لتیتیا جیمز صدر ٹرمپ کےلیے درد سر بنی ہوئی ہیں۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل مارچ 2019 سے یہ تحقیق کر رہی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنے جائیداد کی مالیت کے حوالے سے کوئی غلط بیانی تو نہیں کی؟
اس تحقیق کے تانے بانے بھی صدر ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن کے اس بیان سے جا کر ملتے ہیں جو انہوں نے فروری 2019 میں کانگریس کے سامنے دیا تھا۔ انہوں نے کانگریس کو بتایا تھا کہ صدر ٹرمپ قرضوں کے حصول کےلیے اپنی جائیدادوں کی قیمت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے تھے جب کہ ٹیکس بچانے کی غرض سے حکام کو ان کی مالیت کو کم کرکے بتاتے تھے۔ مائیکل کوہن کی کانگریس کے سامنے گواہی نیویارک اٹارنی جنرل کی طرف سے صدر ٹرمپ کی پراپرٹی کے حوالے سے تحقیقات کا سبب بنی۔
صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے جو ٹرمپ آرگنائزیشن کے نائب صدر ہیں، الزام عائد کیا تھا کہ ان کاروبار کے بارے میں ساری کارروائیاں سیاسی عداوت کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے نیویارک اٹارنی جنرل کی طرف سے دفتر میں حاضر ہو کر اپنا بیان دینے کے حکم کی تعمیل کی تھی۔ سابق وفاقی پراسیکیوٹر الانسو کہتے ہیں اگر مقدمے کا ایک فریق سابق صدر ہو تو بہت سی عدالتیں اس مقدمے پر بہت توجہ دیتی ہیں، لیکن اگر فریق پرائیوٹ شہری ہوں تو عموماً ایسا نہیں ہوتا۔ ایسے سول مقدمات میں اگر فراڈ کے شہادتیں مل جائیں تو عدالتیں جرمانے عائد کرتی ہیں۔ صدر ٹرمپ پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ انہوں نے بطور صدر اپنے آپ کو مالی فوائد پہنچائے ہیں۔ امریکی قوانین کے تحت صدر سمیت کسی بھی وفاقی عہدیدار کو دوسرے ملک سے کسی مالی فائدے کو قبول کرنے سے پہلے کانگریس سے اجازت لینا لازمی ہے۔ تین ایسے مقدمات دائر کیے گئے ہیں جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی اجازت کے بغیر غیر ممالک سے فوائد حاصل کیے۔ اس کی ایک مثال واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل میں غیر ملکی اہلکاروں کو ٹھرانے سے متعلق ہے۔ صدر ٹرمپ نے ان الزامات کو بیہودہ کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ ماضی میں امریکی صدور اپنے دور میں دولت کماتے رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ عدالتیں مالی فوائد کے حوالے سے دائر مقدمات کو ختم کر دیں گی اور ایک معاملے میں تو سپریم کورٹ پہلے ہی ایسا حکم سنا چکی ہے۔ صدر ٹرمپ پر جنسی کجروی کے حوالے سے بہت سے الزامات اور مقدمات ہیں جن میں ان کےلیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ ایسے تمام الزامات کو فیک نیوز کہہ کر رد کرتے ہیں۔جب 2016 میں صدر ٹرمپ صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شریک ہوئے تو بہت سی عورتوں نے آگے بڑھ کر ان پر الزامات عائد کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی الزامات کہہ کر رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ الزام عائد کرنے والی عورتوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے لیکن آج تک انہوں نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ کئی عورتوں نے ان کے خلاف مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔جن عورتوں نے صدر ٹرمپ کے خلاف مقدمات دائر کر رکھے میں ان میں ایک صحافی جین کیرول ہیں جنھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں 1990 میں مین ہٹن ایک اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ریپ کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ الزام یہ کہہ کر مسترد کر دیا :’ کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ ایسی نہیں ہیں جیسی (عورتیں) مجھے پسند ہیں۔’ انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان کو بنیاد بنا کر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ جین کیرول نے اپنے مقدمے میں ہرجانے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف اپنے بیان کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مقدمے نے اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب امریکی محکمہ انصاف بھی اس مقدمے میں کود پڑا اور مقدمے میں ٹرمپ کی جگہ امریکہ کو مدعی بنانے کی کوشش کی۔ ایک وفاقی جج نے امریکی محکمہ انصاف کی اس درخواست کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ اس مقدمے کا امریکہ کے سرکاری کاموں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس سے نکلیں گے تو یہ مقدمہ آگے بڑھے گا اور جین کیرول کے وکلا اس میں شہادتیں اکٹھی کر سکیں گے۔ وہ صدر ٹرمپ کے ڈی این اے کا مطالبہ کر سکتے ہیں تاکہ اسے جین کیرول کے ان کپڑوں سے ملنے والے ڈی این اے سے موازنہ کر سکیں جو انہوں نے اس وقت پہن رکھے تھے جب انہیں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی نوعیت کا ایک اور لیکن علیحدہ مقدمہ سمر زرواس نامی عورت نے بھی دائر کر رکھا ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیلیوژن شو ‘ دی اپرینٹس’ میں بھی شریک ہوئی تھیں۔ مس سمر زرواس کا الزام ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت ان پر جنسی حملہ کیا جب وہ 2007 میں بیورلے ہل ہوٹل میں ان سے ملازمت کے مواقعوں کے حوالے سے ملاقات کر رہی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس الزام کو جھوٹا کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے مس زرواس شہرت حاصل کرنے کےلیے ایسا الزام عائد کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں اس مقدمے کو خارج کروانے کی کوشش کی۔ ان کے وکلا نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے موکل کو استثنیٰ حاصل ہے۔ لیکن یہ دلیل 20 جنوری 2021 کو ناکارہ ہو جائے گی جب وہ صدرِ امریکہ سے ایک عام شہری میں بدل جائیں گے۔ قانونی ماہر باربرا میککواڈ نے بتایا کہ جب صدر کے استثنیٰ کی مدت ختم ہو جائے گی تو شہادتیں اکٹھی کرنے کا مرحلہ شروع ہوگا اور پھر معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ میری ٹرمپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی ہیں اور انہوں نے حال میں ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے اپنے چچا پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کے ایک مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے جس انہوں نے الزام عائد کہ جب ان کے والد کی وفات ہو گئی تو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے بھائیوں نے خاندانی کاروبار میں ان کے حصے کو ہتھیا لیا تھا۔ ان کے مقدمے کی ابتدائی لائن ہی نفرت سے بھرپور ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ فراڈ صرف خاندانی کاروبار ہی نہیں بلکہ ان کا انداز زندگی ہے۔ ان کی کتاب میں صدر ٹرمپ سے نفرت جھلکتی ہے۔ وہ اپنے چچا کو ایسا نرگیست پسند شخص گردانتی ہیں جو دنیا کا سب سے خطرناک آدمی ہے۔ اپنے مقدمے میں وہ لکھتی ہیں کہ جب ان کے والد فریڈ ٹرمپ جونیئر 1981 میں بیالیس برس کی عمر میں وفات پا گئے تو ان کے چچا خاندانی کاروبار میں ان کے مفادات کے محافظ تھے کیوں کہ وہ ابھی سولہ برس کی تھیں۔ لیکن چچا نے اپنے بھائیوں سے ملکر کر جھوٹ اور فراڈ کے ذریعے ان کے مالی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اپنے مقدمے میں پانچ لاکھ امریکی ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب یہ کتاب شائع ہوئی تو وائٹ ہاؤس نے اسے جھوٹ کا پلندہ کہہ کر رد کیا لیکن صدر ٹرمپ نے ابھی تک مقدمے میں اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔
اب اگر دستاویزات کی درخواست آتی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی استثنیٰ کا سہارا نہیں لے سکیں گے۔ کوئی امریکی شہری بشمول صدرِ امریکہ قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button