بڑے ناموں کے باوجود لکس سٹائل ایوارڈ بے رنگ کیوں رہا؟

لکس سٹائل ایوارڈ کی رواں برس ہونے والی تقریب گزشتہ سال کی نسبت تو بہتر قرار دی جا رہی ہے جب ملک کرونا کی لپیٹ تھا، لیکن رواں تقریب میں بڑے ناموں کی شمولیت کے باوجود لکس سٹائل ایوارڈ بھرپور رنگ نہ بکھیر سکا۔جمعے کی شب کراچی میں منعقد ہونے والے لکس سٹائل ایوارڈز کی تقریب کئی حوالوں سے یادگار اور دیدہ زیب تھی، جس میں ایوارڈز کے علاوہ مایا علی، علی ظفر اور صبا قمر کے ساتھ مامیا شاہ جعفر کے بہترین رقص نے حاضرین کو محظوظ کیا۔ابتدا ہی میں شائے گِل اور فیصل کپاڈیا نے جنید جمشید مرحوم کا گانا ’اس راہ پر‘ ری مکس کرکے پیش کیا۔ فیصل کپاڈیا نے کچھ حق ادا کیا، صبا قمر اور فہد مصطفیٰ نے میزبانی کے فرائض سنبھالے مگر سکرپٹ بہت کمزور رہا، بعد ازاں احمد علی بٹ اور دُرِفشاں سلیم نے بھی میزبانی کی، تقریب کا سب سے بہترین رقص مایا علی نے پیش کیا۔اس شب کی دوسری بڑی پرفارمنس علی ظفر اور مامیا شاہ جعفر کی تھی، جو ہر لحاظ سے بہترین تھی، تقریب کی جھلکیوں میں میرا سیٹھی کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی، میرا سیٹھی نے شو کا واحد مزاحیہ خاکہ کیا۔ پہلے فہد مصطفیٰ اور پھر احمد علی بٹ سے ان کی دلچسپ جملے بازی اور نوک جھونک ہوئی، کیفی خلیل نے ’کہانی سنو‘ اور ’کنا یاری‘ بھی پیش کیا، فلم کے شعبے میں دو ناقدین اور چار عوامی ووٹ کے ایوارڈز تھے، ناقدین کی جانب سے بہترین فلم اور بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ سرمد کھوسٹ اور ان کی فلم ’کملی‘ کو ملا، اس کے بعد بہترین فلمی نغمہ ’پیلا رنگ‘ قرار پایا۔ بہترین اداکارہ فلم ’کملی‘ کے لیے صبا قمر تھیں اور بہترین فلم کا ایوارڈ ’قائدِ اعظم زندہ باد‘ کو ملا جو فضہ علی مرزا اور نبیل قریشی نے ایک ساتھ وصول کیا۔پھر جب پونے چار گھنٹوں سے جاری تقریب اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی، بس آخری کیٹیگری یعنی بہترین فلمی اداکار کے نام کا اعلان ہونا تھا، فہد مصطفیٰ، ہمایوں سعید، فرحان سعید، عمران اشرف اور فیروز خان کے ناموں کی نامزدگی کا اعلان ہوا۔اس موقعے پر ہال فہد مصطفیٰ کے نام کے نعروں سے گونج رہا تھا، آصف رضا میر نے جیتنے والے کا نام لینے سے پہلا ایک ہلکا سا وقفہ لیا، ایک خاموشی سی شائقین پر طاری ہوئی، فہد مصطفیٰ اپنی نشست سے آدھے اٹھ چکے تھے کہ میزبان نے کہا: ’فیروز خان فار ٹچ بٹن۔’ٹچ بٹن‘ میں فیروز خان کی نامزدگی پر ہی سوال اٹھے تھے کہ یہ مرکزی کردار تھا یا نہیں، لیکن ایوارڈ ملنا بالکل سمجھ سے باہر ہے، تقریب میں دیے گئے دیگر ایوارڈز کی بات کی جائے تو ٹی وی ڈراموں کی کیٹیگری میں سب سے زیادہ ایوارڈز تھے، یہاں پر میدان اس سال بھی یمنیٰ زیدی نے مار لیا، جنہوں نے ڈرامہ ’بخت آور‘ کے لیے ناقدین اور عوام دونوں کیٹگیری میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ یمنیٰ مسلسل تین سالوں سے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ جیتتی آرہی ہیں، ڈرامے کے دیگر شعبوں میں ناقدین کی رائے میں بہترین مصنف اور بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ ’سنگِ ماہ‘ قرار پایا، جو بالترتیب مصطفیٰ آفریدی اور سیفی حسن کو ملا۔بہت سے نامور اداکاروں سے مزین ڈرامے ’صنف آہن‘ نے بہترین ڈرامے کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا جبکہ بہترین ابھرتی ہوئی فنکارہ کا اعزاز دنانیر مبین کے نام رہا، اسی سلسلے میں بہترین ڈرامہ، ’کیسی تیری خود غرضی‘، بہترین طویل دورانیے کا سیریل، ’بیٹیاں‘ قرار پائے جبکہ ٹی وی کے مقبول اداکار کا ایوارڈ ارسلان نصیر کے نام رہا۔فیشن کے شعبے کی بات کی جائے تو اس بار کچھ دلچسپ کام ضرور ہوئے۔ ان ایوارڈز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون علینہ نقوی کو سال کی بہترین فوٹوگرافر کا ایوارڈ ملا، 2023 میں منعقد ہونے والے لکس سٹائل ایوارڈز کچھ تلخ اور بہت سے شیریں یادیں چھوڑ گئے۔ پاکستان میں ویسے بھی اِکّا دُکّا ایوارڈ شو ہوتے ہیں، ایسے میں لکس اسٹائل ایوارڈز بہرحال ایک غنیمت ہیں۔
