بھارتی شہری باجکو گروپ میں اہم پوزیشنز پر فائز نکلے


چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے بیرون ملک اربوں کے اثاثوں کی خبر بریک کرنے والے پاکستانی صحافی احمد نورانی نے اب یہ ہوشربا انکشاف کیا ہے کہ باجوہ خاندان کے ملکیتی باجکو گروپ کے امریکہ، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں کمپنی آپریشنز چلانے والے اہم عہدیدار دراصل بھارتی ہیں۔ سیینئر صحافی عمار مسعود کو دئیے گے ایک خصوصی انٹرویو میں احمد نورانی نے دعویٰ کیا کہ باجکو گروپ کے نہ صرف امریکہ میں بزنس کو بھارتی شہری چلا رہے ہیں بلکہ یورپ اور یو اے ای میں بھی باجکو گروپ کا بزنس انڈین لابی کے ہاتھوں میں ہے اور تاحال وہی اس کے آپریشنز کو چلا رہے ہیں۔ نورانی نے مزید کہا کہ میں بغیر ثبوت کے کوئی دعویٰ نہیں کر رہا۔ میرے پاس باجکو گروپ میں انڈین لابی کے کردار کے حوالے سے ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں جن کو میں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ باجکو گروپ میں اہم عہدوں پر بھارتی نثاد افراد کی تعیناتی کے ثبوت باجکو گروپ کی ویب سائیٹس پر بھی موجود تھے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ایسی تمام معلومات وہاں سے حذف کر دی گئی ہیں لیکن دنیا بھر میں ویب سائیٹس میں کی جانے والی تبدیلیوں کو مانیٹر کرنے والے ادارے "آرکائیو ڈاٹ او آر جی” پر اس حوالے سے معلومات اب بھی دستیاب ہیں جن کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آرکائیو ڈاٹ او آر جی سے حاصل کردہ معلومات کو دنیا کے بہت سارے ممالک میں بطور ثبوت تسلیم کیا جاتا ہے اس لئے باجکو گروپ میں انڈینز کے کردار کے بارے میں اس ویب سائیٹ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔
احمد نورانی نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور میں اس حوالے سے جو بھی دعویٰ کر رہا ہوں اس کے تمام تر ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔ میں ایک کریڈیبل صحافی ہوں اور ہوائی باتیں کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ ثبوت میرے پاس موجود ہیں اور کوئی بھی پاکستانی مجھ سے ان کی تصدیق کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باجکو گروپ میں بھارتیوں کی اہم عہدوں پر تعیناتی اور کردار کے حوالے سے مجھے شروع دن سے علم تھا اور اس کے ثبوت بھی میرے کے پاس موجود تھے۔ تاہم میں ذاتی طور پر کسی بھی شخصیت یا ادارے کو غیر متعلقہ افراد یا اداروں سے جوڑنا صحافت کی توہین سمجھتا ہوں اس لیے میں نے باجکو گروپ کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کرتے وقت اس حوالے سے کوئی بات نہیں لکھی تھی۔ لیکن جب عاصم سلیم باجوہ کے بیٹے محمد سلیم باجوہ کی طرف سے سوشل میڈیا پر مجھے را کا ایجنٹ ثابت کرنے کی مہم چلائی گئی تو میں یہ باتیں سامنے لانے پر مجبور ہو گیا۔
احمد نورانی نے کہا کہ اگر میرا مقصد کسی کو بدنام کرنا ہوتا تو میں باجکو گروپ میں بھارتیوں کے کردار کو اپنی رپورٹ کا لازمی حصہ بناتا لیکن میں نے ثبوت ہونے کے باوجود ایسا نہ کر کے اپنی غیر جانبداریت کو برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر انکے خلاف گھٹیا مہم چلا کر انہیں گندا کرنے کی کوشش کی گئی اور ایک اسٹیبلشمنٹ نواز ٹی وی چینل نے عوام کو میرے خاندان اور میرے گھروالوں پر حملہ کرنے پر بھی اکسایا جس کی کسی نے مذمت تک نہیں کی۔ نورانی نے کہا کہ میرے خلاف چلائی گئی کمپین میں کئی صحافی بھی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری دکھا کر صحافت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوئے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے خاندان کی عزت وقار اور تحفط پر کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا اور ایسے افراد کو منہ توڑ جواب دوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button