بھارتی فلم کارگل گرل نے انڈین ائیر فورس کو بے نقاب کر دیا


انڈین فضائیہ میں فلائٹ لیفٹیننٹ گنجن سکسینا پر بنائی جانے والی فلم ’گنجن سکسینا، دی کارگل گرل‘ تمام تر اعتراضات کے باوجود 12 اگست کو نیٹ فلکس پر ریلیز کردی گئی جس نے بھارتی فضائیہ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو بری طرح سے بے نقاب کر دیا ہے۔
نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی دھرما پروڈکشن کی اس فلم پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ فلم میں جس انداز سے انڈین فضائیہ اور خاص طور پر اس کے مرد آفیسرز کے متعصبانہ رویے کی تصویرکشی کی گئی ہے اس پر بھارتی ایئر فورس میں بھی ناراضی پائی جارہی ہے۔اس فلم میں گنجن سکسینا کا کردار سری دیوی کی بیٹی جاہنوی کپورنے ادا کیا ہے اور انڈین فضائیہ نے خود فلم کے کچھ مناظر پر سخت اعتراض اٹھائے ہیں۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی پائلٹ بننے کی ٹھان کر ایئر فورس میں پہنچتی ہے اور پھر کس طرح اسے قدم قدم پر اپنے ساتھی مرد آفیسرز کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑتا ہے۔
انڈین فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فلم میں انڈین فضائیہ میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کی غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم فلم بنانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک خاتون بھارتی ایئر فورس آفیسر فلائٹ لیفٹیننٹ گنجن سکسینا پر بنائی جانے والی اس کی سچی زندگی کی کہانی ہے کیونکہ اس خاتون آفیسر نے پاک بھارت کارگل جنگ کے دوران اپنی بہترین پرفارمنس کی بنیاد پر نام بنایا تھا۔ دراصل بھارتی فضائیہ نے ریلیز سے پہلے دی کارگل گرل فلم کے کچھ مناظر پراعتراض ظاہر کیا تھا اور سینسر بورڈ میں شکایت بھی درج کروائی تھی تاہم فلم میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ فلم میں جاہنوی یعنی گنجن کو ایئر فورس کی ٹریننگ کے دوران ٹوائلٹ اور چینجِنگ روم نہ ہونے جیسی پریشانیوں سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
فلم کی ریلیز سے کچھ ہفتے قبل جب بی بی سی نے اصل خاتون آفیسر گنجن سکسینا سے اس بارے میں پوچھا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ جب وہ فضائیہ میں شامل ہوئی تھیں تو اس وقت بہت کم خواتین پائلٹس ہوا کرتی تھیں اور جب وہ اودھم پور بیس گئیں تو وہاں وہ اور ان کی ایک بیچ میٹ پہلی خاتون پائلٹ تھیں اس لیے وہاں عورتوں کے لیے سہولیات نہیں تھیں اور ہمیں بڑے مشکل حالات میں مردوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا پڑا۔
بھارتی فضایئہ کی جانب سے فلم سینسر بورڈ میں شکایت کے باوجود بھی دی کارگل گرل کے مناظر تبدیل نہیں کیے گئے کیونکہ یہ فلم او ٹی ٹی یعنی ‘اوور دی ٹاپ میڈیا سروس’ پر ریلیز ہوئی ہے جس پر سینسر بورڈ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کسی بھی حقیقی کہانی پر بننے والی فلم میں حقیقت کے ساتھ ساتھ تخیل یا تصور کو کتنا شامل کیا جانا چاہیے اور کیا اس کا کوئی پیمانہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کے کسی بھی غیر روایتی شعبے میں خواتین کی نئی نئی شمولیت ان کے لیے دشواریوں سے بھرپور ہوتی ہے اور ایسے میں کچھ لوگوں کی جانب سے فطری یا غیرارادی تعصب کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ تاہم مجموعی طور پر یہ ایک اچھی فلم ہے جس میں سری دیوی کی بیٹی نے نہایت شاندار پرفارمنس دکھائی ہے.یہ فلم ان خواتین کے لئے بھی ایک انسپائریشن ہے جو ہمارے جیسے کنزرویٹو معاشروں میں زندگی کے مختلف شعبوں میں عملی طور پر آگے آ کر کام کرنا چاہتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button