بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور درآمدات، معیشت کے لیے خطرہ

پاکستان کے ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، بلند درآمدی بل اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑے اقتصادی منظر نامے کے لیے خطرہ ہے۔
ساتھ ہی اعلیٰ نمو میں مدد کے لیے پالیسی ایڈجسٹمنٹ کی خاطر قریبی ہم آہنگی اور نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ (ایم ایف پی سی بی) کا اجلاس وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں ہوا جس میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ عالمی منڈی میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
وزیر خزانہ نے معاشی اہداف کے حصول اور ممکنہ خطرات پر قابو پانے کے لیے پالیسیاں وضع کرنے اور ان پر عمل درآمد کا کہا اور پلان کیے گئے معاشی اہداف کے حصول کے لیے پالیسیوں کے بہتر ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے ایم ایف پی سی بی کو زیادہ مؤثر ہونے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں شریک بورڈ کے دیگر اراکین میں وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان اور ایک نجی رکن ڈاکٹر اسد زمان شامل تھے۔
وزیرخزانہ شوکت ترین نے بورڈ کو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر بریفنگ دی اور کہا کہ حکومت کی جانب وفاقی بجٹ میں دی جانیوالی مراعات اور سہولیات کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں، کاروباری اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے اور معیشت آگے بڑھ رہی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے تمام شعبوں میں اقتصادی اشاریے بہتری کی عکاسی کررہے ہیں، موجودہ مالی سال کے لیے جو اقتصادی اور سماجی اہداف مقرر کیے گیے ہیں حکومت ان کے حصول کے لیے پالیسی اقدامات پر عمل کررہی ہے۔
اجلاس کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیرخزانہ نے معاشی سرگرمیوں کے لیے ممکنہ خدشات و خطرات کی نشاندہی بھی کی اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا جسے بورڈ کے ارکان نے سراہا۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ بین الاقوامی اشیا کی قیمتوں کے ساتھ درآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی توقع ہے۔
سیکریٹری خزانہ نے بورڈ کے ارکان کو بجٹ میں مختلف سرگرمیوں کے لیے مختص رقوم و فنڈز کے علاوہ مالیاتی نظم وضبط برقرار رکھنے اور کس طرح غیر ترقیاتی اخراجات پرقابو پانے اور عام آدمی کو خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جارہی ہے،اس کے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے بورڈ کے ارکان کو زری پالیسی کے بارے بریفنگ دی، ساتھ ہی انہوں نے پالیسی ریٹ، قرضے کی دستیابی، ایکسچینج ریٹ موومنٹ اور افراط زر پر اسٹیٹ بینک کے تجزیہ سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی کے نتیجے میں بڑھوتری کے عمل میں تیزی آئی ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی مارکیٹ میں اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے درآمدی بل اور مہنگائی بڑھی ہے۔
ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ مشینیری کی درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جس سے ملک میں پیداواری گنجائش میں وسعت آئےگی اور برآمدات کے لیے اضافی پیداوار ہوگی۔
بشکریہ: ڈان نیوز
