کینسر پر تحقیق کے روایتی طریقوں کو بدلنے کا وقت آگیا ہے

انگریزی میں حرف C سے زیادہ ڈراؤنا کوئی اور حرف نہیں، کیونکہ ‘C سے کینسر’ جو ہوتا ہے۔ اگرچہ کورونا نے عارضی طور پر یہ جگہ سنبھالی ہوئی ہے لیکن گزشتہ 100 برسوں سے کینسر ہی اس پر قابض رہا ہے۔

بھلے ہی کورونا وبا نے طاقتور ملکوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ معیشت کو مفلوج اور ہمارے سماجی اصولوں کو بُری طرح متاثر کیا ہو لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ وبا بھی ماضی میں آنے والی ببونک طاعون یا اسپینش فلو جیسی وباؤں کی طرح ایک دن تاریخ کے کوڑے دان کے حوالے ہوجائے گی۔

تاہم ڈاکٹر عذرہ رضا اپنی انقلابی تصنیف The First Cell: And the Human Costs of Pursuing Cancer to the Last میں کہتی ہیں کہ، کینسر کے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ ‘C سے کینسر’ کا یہ گہرا تعلق برقرار رہنے والا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں سالانہ ایک کروڑ 80 لاکھ افراد اس موذی مرض کا شکار بنتے ہیں، جن میں سے آدھے موت کی نیند سوجاتے ہیں، اور 1970ء کی دہائی کے بعد سے اس مرض کے علاج معالجے کے طریقوں میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔ ہم تاریخ کے ایک ایسے زمانے میں جینے پر ناز کرتے ہیں جس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے مثال ترقی کی منازل طے کرلی ہیں لیکن پھر بھی آج جسم میں پھیلنے والے کینسر کے لیے ٹھوس طریقہ علاج اور ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

گزشتہ 50 برسوں کے دوران کینسر کا علاج کچھ تبدیلیوں کے ساتھ سرجری، کیموتھراپی اور ریڈی ایشن پر مشتمل ہی رہا ہے، جو ڈاکٹر عذرہ رضا کے بقول، ‘چیر ڈالو، زہر بھردو اور جلا دو’ کے مصداق ہے۔

اگرچہ چند اقسام کے کینسر، خاص طور پر مردوں میں پروسٹیٹ کینسر اور خواتین میں چھاتی کے کینسر، کے علاج کے روایتی طریقوں کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پہلے سے بہتر تشخیصی طریقوں کی مدد سے کینسر کی جلد تشخیص ہے، جبکہ پھیپھڑے کے کینسر کے معاملے میں اس کی وجہ تمباکو نوشی میں کمی ہے اور جہاں تک کینسر کی دیگر اقسام کا تعلق ہے تو ایک بار اگر ٹیومر زدہ خلیے پھیلنے شروع ہوجائیں تو اس عضو سے بھی دُور نکل جاتے ہیں جو ان کا نکتہ آغاز ہوتا ہے، جسم میں شکار کا یہ کھیل جاری رہتا ہے جس میں جیت کینسر کی ہوتی ہے۔

The First Cell میں اس مرض سے متعلق ایک بڑے جھوٹ سے پردہ اٹھایا اور ان حقائق کو سامنے لایا گیا ہے کہ کینسر کی صنعت آپ کو اس بات سے لاعلم رکھنا چاہتی ہے کہ اس میں ملوث بڑی دوا ساز کمپنیاں، ہسپتال، ڈاکٹر اور محققین چوہوں میں کینسر کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں اور باندی بنے ادارے انہیں مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عذرہ رضا کے مطابق اکثر مواقع پر کینسر کے ایڈوانس لیول پر مریضوں کے پاس دو ہی آپشن بچتے ہیں: یا تو مرض سے مرجاؤ یا پھر علاج سے مرجاؤ، دونوں ہی موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود پوری دنیا میں کینسر پر ہونے والی اس روایتی تحقیقی کام پر اربوں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں جو اب تک ایسا کوئی طریقہ علاج نہیں کھوج سکا جو کینسر کے مرض سے ‘شفا’ کی راہ ہموار کرسکے۔

ڈاکٹر عذرہ کے بقول اس وقت جاری 95 فیصد تجرباتی طبّی آزمائشیں (کلینکل ٹرائلز) برائے نام اہمیت رکھتی ہیں اور امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظوری پانے سے قاصر ہیں۔ جو 5 فیصد کامیاب رہی ہیں وہ بہت تکلیف دہ اور مہنگی ثابت رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ چند ایک مریضوں کی زندگی میں کچھ مہینوں کا اضافہ ہی کرپائیں۔

ڈاکٹر عذرہ رضا 1984ء سے علم سرطان کے میدان میں کام کر رہی ہیں اور وہ اپنے کینسر کے مریضوں کے 60 ہزار ٹشوز کے نمونوں کا ایک بڑا ہی منفرد اور انمول ذخیرہ رکھتی ہیں۔ زیادہ تر نمونے انہوں نے خود ہی نکالے ہیں اور ان میں سے ایک بھی خلیہ کسی دوسرے ماہر علم سرطان سے نہیں لیا گیا۔ کینسر کی وجوہات، اس کے علاج اور اس سے نجات کے طریقوں کی تلاش میں جس طرح کوتاہی برتی جا رہی ہے اسے دیکھ کر وہ کافی حیران پریشان ہیں، کیونکہ اس تلاش کا محور صرف آخری خلیے کو ڈھونڈنا اور اس کا خاتمہ بنا ہوا ہے۔ ٹھیک جس طرح ایک کتا اپنی ہی دُم کے پیچھے گول گول گھومتا رہتا ہے۔

کینسر کو مات دینے کا یہ ماڈل، چاہے ریسرچ لیبارٹری یا پھر آپریشن تھیٹر میں استعمال ہوتا ہو، انسانی جسم میں 30 کھرب خلیوں میں سے آخری خلیے کی لاحاصل تلاش پر مشتمل ہے۔ جب مریض کی موت ہوجاتی ہے تو تلاش بھی تمام ہوتی ہے۔

انسانی جسم کا پیچیدہ نظام متاثرہ خلیوں اور ان کی حرکات کو چھپانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ہم انسانی خلیوں کو چھپن چھپائی کے اس کھیل میں زیر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ جب تک جسم کے کسی حصے میں کینسر زدہ خلیے کی موجودگی کا پتا چلتا ہے تب تک اکثر اوقات وہ جسم کے دیگر حصوں تک سفر کرچکا ہوتا ہے۔ تلاش اور علاج پھر سے شروع ہوتا ہے اور ایک بار پھر دردناک موت کے گرداب پر آکر ختم ہوجاتا ہے، جس کسی شخص نے اسے ایک غیر معمولی سفر کہا ہے اس کا سامنا اس ہم سفر کے حیوان سے نہیں ہوا۔

ڈاکٹر عذرہ رضا ’اسٹیٹس کو‘ کو چیلنج کرتی ہیں۔ وہ ذاتی مفادات کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں۔ کینسر کے بڑھتے کیسوں میں کمی لانے یا کینسر سے نجات کے امکانات کو بڑھانے سے متعلق ان کی تجویز یہ ہے کہ ‘پہلے خلیے’ تک پہنچا جائے: یعنی جو خلیہ سب سے پہلے متاثر ہو اس کا پتا یا اس کے امکانات کا اندازہ لگایا جائے اور پھر اس سے نمٹا جائے۔ وہ مرض سے شفایابی سے زیادہ احتیاطی طریقہ عمل پر زیادہ توجہ دینے کی تجویز دیتی ہیں، کیونکہ اس میں کامیابی کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں اور انسانی جسم و روح کو کم نقصان پہنچتا ہے۔ مالی اعتبار سے ان پر کم خرچہ ہوتا ہے اور مریض کو کم تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔

ڈاکٹر عذرہ رضا ڈاؤ میڈیکل کالج (جو اب ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز بن چکا ہے) کراچی کی سند یافتہ طالبہ، سائنسدان، علم سرطان کی ماہر، باصلاحیت اور کامیاب بیٹی کی ماں اور مایہ ناز و اس مشہور علم سرطان کے ماہر کی بیوہ ہیں، جو اسی موذی مرض کے ہاتھوں مارے گئے جس کا علاج ڈھونڈنے میں وہ مصروف تھے۔ اور اب ڈاکٹر عذرہ رضا نے یہ ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔
بشکریہ: ڈان نیوز

Back to top button